ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران سیکٹروں پر عائد اولین پابندیوں کی تفصیل
واشنگٹن،7فروری (آئی این ایس انڈیا)
امریکہ نے جمعرات کے روز ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو ایران کا کروڑوں ڈالر کی مالیت کا لاکھوں بیرل خام تیل چین منتقل کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔ یہ بات وائس آف امریکا ریڈیو کی فارسی زبان کی سروس نے بتائی۔امریکی وزارت خزانہ کے زیر انتظام غیر ملکی اثاثوں کی نگرانی کرنے والے دفتر (OFAC) نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایرانی تیل ایرانی مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی اور اس کی کمپنی سبہر انرجی جہان نما پارس کی طرف سے چین بھیجا جاتا ہے۔ اس کمپنی پر پابندیاں عائد ہیں۔بیان کے مطابق ایرانی حکومت تیل کی سالانہ آمدنی کو جو اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے، اپنی علاقائی سرگرمیوں کی فنڈنگ کے لیے استعمال کرتی ہے جن کا مقصد عدم استحکام پھیلانا ہے۔
اس کے علاوہ یہ رقم حماس، حزب اللہ اور حوثی ملیشیا جیسی تنظیموں کی سپورٹ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن و دہشت گرد تنظیموں کا درجہ دیا جا چکا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی تیل کی فروخت اور ترسیل کے لیے ایران سے باہر نیٹ ورکوں اور ایجنٹوں پر انحصار کرتی ہے۔اس سلسلے میں امریکی وزیر خزانہ اسکوٹ بسنٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران ابھی تک ایرانی تیل کی آمدنی کو اپنے جوہری پروگرام کی فنڈنگ، بیلسٹک میزائلوں اور لڑاکا ڈرون طیاورں کی تیاری اور خطے میں اپنے دہشت گرد ایجنٹوں کی سپورٹ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ادھر امریکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکا ایرانی حکومت کی جانب سے اس تخریبی اور عدم استحکام سے دوچار کرنے والے برتاؤسے درگزر ہر گز نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ نے ایرانی تیل کی فروخت اور منتقلی کے ذمے دار بیڑے اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔پابندیوں کی فہرست میں درج ذیل کو درج کیا گیا ہے:1. آئیوری کوسٹ کا پرچم بردار آئل ٹینکرانٹیا جو اس وقت سیری کے نام سے معروف ہے۔ یہ ایک فرضی نام نیو پرائم استعمال کرتا ہے تا کہ پابندیوں سے بچ سکے۔2. آرش لاویان، یہ تیل کی منتقلی کی دستاویزات میں جعل سازی اور سیری آئل ٹینکر کا نام تبدیل کرنے میں ملوث ہے۔3. جمشید اسحاقی، ایرانی مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی میں بجٹ اور مالی امور کے دفتر کا سربراہ جو سپہر انرجی کمپنی کا سابق ذمے دار بھی ہے۔
اسحاقی ماضی میں ایران خام تیل چین کو فروخت کرنے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ رابطہ کاری کرتا تھا۔4. سپہر انرجی گروپ کے زیر انتظام کمپنیاں: سپہر انرجی ہمتا پارس، سپہر انرجی جہان نما تابان،سپہر انرجی پایا گستر جہان5. فرشاد قاضی، سپہر انرجی ہمتا پارس کمپنی کا چیف ایگزیکٹو۔6. فربد محسنی اہری، سپہر انرجی جہان نما تابان کمپنی کا سربراہ۔7. محمد علی ریاضی کلاہدوز محلہ، جس نے سپہر انرجی گروپ کی کئی کمپنیوں کی چیئرمین شپ سنبھالی۔ان کے علاوہ امریکا نے کئی غیر ملکی افراد اور جہازوں اور کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن کے دفاتر بھارت، ہانگ کانگ، چین اور قازقستان میں ہیں۔ یہ ایرانی تیل کی فروخت اور منتقلی میں شریک ہیں۔
ٹرمپ کی پابندیاں چین سے منسلک ایرانی تیل کے نیٹ ورک تک پہنچ گئیں
لندن،7فروری (آئی این ایس انڈیا)
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے ایسے افراد اور ٹینکرز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو سالانہ لاکھوں بیرل ایرانی خام تیل چین کو بھیجنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ہفتے کے شروع میں ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنے کے وعدے کے بعد سامنے آیا ہے؛کیوں کہ امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔وزارت نے بتایا کہ تیل سیپر انرجی کمپنی کی طرف سے بھیجی جا رہی تھی جسے امریکہ نے 2023 کے آخر میں ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
وزارت نے کہا کہ پابندیاں چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔وزارت نے مزید کہا کہ اس نے پاناما کے جھنڈے والے ٹینکر سی ایچ بلین اور ہانگ کانگ کے جھنڈے والے ٹینکر سٹار فاریسٹ پر ایرانی تیل چین کو بھیجنے میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پابندیاں افراد اور اداروں کو ان کے امریکہ میں موجود کسی بھی اثاثے کو ضائع کرنے سے روکتی ہیں اور انہیں امریکی غیر ملکی امداد حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹمی بروس نے پابندیوں کے بارے میں کہا کہ ہم حکومت کو اس کی عدم استحکام کی سرگرمیوں اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر آلے کا استعمال کریں گے۔پابندیوں میں ایرانی شہری آرش لاویان بھی شامل ہیں جس کے بارے میں امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے سیپر انرجی کمپنی کی مدد کی تھی۔نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ابھی تک تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔امریکہ نے پرائیویٹ شپ مینجمنٹ کمپنی مارشل پر بھی پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ پابندیاں ینگ ووکس انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی اور لکی اوشین شپنگ کمپنی کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جو ایرانی تیل کے شعبے میں کام کرتی ہیں۔
