Skip to content
قرآن پاک کی بے حرمتی کے مرتکب کے قتل میں گرفتار شدہ پانچ افراد کی رہائی کا فیصلہ
اسٹاک ہوم ،یکم فروری (ایجنسیز)
سویڈن کے پراسیکیوٹر نے جمعہ کے روز اس امر کی اطلاع دی ہے کہ ان پانچ افراد کو رہا کیا جا رہا ہے جنہیں ایک اسلام مخالف مہم چلانے والے شخص کے قتل کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ قتل کا یہ واقعہ بدھ کے روز ہوا تھا۔38 سالہ عراقی پناہ گزین الوان مومیکا نے قرآن پاک کو عوامی مقامات پر کئی بار نذر آتش کیا تھا۔ وہ اسٹاک ہوم کے نزدیکی قصبے میں گھر کے اندر مرا ہوا پایا گیا۔ سویڈن کے وزیر اعظم نے اس کی ہلاکت پر جمعرات کے روز کہا تھا کہ ممکن ہے اس کی ہلاکت کسی غیر ملکی طاقت سے جڑی ہوئی ہو۔
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ان پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں ایک پراسیکیوٹر کے مطابق اب رہا کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی یہ پانچوں زیر تفتیش رہیں گے۔مومیکا جس نے عوام کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کیا تھا اور سوشل میڈیا پر اس واقعے کو دکھایا تھا عدالت میں مقدمہ بھگت رہا تھا۔ کہ اس مقدمے کے فیصلے سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔ مقدمے کا فیصلہ اس کی ہلاکت کے وقت سے محض چند گھنٹے بعد ہونا طے تھا۔
واضح رہے سویڈن نے 2023 میں دہشت گردی کے خطرے سے الارم کیا تھا۔ یہ انتباہ دوسرا بڑا انتباہ تھا اور قرآن پاک کے جلائے جانے کے خلاف رد عمل کے طور پر متوقع تھا۔ کہا گیا تھا کہ مومیکا کی قرآن سوزی کی اشتعال انگیزی سے مسلمانوں میں سخت غصہ تھا۔ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے 2023 میں خبردار کیا تھا کہ جو لوگ بھی قرآن پاک کو جلانے کے اشتعال انگیز جرم میں ملوث ہیں انہیں اس کے بدلہ میں ضرور سزا بھگتنا ہو گی۔
Like this:
Like Loading...