Skip to content
سیتا رمن کا ساتواں بجٹ :ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے پیش کردہ یونین بجٹ 26-2025 کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مودی ۳ کو بالآخر اپنے سب سے وفادار متوسط طبقہ کا خیال آہی گیا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کوشہری علاقوں کے انہیں باشندوں نے سر پر اٹھاکر اقتدار بیٹھایا مگر بی جے پی نے پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ اسی کو نظر انداز کیا ۔ پہلے تو وہ اڈانی اور امبانی جیسے امیر کبیر لوگوں کی ناز برداری میں لگی رہی اور پھر ٹھوکر لگی تو غریبوں میں ریوڑی بانٹنے میں مصروف ہوگئی۔ پچھلے انتخاب میں جب مودی کو بڑی ٹھوکر لگی اور اسے کسی طرح مرتے پڑتے بیساکھیوں کی مدد سے اقتدار میں آنا پڑا تو اس کو اپنے روایتی رائے دہندگان کی فکر ہوئی اور یہی وجہ ہے حالیہ بجٹ میں بظاہر اسے خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
عوام کے اندر یہ بھرم پھیلانے کی خاطر کے یہ متوسط طبقے کو پیش نظر رکھ کر بنایا جانے والا بجٹ ہے اس بات کو خوب اچھالا گیا کہ اب 12 لاکھ تک کی سالانہ آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ ملازمت پیشہ لوگوں کے لیے یہ حد 12.75 لاکھ ہےکیونکہ وہ لوگ 75 ہزار کے اسٹینڈرڈ ڈِڈکشن سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ یہ تو خیر نہایت خوشنما دکھائی دینے والے ہا تھی کے دانت ہیں مگر یہ راحت صرف نیو ٹیکس رجیم کے تحت دی گئی ہے۔ پرانے ٹیکس رجیم کا انتخاب کرنے والوں کے لیے کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی گئی ۔ نئے ٹیکس رجیم کے تحت بھی اگر کسی کی سالانہ آمدنی 12.80 لاکھ سے ایک روپے بھی بڑھ جائے تو اسے سلیب کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یعنی وہی پرانا حساب کتاب جس میں 4 سے 8 لاکھ کے درمیان 5 فیصد ٹیکس تھا اور 8 سے 12 لاکھ کے درمیان 10 فیصد ٹیکس ادا ئیگی لازم ہوگی۔ یہ اصل میں کھانے دانت ہیں جو باہر سے دکھائی نہیں دیتے ۔
قومی معیشت کا اصل کباڑہ تو بلواسطہ ٹیکسوں نے کر رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹیکس میں چھوٹ کے باوجود سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ٹیکس کی کل جمع رقم میں اضافہ کا امکان ہے۔ ایسا چمتکار اسی وقت ممکن ہے جب آپ عوام کو احساس دلائے بغیر اس جیب کاٹ لی جائے ۔ موجودہ سرکار کی مسلط شدہ جابرانہ جی ایس ٹی کو بجا طور پر گبرّ سنگھ ٹیکس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کنپٹی پر پستول رکھ کر ہر خاص و عام کو لوٹ لیتا ہے۔ اقتصادیات کے حوالے سے ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بیروزگاری ہیں لیکن ان دونوں مسائل پر کیسے قابو پایا جائے گا اس بابت یہ بجٹ خاموش ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اورایوان زیریں کے رکن ششی تھرور نے اس بجٹ میں 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کوسر اہنے کے بعد کہا کہ متوسط طبقہ کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اچھی بات ہو سکتی ہے،لیکن اگرکوئی بیروزگار ہے تو وہ کیا کرے؟ جس کے پاس نوکری ہے، تنخواہ آتی ہے اس کا تو یقیناً فائدہ ہوگا مگر جن لوگوں کے پاس نوکری نہیں ان کے لیے بجٹ میں کیا ہے؟
