Skip to content
چین کی اے آئی ایپ ڈیپ سیک پر پابندیاں، خدشات کیا ہیں؟
واشنگٹن، 8فروری (ایجنسیز)
چین کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سافٹ ویئر ڈیپ سیک کے لانچ کے بعد سے امریکہ، آسٹریلیا اور تائیوان سمیت کئی ممالک کی حکومتوں نے سرکاری ڈیوائسز پر اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔وی او اے مینڈرین سروس کے لیے ژوانگ جی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈیپ سیک میں چین کے سرکای بیانیے کو مضبوط کرنے کا میکنزم موجود ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں یوزر پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے خیال میں اسی وجہ سے ڈیپ سیک اظہارِ رائے کے کنٹرول اور رائے عامہ میں تبدیلی کے لیے ایک ممکنہ ٹول بن گیا ہے اور اس نے عالمی برادری کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔
چار فروری کو آسٹریلیا کی حکومت نے سرکاری ڈیوائسز پر ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل قبول سکیورٹی رسک ہے۔تائیوان اور اٹلی بھی اس نوعیت کی پابندی عائد کر چکے ہیں جب کہ امریکی محکمہ دفاع (پیٹاگان) اور خلائی ادارے ناسا نے بھی ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی لگائی تھی۔دوسری جانب حال ہی میں امریکی سینیٹر جوش ہولی نے ڈیپ سیک کے استعمال کو جرم قرار دینے کا بل تجویز کیا ہے۔بل میں خلاف ورزی کرنے والوں کو 20 سال قید اور 10 لاکھ ڈالر تک جرمانے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔چین کی فوج سے منسلک جون ژینگ پنگ اسٹوڈیو نے پیر کو ایک آرٹیکل میں امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی چیز میں چین کا نام آئے تو امریکہ اس پر انتہائی ردعمل دیتا ہے۔
عالمی سطح پر ڈیپ سیک سے متعلق شبہات صرف ڈیٹا سکیورٹی کے مسائل تک محدود نہیں ہیں۔ کئی تجربات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس چیٹ بوٹ کے جوابات چین کے سرکاری موقف سے بہت زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔گزشتہ ہفتے پیر کو ایک رپورٹ میں امریکی جریدے وائرڈ نے نشاندہی کی کہ ڈیپ سیک نے ٹیسٹ کے دوران کونٹینٹ کے جائزے کے مختلف لیولز دکھائے۔جب ڈیپ سیک کی آفیشل ایپ کو استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے جو جوابات موصول ہوتے ہیں وہ 2023 میں چین کی حکومت کے جاری کردہ انتظامی اقدامات برائے جنریٹو آرٹی فیشل انٹیلی جنس سروسز کے مطابق ہوتے ہیں۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسا مواد جو قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے وہ جنریٹ نہیں کیا جائے گا۔
اسی طرح اگر صارفین ماڈل کو ڈاؤن لوڈ کرکے دیگر پلیٹ فارمز پر استعمال کرتے ہیں تب بھی جو جوابات موصول ہوتے ہیں وہ چینی حکومت کے بیانیے کے مطابق ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر جب پوچھا جائے کہ چین حساس معاملات کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟’تو اسکرین پر پہلے جواب آتا ہے کہ صحافیوں کو رپورٹنگ کے لیے سینسر اور گرفتار کیا جاتا ہے ، لیکن پھر یہ جواب ڈیلیٹ ہو جاتا ہے اور یہ لکھا آتا ہے، معذرت، مجھے نہیں اندازہ کہ میں اس طرح کے سوال کا کیسے جواب دوں۔ساتھ ہی موضوع تبدیل کرکے صارفین کو ریاضی، پروگرامنگ یا لاجک پرابلمز سے متعلق بات چیت کی دعوت دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں تجزیہ کیا گیا ہے کہ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ڈیپ سیک میں ریئل ٹائم فلٹرنگ موجود ہے جو کونٹینٹ کو فوری طور پر تبدیل کرسکتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حتمی جواب کمپلائنٹ یعنی چین کی پالیسی کے مطابق ہو۔اس کے علاوہ پروگرام کی ٹریننگ لیول سینسرشپ بھی کی گئی ہے۔ لہٰذا اگر اسے تھرڈ پارٹی پلیٹ فارم کے ذریعے بھی استعمال کیا جائے تو ڈیپ سیک 20 ویں صدی کے سب سے اہم تاریخی واقعے پر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو اُجاگر کرتا ہے جب کہ ثقافتی انقلاب جیسے حساس واقعات سے گریز کرتا ہے۔ساٹھ کی دہائی میں چینی رہنما ماؤزے تنگ نے مہم شروع کی تھی جسے ثقافتی انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
Like this:
Like Loading...