Skip to content
140 کروڑ بھارتیوں لے لئے باعثِ شرم : کہاں ہیں 56 انچی وشو گرو؟
(امریکی طمانچے اور ’وشوا گرو‘ کے کھوکھلے دعووں کی دردناک داستان)
ازقلم: ڈاکٹر محمدعظیم الدین
موبائل: 8275232355
5 فروری 2025 کو امریکی فضائیہ کا جنگی جہاز C-17 گلوبماسٹر جب امرتسر کے آسمان سے اُترا تو اس میں 104 بھارتی تھے،جن کے ہاتھ ہتھکڑیوں اور پیر زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے۔ یہ وہ خاموش چہرے تھے جنہیں امریکہ نے ’’غیرقانونی گھسپیٹھیے‘‘ کا خطاب دے کر اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا تھا۔ اِس واقعے نے نہ صرف قومی غیرت کو خون کے آنسو رُلایا بلکہ ’’وشوا گرو‘‘ کے فریب کو بھی بے نقاب کر دیا۔
جہاز کے اندر 40 گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ کرب ناک سفر کسی جنگ کے قیدیوں کی توہین سے کم نہ تھا۔ ننھے بچوں کی معصوم آنکھیں، خواتین کے چہروں پر شرم کے پردے، اور جوانوں کی بے بسی کے مناظر نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ اُنہیں نہ تو کھانے کے لیے مناسب خوراک دی گئی، نہ واش روم جانے کی اجازت تھی۔ جب کسی کی بے چینی حد سے بڑھی تو ہتھکڑیاں کھولے بغیر اُسے جہاز کے عملے نے ٹوائلٹ کے دروازے تک دھکیل دیا۔ چار بار ایندھن بھرنے کے لیے جہاز رُکا مگر اُن غریبوں کو سانس لینے کی بھی مہلت نہ ملی۔ حیرت کی بات یہ کہ جب یہ لوگ اپنے وطن کی مٹی پر قدم رکھنے لگے تو اُس وقت بھی اُن کے ہاتھوں میں امریکہ کی لگائی ہوئی ہتھکڑیاں تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر تو شاید کوئی غیرملکی بھی شرمندہ ہو جاتا، لیکن ہمارے ’’56 انچی سینے‘‘ والے لیڈروں کے چہروں پر ایک شکن تک نہ آئی۔
اِن 104 بھارتیوں میں 19 خواتین، 13 نابالغ بچے، اور 4 سال کی معصومیت کا ایک پیکر بھی شامل تھا۔ 48 نوجوان جن کی عمریں 25 سال سے کم تھیں، اپنے خوابوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے واپس آئے۔ پنجاب، ہریانہ، اور گجرات کے دیہاڑی دار مزدور، جنہیں امریکہ نے ’’غیرقانونی‘‘ قرار دے کر پیلٹ گن کی گولیوں کی طرح بھارت کے حوالے کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خواتین اور بچوں سمیت انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرے؟ اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا ہماری حکومت کے پاس اتنی غیرت نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کی توہین پر احتجاج تک کر سکے؟
وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا پارلیمنٹ میں یہ کہنا کہ ’’یہ تو معمول کا عمل ہے، ہمیں نہ کوئی اعتراض ہے نہ شرمندگی،‘‘ اُس تلوار کی مانند ہے جو غریب عوام کے دل چیرتی چلی گئی۔ کیا واقعی یہ ’’معمول‘‘ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر واپس بھیجا جائے؟ کیا یہ ’’معمول‘‘ ہے کہ ایک چار سالہ بچہ فوجی جہاز میں ہتھکڑی پہنے بیٹھا رہے؟ اگرچہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ’’وشوا گرو‘‘ بن چکا ہے، لیکن کیا دنیا کے کسی ’’گرو‘‘ کے شاگردوں کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک ہوتا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ اپنے ہی ملک کے ایئرپورٹ پر اُترے تو اُنہیں پولیس کی گاڑیوں میں ڈال کر لے جایا گیا۔ کیا اپنی سرزمین پر بھی اُن کے ساتھ مجرموں جیسا برتاؤ کرنا ضروری تھا؟ کیا اُن کی ہتھکڑیاں کھول کر اُنہیں گلے لگانے والا کوئی نہیں تھا؟ یا پھر یہ سب کچھ اُس ’’ڈھونگ اور فریب ‘‘ کا حصہ ہے جس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا ہے؟
امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِس ڈیپورٹیشن پر 6 کروڑ روپے خرچ کیے، یعنی ہر بھارتی کو واپس بھیجنے پر 6 لاکھ روپے کی لاگت۔ یہ وہی امریکہ ہے جس کے صدر ٹرمپ کو اقتدار میں لانے کے لیے ’’سناتنی‘‘ طاقتوں نے ہون اور یگیہ کروائے تھے۔ آج وہی ٹرمپ ہمارے لوگوں کو زنجیروں میں جکڑ کر بھیج رہا ہے، اور ہماری حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ امریکہ نے کیا کیا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا کھویا؟ 140 کروڑ لوگوں کی اجتماعی غیرت، اُن کا وقار، اور اُن کا اعتماد خاک میں مل چکا ہے۔ جس ملک کی حکومت اپنے ہی شہریوں کو عزت دِلوانے سے قاصر ہو، وہ دنیا کو اخلاقیات کی درس گاہ کیسے بنا سکتا ہے؟ آج ہر بھارتی کا دل پوچھتا ہے: کیا واقعی ہم ’’وشوا گرو‘‘ ہیں؟ یا پھر یہ سب جھوٹے نعرے ہیں جو اقتدار کے تخت کو سنبھالنے کے لیے گھڑے گئے ہیں؟
شرم کا یہ پہاڑ ہمارے سروں پر ہے۔ کیا کوئی ہے جو اِسے ہٹانے کے لیے آواز اٹھائے؟ یا پھر ہمیں اِسی طرح زنجیروں کی جھنکار کے ساتھ جینے کی عادت ڈال لینی چاہیے؟
===========================
Post Views: 17
Like this:
Like Loading...