Skip to content
ایمان کی تجدید: رسمی عقیدے سے عملی اطاعت تک
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جس میں ہر انسان مختلف مرحلوں سے گزرتا ہے۔ ان مراحل میں سب سے اہم لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنی کمزوریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے، اور اسی وقت ایمان کی حقیقت اور اس کی طاقت کا پتا چلتا ہے۔ ایمان صرف عقیدہ نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جس کی بنیاد انسان کے ہر عمل اور سوچ پر استوار ہوتی ہے۔ جب انسان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتا ہے، تب ہی اس کا حقیقی ایمان آزمایا جاتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں دنیاوی مسائل اور انفرادی مشکلات نے انسان کی قوتِ ایمانی کو کمزور کرنے کی کوششیں کی ہیں، وہاں ہمیں ایمان کی تجدید اور اس کی روح کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ تجدیدِ ایمان صرف ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ ایک شعوری قدم ہے جس سے ہم اپنے آپ کو اللّٰہ کی رضا کے راستے پر استوار کرتے ہیں۔
زندگی میں پیش آنے والی مشکلات دراصل سیکھنے کے مواقع ہوتے ہیں، جو ہمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتے ہیں۔ ہم عام طور پر امتحان کو ایک محدود دائرے میں دیکھتے ہیں، حالانکہ روزمرّہ کی زندگی میں ہمیں کئی بار آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کی غلطی پر غصّے کو قابو میں رکھنا، درگزر کرنا، زندگی سے شکوے شکایت کے بجائے صبر اور شکر کی روش اپنانا، حسد اور بہتان سے بچنا۔ یہ سب وہ چیلنجز ہیں جن سے ہم ہر روز گزرتے ہیں۔
سال 2024ء میرے جیسے کمزور بندے کے لئے ایک کڑی آزمائش میں گزرا۔ یہ ایک سخت اور کٹھن تجربہ تھا، جس نے زندگی کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے پر مجبور کر دیا۔ یہ محض اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ میرے ایمان اور یقین میں لغزش نہ آئی۔ مشکل حالات، منفی خیالات اور وسوسے بارہا حوصلہ توڑنے کی کوشش کرتے رہے، اور ایسے میں جب اخلاقی سہارا بھی محدود ہو جائے، صرف خاندان اور چند مخلص دوست ہی ساتھ رہ جاتے ہیں۔ حساس طبیعت رکھنے والے افراد پر منفی قوتوں کے حملے زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ ایک طرف جسمانی بیماری، تو دوسری طرف شیطانی وسوسے ہر طرف سے حملہ آور ہوتے ہیں، یہاں تک کہ انسان مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو کر خودکشی جیسے انتہائی قبیح و ناپسندیدہ اقدام کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔
ابلیس کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ انسان کو ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دے۔ ایسے میں صرف دو ہی راستے باقی بچتے ہیں، یا تو انسان اپنے ربّ کے حضور سر تسلیم خم کر دے، یا ابلیس کے دھوکے میں آ کر ہار مان لے۔ زندگی ایسے وقت میں ایک نازک کشتی کی مانند محسوس ہوتی ہے، جس کے تختے اکھڑ چکے ہوں اور جو کسی بھی لمحے بکھر سکتی ہو۔ ان طوفانی لہروں میں صرف اللّٰہ پر کامل بھروسہ اور یقین ہی بچا سکتا ہے، جسے ابلیس ہر ممکن طریقے سے کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انسان خود کو مکمل طور پر اپنے خالق کے حوالے کر دے، کیونکہ حقیقی نجات اور سکون اسی میں ہے۔
انسانی کمزوریاں ہمیشہ آسان راستے کی طرف مائل کرتی ہیں، جو بظاہر سہل لیکن درحقیقت تباہی کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے، جب کہ حقیقی نجات کا راستہ اکثر مشکل اور کٹھن دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کتنی باقی ہے، یہ تو معلوم نہیں، لیکن جب حق اور باطل کا فرق واضح ہو جائے، تو پھر دشوار راستہ اختیار کرنے میں زیادہ تردد نہیں رہتا۔ خود کو قائل کریں کہ آپ یہ کر سکتے ہیں، اور جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے، جب خود کو اللّٰہ کے سپرد کر دیا تو اس کا فیصلہ بھی اسی پر چھوڑ دینا چاہیے۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کہنا جتنا آسان ہے، عملی طور پر اس پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل ہے، کیونکہ انسان دو متضاد قوتوں کے درمیان کھنچ رہا ہوتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ایک طرف اللّٰہ کا فضل اور روحانی طاقت ہے، جو روشنی کی طرف لے جاتی ہے، جب کہ دوسری جانب شیطانی قوتیں ہیں، جو ہلاکت کی راہ پر ڈالتی ہیں۔ انسان اپنی ذات میں بے حد کمزور اور محتاج ہے، اور خیر و شر کی یہ جنگ روزِ ازل سے بنی آدم کے مقدر کا حصّہ چلی آ رہی ہے۔
