Skip to content
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے
ازقلم:ابن عطاءاللہ بنارسی
جی ہاں۔۔۔ آپ کی بصارت نے وہی دیکھا جو تصویر دکھلا رہی ہے، ایک طرف سعودیہ عربیہ کے ولی عہد محمد ابن سلمان ہیں اور دوسری طرف سرزمین شام کے تازہ دم اور جواں سال صدر جناب احمد الشرع ابو محمد الجولانی ہیں! جو اپنے سرکاری دورے پر سعودی میں ہیں۔
عام آنکھوں میں یہ تصویر ایک عام سی روایتی تصویر ہے، جیسے دنیا کے سب حکمران دورے کرتے رہتے ہیں اور انکی تصویریں منظر ناموں پر ابھرتی رہتی ہیں، لیکن زیر نظر تصویر ان نگاہوں میں عام نہیں جن نگاہوں سے اسلامی تاریخ کے اوراق گزرے ہیں، جنہیں معلوم ہے کہ شام کا عالمی سیاست میں کیا مقام ہے، جو اس بھید سے باخبر ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تقدیر شام کی خاک میں پوشیدہ ہے۔
الجولانی کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، اپنے پہلے دورے کے لئے سعودیہ کا انتخاب انکی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسلئے کہ سعودیہ نہ صرف عالمی طاقت ہے بلکہ مشرق وسطیٰ سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کا سیاسی مرکز ہے، اگر محمد ابن سلمان اور ابو محمد الجولانی کے درمیان سیاسی مفاہمت ہوتی ہے تو یہ شام و عرب سمیت پورے عالمِ اسلام کے حق میں نیک فال ہوگی! اور بعید نہیں کہ یہ نیک فال عالمِ اسلام کی سیاسی شیرازہ بندی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...