نرملا سیتارمن نے برسرِ روزگار 12 لاکھ تک تنخواہ پانے والوں کو تو خوش کیا لیکن بے روزگاروں کے لیے بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ وزیر مالیات کے منھ سے ایک بار بھی بے روزگاری اور مہنگائی شرح جیسےا لفاظ کسی نے نہیں سنے۔ کسانوں ایم ایس پی دینے کا بھی کوئی اشارہ بجٹ میں نہیں ہے۔ تھرور نے تو اسے بہار کے انتخاب کو سامنے رکھ کر سیاسی مفاد کی خاطر وضع کردہ مشق قرار دے دیا۔ ویسے مودی سرکار کا اوڑھنا بچھونا ہی اقتدار کا حصول ہوتا ہے اس لیے اس سے کوئی اور توقع رکھنا ہی غلط ہے۔کانگریس کے ہی ایک اور رہنما جے رام رمیش نےبھی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے بلا لاگ لپیٹ یہ دعویٰ کیا کہ اس بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بجٹ سے کوئی بڑا تبدیلی یا راحت کی توقع کرنا خام خیالی ہے۔ رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت صرف اعداد و شمار کا کھیل کرکے عوام کو خوش کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس کازمینی سطح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
جے رام رمیش کے نزدیک اس بجٹ میں عوامی ضروریات کو نظرانداز کرکے دکھاوے کی اعلانات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے تحت پیش کی جانے والی پالیسیوں سے ملک کی معیشت میں حقیقی ترقی کا امکان نہیں ہے اور نہ عوام کو ہی اس سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عوام کو براہ راست فائدہ پہونچانے والے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہےلیکن مودی سرکار پر اپنی مقبولیت بڑھاکر انتخاب جیتنے کا جنون اس طرح سوار ہے کہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں اور نہ وہ کوئی کطرہ مول لینا چاہتی ہے۔ مودی ۳ نے اس بجٹ میں تاجر حضرات اور صنعتکاروں کو تھوڑی بہت ریلیف دے کر ان کے زخموں کی اوپر اوپر سے مرہم پٹی تو کردی لیکن بیماری کا علاج نہیں کیا۔ جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں ٹھوس تبدیلی اور ٹیکس کا نظام سادہ بنائے بغیر نہ تو ان کی مشکلات کم ہوں گی اور نہ معاشی ترقی کے عمل میں ان کی شمولیت ہو سکے گی ۔ حکومت نے منریگا جیسی اسکیموں میں مختص رقم میں کمی کرکے یہ پیغام دیا کہ وہ دیہی بیروزگاری کو اہمیت نہیں دیتی اور اس کی پرواکرتی ہے۔
ششی تھرور اور جئے رام رمیش کا تعلق چونکہ حزب اختلاف سے ہے اس لیے ان کے منفی ردعمل کو مسترد کرنا آسان ہے لیکن حصص بازار پر تو حزب اختلاف کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہاں تو مودی بھگتوں کا بول بالا ہے ۔ وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے ایوان پارلیمان میں یونین بجٹ 2025 پیش ہوتے ہی شیئر بازار پر لرزہ طاری ہوگیا اور اچانک شیئر بازار میں گراوٹ آنےلگی۔اسی دن نفٹی 111.15 پوائنٹس گر کر 23397.25 پر آ گیا جبکہ سینسیکس بھی 300 پوائنٹس سے زیادہ گر کر 77193.22 پر دھڑام تختہ ہوگیا ۔بی ایس ای سینسیکس کے ٹاپ 30 شیئروں میں سے 9 کے شیئر سب سے زیادہ گرے جبکہ باقی 21 شیئر میں اُچھال بھی آیا ۔ این ایس ای ٹاپ-50 شیئروں میں سے ہیروموٹو کارپ اور وپرو جیسے 23 شیئر گراوٹ پر بند ہوئے ۔ یہ کوئی استثنائی جھٹکا نہیں تھا ۔
