Skip to content
باباووڈ نے بالی ووڈ کو مات دے دی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ممتا کلکرنی نے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے پچیس سال بعد بھی مقبولیت کی دنیا میں کنگنا رناوت کو بری طرح پچھاڑ دیا۔ ممتا نے کنگنا کی طرح نہ تو سیاست کے میدان میں قدم رکھ کر پارلیمانی انتخاب جیتا اور نہ تیجس یا ایمرجنسی جیسی فلاپ فلمیں بناکر اپنا دیوالیہ پٹوایا بلکہ وہ کنرّ اکھاڑے میں شامل ہوکر مہا منڈلیشور بن گئی اور پھر کیا تھا کہ اس کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔ حالیہ کمبھ میلے میں انہیں اس عہدے پر فائز کیاگیا تو کچھ دل جلوں نے مخالفت شروع کردی ۔ انہیں اگر نظر انداز کردیاجاتا تو ممتا کو رجت شرما آپ کی عدالت میں نہیں بلاتے اور نہ لاکھوں لوگ ان کی ویڈیو دیکھتے ۔ داود ابراہیم سے تعلقات کے لیے مشہور ممتا کلکرنی پر بغاوت کا الزام ہے اس کے باوجود وہ سنیاس لے کر میڈیا میں چھا گئیں ۔ویسے تو ۷؍دن کے اندر وہ اعزاز سے محروم کردی گئی لیکن اگر ممتا کی زندگی پر بایوپیک بنے اورحادثات کو ان کی بددعا سے جوڑ دیا جائے تب تو وہ فلم عامر خان کے دنگل سے آگے نکل جائے گی ۔
ممتا کلکرنی پر مہامنڈلیشور بننے کے لیے دس کروڈ گرو دکشنا دینے کا الزام لگا ۔ ان کےمطابق سارے اکاونٹ بند ہونے کے سبب دولاکھ قرض لے کر انہوں نےگرو دکشنا تو ادا کی ہے۔وہ بھی چھوٹی رقم نہیں ہے۔ ممتا بقول خود مہا منڈلیشور نہیں بننا چاہتی تھیں لیکن کنرّ اکھاڑے کی اچاریہ لکشمی نارائن ترپاٹھی کے دباو میں انہوں حامی بھردی ۔ سوال یہ ہے کہ آخر لکشمی نارائن کو دباو بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا اس کی وجہ دولاکھ سے ایک کروڈ کے درمیان ملنے والی گرودکشنا تھی ؟؟ ان کے اس عہدے پر کنرّ اکھاڑے کے مؤسس اجئے داس نے یہ اعتراض کیا کہ ملک دشمنی کا ملزم مہا منڈلیشور کیسےہوسکتا ہے؟یہ کوئی بِگ باس کا شو نہیں ہے۔ بِگ باس کی اجئے داس کے بذلہ سنجی کاکمال ہے ۔ ممتا کے ساتھ ان کو مہامنڈلیشور بنانے والی لکشمی داس کو بھی اجئے داس نے ان کے عہدے سے برخواست کردیا ۔ لکشمی داس کا سوال ہےچونکہ اجئے داس خود کسی ذمہ داری پر فائز نہیں ہیں اس لیے انہیں یہ اختیار کس نے دیا؟ یہ سن کرشرد پوار اور اجیت دادا کا ایک دوسرے کو پارٹی سے نکالنا یاد آتاہے۔
کنرّ اکھاڑے کا نام سن کر کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ سوال آتا ہوگا کہ آخر روحانیت کی دنیا میں کشتی کا اکھاڑا کہاں سے چلا آیا؟ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ ایک زمانے میں سادھووں کے جتھے ہوا کرتے تھے اور ان کا سربراہ پیر کہلاتا تھا لیکن مغلوں کے زمانے میں انہیں اکھاڑے کا نام دیا گیا ۔ اس کی وجہ سادھوں کا اکھڑّ مزاج بتایا جاتا ہے اورحالیہ کمبھ میلے میں سوشیل میڈیا کے سبب اس کا مظاہرہ زور و شور سے ہورہا ہے۔ کوئی چمٹا دکھا رہا ہے تو کوئی گالیاں بک رہا ہے وغیرہ۔ وہاں پر موجود برہنہ باباوں کے علاوہ انسانی کھوپڑیوں کے ساتھ مردہ خوری پر فخر کرنے والے بابا بھی دنیا بھر کی توجہات اپنی جانب کھینچ رہے ہیں ۔ روایتی طور پر جملہ 13؍ اکھاڑے تسلیم شدہ ہیں ۔ اس میں سے ۷؍ شیوا کو ماننے والے ۳؍ویشنوی اور اتنے ہی اداسین طبقے سے آتے ہیں۔ یہ سارے مرد سادھوں کے اکھاڑے ہیں لیکن مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعداجین کمبھ میلے کے اندر 2016 میں خواتین کا کنرّ اکھاڑا عالمِ وجود میں آگیا۔
