Skip to content
پاکسو ایکٹ: الزامات واپس لینے کے باوجود مقدمہ قائم رہے گا: ہائی کورٹ
کوچی،8فروری (ایجنسیز)
کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر عصمت دری کے سنگین الزامات یاپاکسو ایکٹ کے تحت کسی معاملے میں پہلی نظر میں سچ ثابت ہوتے ہیں، تو متأثرہ کی جانب سے کیس کو بند کرنے کی درخواست کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہ فیصلہ متاثرہ اور اس کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست پر سامنے آیا، جس میں انھوں نے متاثرہ ڈانس ٹیچر اور اس کی اہلیہ کے خلاف جاری کیس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان دونوں کیخلاف تعزیرات ہند اور پاکسو ایکٹ کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں متاثرہ نے کہا تھا کہ 2015 میں جب وہ نابالغ تھی تو اس کے ڈانس ٹیچر نے اسے فلموں اور رئیلٹی شوز میں کام دلانے کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کیے تھے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ ڈانس ٹیچر نے شادی کے بہانے اس کے ساتھ کئی بار جسمانی تعلقات بنائے۔ بعد میں جب ڈانس ٹیچر نے کسی اور سے شادی کر لی تو متاثرہ نے اس کی بیوی کو اپنے تعلقات کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ملزم کی بیوی نے بھی اسے یقین دلایا کہ وہ ٹیچر سے شادی کرسکتی ہے اور اس نے ان جسمانی تعلقات کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
تاہم، جب متاثرہ لڑکی 2020 میں بالغ ہوئی تو اس نے مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اپنے بیان میں ان تمام الزامات کی تردید کی۔ اس نے کہا کہ اسے ڈانس ٹیچر اور اس کی بیوی کے خلاف الزامات لگانے پر مجبور کیا گیا۔ متاثرہ کی ماں، جس نے پہلے شکایت درج کرائی تھی، نے بھی اپنے الزامات واپس لے لیے اور کیس کو بند کرنے کی مانگ کی۔ لیکن ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے کہا کہ کیس کے ریکارڈ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف بہت سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جن میں ایک نابالغ کے خلاف جرائم بھی شامل ہیں۔
اس پر عدالت نے کہا، ‘ایسے معاملات میں صرف مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان یا متاثرہ اور اس کی ماں کے حلف نامے کی بنیاد پر کیس بند نہیں کیا جا سکتا۔اگر پرائما پر عصمت دری کا جرم (آئی پی سی سیکشن 376) اور پاکسو ایکٹ کے تحت ثابت ہو جاتا ہے، تو متاثرہ کے کیس کو بند کرنے کے مطالبے کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے مقدمہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو ٹرائل میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے کہا کہ وہ تین ماہ کے اندر اس کیس کی سماعت مکمل کرے۔
Like this:
Like Loading...