زندگی کے ہر موڑ پر، چاہے دنیاوی معاملات ہوں یا آخرت کے فیصلے، انسان کو خیر اور شر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا ربّ، جو ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے، ہماری کمزوریوں اور محدود صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے۔ اسی لیے اس نے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے تاکہ اگر ہم بھٹک بھی جائیں، تو احساس ہوتے ہی پلٹ سکیں۔ انسان چند دن کی بیماری میں ہی کمزور پڑنے لگتا ہے، اور اگر یہ آزمائش مہینوں پر محیط ہو جائے تو ہر لمحہ ایک امتحان بن جاتا ہے۔ بظاہر بیماری جسمانی تکلیف ہوتی ہے، لیکن اس سے زیادہ بڑا چیلنج یقین اور ایمان کی حفاظت ہوتا ہے۔ جب انسان محدود ہو کر تنہائی میں چلا جاتا ہے تو وہ شر کی طاقتوں کا آسان ہدف بن سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اللّٰہ کی رحمت ہی انسان کو تھامے رکھتی ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام، جو اللّٰہ کے برگزیدہ نبی تھے، اٹھارہ برس تک شدید تکلیف میں مبتلا رہے، لیکن انہوں نے اپنے صبر کو اللّٰہ کی عطا سمجھا اور ہمیشہ اسی کی جانب رجوع کیا۔ ان کے صبر کو اللّٰہ نے مثال بنا کر پیش کیا، جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزمائشیں آئیں تو ثابت قدمی اور اللّٰہ سے مدد مانگنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر اللّٰہ نے اپنے نبی کو آزمایا اور انہوں نے صبر کے ساتھ اس کا سامنا کیا، تو ہم کس گنتی میں ہیں کہ شکوہ کریں؟ خطرہ صرف یہی ہے کہ کہیں زندگی کا آخری لمحہ ایسی حالت میں نہ آجائے جب منفی طاقتیں غالب ہوں۔ اس لیے دعا یہی رہتی ہے کہ جب بھی ہمارا وقت آئے، ہم راہِ راست پر ہوں۔ کیونکہ اللّٰہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں، اور وہ جب چاہے، اپنی رحمت سے ہمیں تھام لے۔
آج کے دور میں ہمیں اپنے ایمان کو تازہ کرنے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو گہرائی سے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ محض پیدائشی مسلمان ہونا کافی نہیں، بلکہ ہمیں شعوری طور پر ازسرِنو ایمان کو اختیار کرنا ہوگا۔ یہ ازسرنو کلمہ پڑھنے کی بات دراصل اس احساس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے شاید دین کو رسمی طور پر قبول کیا ہے لیکن عملی زندگی میں اس کی روح کمزور پڑ گئی ہے۔ اسلام محض ایک عقیدہ نہیں، بلکہ مکمل طرزِ زندگی ہے جو ہمارے ہر عمل، رویے اور فیصلے میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں قرآن و سنّت کا مطالعہ کر کے، اپنی سوچ اور اعمال کو ان کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا ایمان محض زبانی دعوے تک محدود نہ رہے، بلکہ ہماری زندگی کا حقیقی محور بن جائے۔
تجدیدِ ایمان ہماری انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب ہم اسلام کی حقیقی روح کو سمجھ کر اسے اپنی زندگی میں راسخ کریں گے، تبھی ہم نہ صرف اپنی ذات کو سنوار سکیں گے بلکہ اپنی قوم اور پوری اُمت کو درپیش چیلنجز کا ثابت قدمی اور حکمت کے ساتھ سامنا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ یہی شعوری بیداری ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ پر گامزن کرے گی۔
ایمان کی تجدید ایک مسلسل عمل ہے جو انسان کے اندر تبدیلی کی دعوت دیتی ہے۔ یہ تجدید صرف ایک ذاتی عمل نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اس کا اثر مرتب ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کا جزو بناتے ہیں، تو نہ صرف ہمارے اندر روحانیت کا پہلو اجاگر ہوتا ہے بلکہ ہم اپنے معاشرتی کردار کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ ایمان کی حقیقی طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اللّٰہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔ آج کے اس فانی دور میں جہاں مادیت اور لذتوں نے انسان کے قلب و دماغ کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے، وہاں ایمان کی تجدید ایک ضرورت بن چکی ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو صاف کرنا ہوگا اور اپنی نیتوں کو درست کرنا ہوگا تاکہ ہم اللّٰہ کے قریب جا سکیں۔ ایمان کی روحانیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر حال میں اللّٰہ کی رضا اور اس کی ہدایات کو اپنے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنائیں۔
ہمیں اس بات کا بھی احساس کرنا ہوگا کہ ایمان صرف عقیدہ نہیں، بلکہ ایک عملی طرزِ زندگی ہے جو ہر لمحہ ہمارے اعمال میں دکھائی دینا چاہیے۔ جب ہم اپنی زندگی کو ایمان کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں گے، تو نہ صرف ہم اپنی روحانی زندگی کو بہتر بنائیں گے، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت تبدیلی لائیں گے۔ اسلام کا پیغام دنیا کے لیے ایک رہنمائی ہے، اور اس پیغام کو اپنی زندگی میں لاگو کرنا ہی ایمان کی حقیقی تجدید ہے۔ آخری بات یہ کہ ایمان کی تجدید ہمیں اپنی روحانی اور دنیاوی زندگی میں سکون، خوشی اور کامیابی کی طرف لے جائے گی۔ ہمیں اس سفر پر توکل اور صبر کے ساتھ گامزن رہنا ہوگا، کیونکہ اللّٰہ کی مدد اور رحمت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب تک ہم اپنے دلوں کو صاف رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں، کوئی بھی آزمائش ہمیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ اللّٰہ کی رضا اور اُس کی ہدایات پر عمل کرنے سے ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...