اکھاڑوں کے کل ہندوفاق اکھاڑا پریشد نے ہنوز کنر ّ اکھاڑے کامخالف ہے اس لیے اسے منظوری نہیں ملی بلکہ اسنان کی اجازت پر بھی اعتراض ہواتو اس نے جونا اکھاڑا کے ذیلی اکھاڑے کے طور پرکام کرنے کی راہ نکال لی ۔ 2019کے اندر منعقد ہونے والے کمبھ میلے میں دوسرے اکھاڑوں کی مانند اس کا بھی پیشوائی (شاہانہ جلوس )نکلی ۔ اس میں مہا منڈلیشور سوامی لکشمی نارائن ترپاٹھی سمیت اجین کی پوترا مائی، شمالی ہند کی مہا منڈلیشور بھوانی ماں اور مہا منڈلیشور راج راجیشوری بھی شامل تھیں ۔ الہ باد کے کمبھ میلے میں تو سب سے زیادہ اسی اکھاڑے کے چرچے ہیں۔ گوناگوں وجوہات کی بناءپر سب سے زیادہ ویڈیو گرافر اسی کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں کیونکہ وہی ویڈیوز سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ ممتا کلکرنی نے تو اس کی شہرت میں چار چاند لگا دئیے۔ اب اگر اس کی منفرد حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ حقوق خواتین کمیشن یا انسانی حقوق کے ادارے سے رجوع کرنے کے بعد اگر سپریم کورٹ بھی جاسکتا ہے۔ اب دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنا لوہا منوانے سے روک نہیں سکتی ۔
سادھو سنتوں کے اکھاڑوں کا نظام پانچ درجات پر مشتمل ہے ۔ اس میں تین اہم ترین عہدے مہا منڈلیشور، منڈلیشور اور مہنت کے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف درجات پر فائز لوگوں کی ذمہ داریاں بھی طے شدہ ہیں ۔ سب سے نچلے درجے پرنووارد کوگھربار کو چھوڑنے کے بعد سنیاسی بناکر پوجاپاٹ کےانتظام و انصرام کا کام سونپ دیا جاتا ہے۔ اس کے اوپر کوتوال کی ذمہ داری دیگر اکھاڑوں سے رابطہ کاری ہوتی ہے۔ اس سے بھی اونچے درجے پر اکھاڑے کا محافظ تھانہ پتی فائزکہلاتاہے ۔ قیم یعنی سیکریٹری تمام انتظامی امور کے ساتھ کھانے پینے کا اہتمام کرواتا ہے اور مہامنڈلیشورکی ذمہ داری مذہب کی تبلیغ ، مکتب و مدرسہ چلانا اور سادھو سنتوں کو کھلانا پلانا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھنڈاری اور مہنت شری جیسے عہدے بھی ہوتے ہیں۔وطن عزیز میں ہندو مسلمان ایک دوسرے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اس لیے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اس لیے یہ معلومات ضروری ہے۔
مہا منڈلیشور کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے پڑھا لکھا ہونا بلکہ اچاریہ کی ڈگری لازمی تھا ۔ اس کے ساتھ سناتن دھرم میں دلچسپی ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے خود اپنا آشرم ہونا ، زمین جائیداد کا مالک یعنی معاشی طور پر خوشحال ہونا ، عوامی اثر و رسوخ،مٹھ مندر ، گئوشالہ و گروکل (مدرسہ) نیز سو سنتوں کے طعام کا اہتمام لازمی شرائط تھیں۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ۔ تین سال قبل خود اکھاڑا پریشد کے صدر رویندر پوری نے اعتراف کیا تھا کہ مہا منڈلیشور بننے کے لیے کسی خاص ڈگری یا سینیارٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ پہلے درجے کا سنیاسی بھی اگر معاشی طور پر خوشحال ہو، معاشرے میں اثرو رسوخ رکھتا ہو اور اسے مذہب میں دلچسپی بھی ہوتو عہدے پر فائز کردیا جاتاہے۔ ان کے مطابق کئی جاہل مہامنڈلیشور بے تکے بیانات دیتے رہتے ہیں اسی لیے اچاریہ کی ڈگری کو لازمی لازمی کیا گیا لیکن ممتا کلکرنی کا براہِ راست مہا منڈلیشور بن جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شرائط پر عمل نہیں ہوتا ۔ اب بھی لوگ سیدھے مہامنڈلیشور بن جاتے ہیں۔