مرکزی بجٹ پیش ہونے کے بعد اگلے ہفتہ پہلے کاروباری سیشن کے دوران بھی شیئر بازار کے گرنے کا سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ تیز ہوگیا۔ سینسیکس اور نفٹی کے قریب 1-1 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ کر تےرہے ۔ عالمی سطح پر تجارتی جنگ گہرانے کے خدشات کی وجہ سے بھی ایشیائی بازاروں میں گراوٹ دیکھی گئی ۔ اس کا اثر سینسیکس اور نفٹی پر یہ پڑا کہ شروعاتی کاروبار میں ہی بی ایس ای سینسیکس 695 پوائنٹس یا 0.91 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 76812 پوائنٹس پر آ گیا جبکہ نفٹی 50 انڈیکس 211 پوائنٹس یا 0.90 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23271 پوائنٹس تک پھسل گیا۔ اس گراوٹ سے بی ایس ای پر لسٹیڈ سبھی کمپنیوں کا مارکیٹ کیپ 4.63 لاکھ کروڑ روپے گھٹ کر 419.21 لاکھ کروڑ روپے رہ گیایعنی عوام کا چار لاکھ کروڈ سرمایہ کافور ہوگیا۔
شیئر بازار کی یہ گراوٹ کسی خاص سیکٹر تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرۂ کار سبھی صنعتوں پر محیط تھا۔ دھاتوں کی صنعت میں انڈیکس سب سے زیادہ یعنی 3٫19 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ رئیلٹی انڈیکس میں 2.07، نفٹی آئی ٹی میں 1.44 فیصد، بینک میں 1.04 فیصد، فارما میں 1.10، ہیلتھ کیئر میں 1.01 فیصد، آئل اینڈ گیس میں 1.79 اور فائنانشیل سروسز میں 0.91 فیصد گراوٹ نظر آئی۔ وسیع مارکیٹ میں بی ایس ای مڈکیپ 1.49 فیصد اور بی ایس ای اسمال کیپ میں 1.53 فیصد کی گراوٹ پر بند ہوا۔یہاں تک کہ اسکان اور ویدانتا تک میں 5 فیصد گراوٹ آئی ۔ اس گراوٹ میں اواخرِ ہفتہ ٹرمپ کے ذریعہ کینیڈا،میکسیکو اور چین پر ٹیرف لگانے کے فیصلے سے بھی گہرا تعلق ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی ترقی پر بھی ممکنہ اثر کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی ۔
ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد جبکہ چین پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تو اس کے جواب میں کینیڈا اور میسیکو نے بھی فوری جوابی کارروائی کی جبکہ چین نے معاملے کو ڈبلیو ٹی او میں لے جانے کی دھمکی دے ڈالی ۔ ہندوستانی شیئر بازار میں نومنتخب امریکی صدر کے ذریعہ کینیڈا اور میکسیکو کے بعد برکس ممالک اور یورپی ممالک کیلئے ٹیکس میں اضافہ کی دھمکی سے ہی دو ہفتہ قبل ٹرمپ کے ا ٓتے ہی گھبراہٹ پھیل گئی ۔ اس وقت بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای ) کاحساس انڈیکس سینسیکس 1235 پوائنٹس یا1.6؍ فیصد گر کر75838؍ پوائنٹس پر آگیا ماہرین 76؍ ہزار پوائنٹس سے نیچے آنے کو خطرے گھنٹی سمجھتے ہیں ۔ یہ پچھلے ساڑھے سات ماہ کی کم ترین سطح ہے اُس وقت کی گراوٹ سے ہندوستانی سرمایہ کاروں کے 7؍لاکھ کروڈ روپئےکافور ہو گئے تھے ۔ ایسے میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی سرمایہ کاروں کے برے دن آنے والے ہیں اور مودی جی جھولا اٹھاکر جانے والے ہیں۔
Like this:
Like Loading...