Skip to content
دہلی کی حالیہ انتخابی شکست: اروند کیجریوال کے لیے ایک تنبیہ اور لمحہ فکریہ
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ،مہاراشٹر )
———-
دہلی میں حالیہ انتخابات کے نتائج نے عام آدمی پارٹی (AAP) کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جو 2015 اور 2020 میں دہلی میں شاندار فتوحات حاصل کرنے کے بعد اب ایک بڑے سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ ایک طویل عرصے تک دہلی کی سیاست میں عام آدمی پارٹی نے عوامی فلاح و بہبود، بدعنوانی کے خلاف جنگ اور بہتر طرز حکمرانی کے نعروں کے ذریعے اپنی حکمرانی قائم رکھی تھی، لیکن حالیہ شکست نے ان کے اقتدار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
اس انتخابی شکست کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ بدعنوانی کے الزامات اور عام آدمی پارٹی کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ اروند کیجریوال نے سیاست میں قدم رکھتے ہی بدعنوانی کے خلاف مہم کو اپنی پہچان بنایا تھا۔ انھوں نے کانگریس اور بی جے پی کی کرپشن کے خلاف سخت بیانات دیے اور ایک شفاف حکومت قائم کرنے کا وعدہ کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود عام آدمی پارٹی پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات لگنے لگے، جن میں شراب پالیسی اسکینڈل سب سے نمایاں تھا۔ اس کیس میں بشمول اروند کیجریوال ان کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری نے عوام کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی۔
اس کے علاوہ، اقلیتوں کے ساتھ غیر واضح رویہ بھی عام آدمی پارٹی کی شکست کا ایک سبب بنا۔ شروع میں کیجریوال کی سیاست سیکولرازم کے اصولوں پر مبنی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے کئی معاملات میں خاموشی اختیار کی یا بی جے پی کے بیانیے کے ساتھ مطابقت پیدا کی۔ 2020 کے دہلی فسادات میں حکومت کا کردار اور متنازعہ قوانین جیسے سی اے اے (CAA) اور این آر سی (NRC) کے خلاف کوئی مؤثر موقف اختیار نہ کرنا، اقلیتی ووٹرز کے لیے مایوس کن ثابت ہوا۔ مسلمان ووٹرز، جو پہلے عام آدمی پارٹی کے حامی سمجھے جاتے تھے، ان کی اس خاموشی پر ناراض دکھائی دیے۔
مرکزی حکومت کے ساتھ جاری کشمکش اور انتظامی مشکلات بھی عام آدمی پارٹی کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنیں۔ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے بلکہ ایک مرکزی زیرِ انتظام علاقہ ہے جس کے اختیارات کئی معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر (LG) کے ماتحت آتے ہیں۔ کیجریوال حکومت نے بارہا یہ شکایت کی کہ مرکزی حکومت ان کے اختیارات کو محدود کر رہی ہے، مگر اس تنازعے کو حل کرنے کے بجائے وہ اکثر بیانات کی سیاست میں الجھتے رہے۔ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ عام آدمی پارٹی اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال رہی ہے۔
عام آدمی پارٹی کی جانب سے قومی سیاست میں قدم رکھنے کی کوشش بھی ایک غلطی ثابت ہوئی۔ کیجریوال نے دہلی کے بعد پنجاب میں حکومت بنا کر قومی سیاست میں قدم رکھنے کی کوشش کی۔ اس دوران گجرات، ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی انتخابی مہم چلائی، لیکن وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس کا نقصان دہلی کی سیاست کو ہوا، جہاں ووٹرز کو یہ محسوس ہوا کہ عام آدمی پارٹی کی توجہ دہلی سے ہٹ چکی ہے۔
دوسری جانب، بی جے پی نے دہلی میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے انتہائی جارحانہ انتخابی مہم چلائی۔ 2024 کے انتخابات میں، انھوں نے عام آدمی پارٹی پر کرپشن، بدانتظامی اور اقلیتی ووٹ بینک کی سیاست کے الزامات عائد کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بی جے پی نے فلاحی اسکیموں جیسے فری راشن، فری بجلی اور صحت سہولتوں پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھی، جو پہلے عام آدمی پارٹی کا خاصہ سمجھی جاتی تھیں۔
دہلی میں مسلم ووٹرز ایک مضبوط انتخابی بلاک تصور کیے جاتے ہیں۔ 2015 اور 2020 میں، انھوں نے بڑی تعداد میں عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا، لیکن 2024 میں ان کی حمایت میں واضح کمی دیکھی گئی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں جن میں دہلی فسادات پر حکومت کی خاموشی بھی شامل ہے۔ ان فسادات کے دوران حکومت کا خاموش رویہ، جس میں نہ تو بروقت احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں اور نہ ہی متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے گئے، ایک نمایاں خامی کے طور پر سامنے آیا۔ متعدد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خاموشی نے عوام کے اندر یہ احساس پیدا کر دیا کہ حکومت اپنے عہدوں اور ووٹ بینک کی خاطر عوام کے حقیقی مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے۔