کمبھ میلے میں ہر مہا منڈلیشور کووی آئی پی کی سہولیات کا حقدارسمجھا جاتاہے اور شان و شوکت کے ساتھ رتھ پر سوار ہوکر امرت اسنان کے لیے جاتے ہیں۔ ان کی ٹھاٹ باٹ کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ اہل خاندان سمیت دنیا سے منہ موڑنے والے راہب ہیں ۔ ان لوگوں نے اپنی ساری زمین جائیداد خیرات کردی ہے ۔ پچھلے سال مئی میں نرنجنی اکھاڑے کے مہنت سریشورانند پوری مہاراج نے مہا منڈلیشور منداکنی پر اچاریہ مہا منڈلیشور بنانے کا جھانسا دے کر ساڑھے ۸؍ لاکھ روپئے اینٹھنے کا الزام لگایا اس کے بعد جئے پور کے مہا منڈلیشور نرمدا شنکر بھی ان پر 8؍لاکھ 90ہزارروپئے لینے کی ایف آئی آر درج کروائی۔ منداکنی عرف ممتا جوشی کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی ۔ تین ماہ بعد جانچ پڑتال کرکے 112 سنتوں کو نوٹس بھیجاگیااور 13 مہا منڈلیشور برخواست کیے گئے۔ 2017میں بھی 14 باباوں کو جعلی قرار دیا گیا تھا۔
ان میں سے ایک رادھے ماں بھی تھی جس کو جونا اکھاڑے کے مہا منڈلیشور بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا لیکن جب ان کی ایک بھگت کی گود میں بیٹھ کر بوس کنار کی ویڈیو سامنے آئی تو ہٹایا گیالیکن معافی مانگ کر پھر شامل ہونے کے بعد بگ باس نامی ٹیلی ویژن پروگرام میں چلی گئی تو دوبارہ نکالنا پڑا۔ ان بدنام لوگوں میں سے ایک دیپک تیاگی نے روس سے انجنیرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدماسکو اور لندن میں ملازمت کے بعدیتی نرسنگھانند بن گیا ۔ اس پر تمام مذاہب سمیت خواتین کے خلاف نفرت انگیزی کا الزام ہے۔اس پر قتل کی کوشش، خودکشی کے لیے اکسانےاور ڈکیتی جیسے الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ 2019میں اس کو یوگی کی پولیس نے سنگین درجے کا فسادی قرار دیا اور 2021میں جونا اکھاڑے نے اس کو مہا منڈلیشور کے عہدے پر فائز کردیا۔ مہا کمبھ میں ایک آئی آئی ٹی بابا منشیات کی خاطر آشرم سے بھاگ کھڑا ہوا تھا ۔
نوئیڈا کے سچنا نند دت زمین کی دلالی اور شراب کا کاروبارکرکے سیاست میں جانا چاہتا تھا ۔ اس پر دھوکہ دھڑی کا الزام لگا تو وہ دولت کے زور پر نرجنی اکھاڑے میں مہا منڈلیشور بن گیا ۔ آگے چل کر اس کوبھی ہٹانا پڑا۔ 2013 میں مہا نروانی اکھاڑے نے عصمت دری کے دو الزامات میں گرفتار ہوکر جیل سے فرار ہونے والے سوامی ستیانند کو مہا منڈلیشور بنادیا ۔ 2019میں اس پر ایک جوڑے نے اپنی دو بیٹیوں کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تو وہ ملک چھوڑ کر فرار ہوگیا ۔ جنوبی امریکہ کے ایکویڈور میں ایک جزیرہ خرید کر اس نے وہاں کیلاش نامی ہندو راشٹر قائم کررکھا ہے اور اب اقوام متحدہ کی رکنیت چاہتا ہے۔ کمبھ میلے میں ننگ دھڑنگ باباوں کی عجیب و غریب حرکتوں کی ویڈیوز دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کررہی ہیں ۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...