Skip to content
امریکہ: صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف 30 دن کیلئے روک دیا
واشنگٹن ،4فروری (ایجنسیز)
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف عائد کرنے کا مقصد غیر قانونی امیگریشن اورغیر قانونی منشیات، خاص طور پر فینٹینیل میں استعمال ہونے والے اجزا کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ان ممالک پر دباؤ بڑھانا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف محصولات کے نفاذ کے اپنے انتباہ کو اس وقت 30 دن کے لیے روک دیا جب امریکہ کے دونوں پڑوسیوں نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد اور غیر قانونی منشیات پر قابو پانے کے لیے سرحد پر حفاظتی کوششوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے بعد کینیڈا پر بھی اضافی ٹیرف نافذ کرنے کے لئے اپنے فیصلے کو ایک ماہ کے لیے روک دیا ہے اور بتایا ہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکہ کے اندر اسمگلنگ اور دیگر جرائم روکنے کے لیے سرحدوں کو محفوظ بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بارڈر سکیورٹی کو بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی، ہیلی کاپٹرز سے, اور دس ہزار کے عملے کے ذریعے نگرانی کے 1.3 ارب ڈالر کے منصوبے پر عمل کریں گے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بارڈر سکیورٹی کو بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی، ہیلی کاپٹرز سے اور دس ہزار کے عملے کے ذریعے نگرانی کے 1.3 ارب ڈالر کے منصوبے پر عمل کریں گے.کینیڈا فینٹینیل نامی ڈرگ کی امریکہ کے اندر اسمگلنگ روکنے کے لے عہدیدار متعین کرے گا۔دوسری جانب امریکہ کینیڈا کو جرائم پیشہ گروہوں اور دہشت گردوں کی فہرست فراہم کرے گا۔امریکہ اور کینیڈا مشترکہ اسٹرائیک فورس کے ذریعے سرحد پر جرائم اور فینٹینیل اسمگلنگ سے لڑیں گے۔ صدر ٹرمپ نے ’دا ٹروتھ سوشل‘ پر اپنی پوسٹ میں اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، بطور صدر میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام امریکیوں کی سلامتی کو یقینی بناؤں۔صدر نے کہا، میں اس ابتدائی نتیجے سے بہت خوش ہوں اور جس ٹیرف کا اعلان ہفتے کے روز کیا تھا، اس کے نفاذ کو 30 دن کے لیے روک رہا ہوں چاہے کینیڈا کے ساتھ کوئی حتمی معاشی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ یہ سب کے لیے اچھا ہے۔ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہدایت کی تھی کہ دو نوں امریکی شراکت داروں کی زیادہ تر درآمدات پر 25 فیصد اور کینیڈا کی توانائی کی مصنوعات پر 10فیصدمحصولات، منگل کی نصف شب سے لاگو کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد میکسیکو اور کینیڈا نے بھی اپنے ملکوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی دی، جس سے وسیع تر علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے۔پیر کو دیر گئے ایکس پر ایک بیان میں، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت میں سرحدی سلامتی پر اضافی تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ٹروڈو نے کہا کہ مجوزہ ٹیرف کو کم از کم 30 دنوں کے لیے اس وقت تک روک دیا جائے گا جب ہم مل کر کام کریں گے۔اس سے قبل پیر کے اوائل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو پر بھی نئے محصولات کے نفاذ کو ایک ماہ کے لیے روک دیا تھا۔ میکسیکو نے اپنی شمالی سرحد پر نیشنل گارڈز کے دس ہزار ارکان تعینات کرنے پر اتفاق کیاہے تاکہ غیر قانونی منشیات، خاص طور پر فینٹینیل میں استعمال ہونے والے اجزا کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے ایکس پر کہا کہ اس میں امریکہ سے میکسیکو کے اندر طاقتور امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کا امریکی عزم بھی شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے میکسیکو، چین اور کینیڈا پر امریکی ٹیرف کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل پیر کو فون پر بات کی تھی۔ٹیرف بنیادی طور پر امریکہ میں کسی بھی ملک سے آنے والی مصنوعات اور اشیا پر عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے۔ٹیرف دراصل وہ کمپنیاں ادا کرتی ہیں جو کسی ملک سے اشیا درآمد کرتی ہیں اور یہ رقم امریکہ کے خزانے میں جاتی ہے۔ درآمدی اشیا پر عائد ہونے والے ٹیکس کے اثرات جزوی یا مکمل طور پر صارفین تک بھی پہنچتے ہیں اور انہیں زائد قیمتیں ادا کرنا پڑسکتی ہیں۔اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فورم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ٹیرفس کی وجہ سے امریکی صارفین کو عارضی طور پر قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...