اسی طرح، جہانگیر پوری میں ہونے والی انہدامی کارروائی پر سخت موقف اختیار نہ کرنا ایک اور سنگین مسئلہ رہا۔ اس واقعے میں جہاں عمارتوں کو نذر آتش کر کے گرانا، شہریوں کی زندگیاں تباہ کرنا اور املاک کو نقصان پہنچانا شامل تھا، اس کے باوجود حکومت نے کوئی سخت موقف اختیار نہ کیا۔ اس عدم اقدام نے عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا کر دیا کہ کیا حکومت واقعی قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی سلامتی کو فوقیت دیتی ہے یا صرف سیاسی مقبولیت کے پیچھے بھاگتی ہے۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے حوالے سے کیجریوال کی پالیسی بھی ایک متنازع موضوع رہی ہے۔ اگرچہ کیجریوال نے اس فیصلے کو بھارت کی جمہوریت اور اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا، لیکن اس کا تنقیدی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس فیصلے میں مقامی مسائل اور کشمیری عوام کے حقیقی تحفظ کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں کیجریوال کی طرف سے مبہم اور غیر واضح ردعمل نے مزید خدشات کو جنم دیا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے پر کسی واضح اور مؤثر موقف سے قاصر ہیں۔
اس کے علاوہ، بی جے پی کے ہندوتوا بیانیے کے خلاف مؤثر اپوزیشن فراہم نہ کرنا بھی عام آدمی پارٹی کی ناکامی کا ایک سبب بنا۔ کیجریوال نے ابتدائی دنوں میں اپنے بیانات میں سیکولر اور انسانی اقدار کا ذکر کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ بی جے پی کے نظریاتی دائرے میں گھس کر ایک مشکوک اپوزیشن کا روپ اختیار کر گئے ہیں۔ اس رویے نے نہ صرف ان کے انتخابی وعدوں کو زیر سوال لایا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظریاتی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ہندوتوا بیانیے کا مؤثر مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر مسلم ووٹرز کو عام آدمی پارٹی سے دور لے گئے۔ ان میں سے کچھ ووٹرز نے کانگریس کا رُخ کیا، جبکہ کچھ نے ووٹنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
عام آدمی پارٹی نے دہلی میں کئی فلاحی منصوبے شروع کیے جن میں مفت بجلی، مفت پانی، محلہ کلینکس اور مفت تعلیم شامل تھے۔ ان منصوبوں نے عام شہریوں کو بہت فائدہ پہنچایا، لیکن انتخابی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف فلاحی اسکیمیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ عوام دیگر مسائل پر بھی ووٹ دیتے ہیں۔ اگرچہ ان اسکیموں کے نتیجے میں شہریوں کو بنیادی ضروریات میں براہ راست امداد ملی اور ان کی زندگیوں میں بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ عوامی فلاحی اسکیمیں صرف وقتی سہولت فراہم کرتی ہیں؛ اس کے علاوہ عوام دیگر پہلوؤں جیسے انتظامی شفافیت، قانونی نظام کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے میں جدت کو بھی اپنے ووٹ کا فیصلہ کرنے میں مدنظر رکھتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں عام آدمی پارٹی کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے نظریاتی بیانات اور عملی اقدامات میں مزید توازن پیدا کریں تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ اگر عام آدمی پارٹی اپنی بنیادی پالیسیوں، انتظامی کارکردگی اور شفافیت میں بہتری نہیں لاتی تو اسے آئندہ انتخابات میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، دہلی میں بی جے پی کی حالیہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی نہ صرف اپنی سیاسی گرفت کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ وہ عام آدمی پارٹی کی فلاحی اسکیموں کے خلاف متبادل ترقیاتی اور معاشی منصوبوں کو بھی عوام تک پہنچا رہی ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی اپنی پالیسیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر نہیں کرتی تو بی جے پی کے ایسے اقدامات ان کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے عام آدمی پارٹی کا سیاسی وجود مزید کمزور ہو سکتا ہے۔کانگریس کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی تنظیمی کمزوریوں کو دور کر کے اپنی پالیسیاں اور اصلاحی اقدامات کو بہتر بنائے اور ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھرے۔
مجموعی طور پر، دہلی کے حالیہ انتخابی نتائج یہ واضح کرتے ہیں کہ عوام صرف مفت سہولیات کے وعدوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ انتخابی میدان میں بنیادی مسائل جیسے کہ انتظامی شفافیت، اصلاحی اقدامات، قانون و انصاف اور مجموعی ترقی کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی جانب سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیمیں اگرچہ قلیل مدتی فائدہ مند ثابت ہوئیں، لیکن اگر وہ ان اسکیموں کے علاوہ اپنی پالیسیوں میں جامع اصلاحات اور بہتر انتظامی نظام قائم نہیں کرتیں تو عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکتیں۔
نتیجتاً، دہلی کے حالیہ انتخابات عام آدمی پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے ۔ کرپشن کے الزامات، اقلیتی ووٹوں کی ناراضگی، بی جے پی کی جارحانہ سیاست اور دہلی سے باہر توجہ مرکوز کرنے جیسی غلطیوں نے عام آدمی پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ اگر اروند کیجریوال اور ان کی جماعت اپنی سیاست میں سنجیدہ اصلاحات نہیں کرتے تو دہلی میں ان کے لیے مستقبل مزید مشکلات سے بھرا ہو سکتا ہے۔ یہ انتخابات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ محض عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے کسی جماعت کو طویل عرصے تک اقتدار میں نہیں رکھ سکتے، جب تک کہ وہ مضبوط قیادت، شفافیت اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال نہ کریں۔
=======
Like this:
Like Loading...