Skip to content
مودی جی اٹھو اب کوچ کرو سرکار میں جی کو لگانا کیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکہ میں جنوبی افریقہ کے ساتھ فائنل میں ہندوستانی ٹیم کی فتح پر پورا ملک جھوم اٹھا ہے ۔ وزیر اعظم کو اگر اس کا یقین ہوتا تو میچ دیکھنے پہنچ جاتے مگر پچھلے سال کےتلخ تجربے نے روک دیا ۔ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں گزشتہ برس ہندوستان اور آسٹریلیا کا فائنل دیکھنے کے لیے امیت شاہ سمیت نریندر مودی موجود تھے مگر شکست کے بعد ’پنوتی ‘ کا شور بپا ہوگیا ۔ پنوتی کامطلب سمجھنے کے لیے مودی کے چہیتے اکشے کمار کی سب زیادہ کامیاب فلموں میں سے ایک ’ہاوس فل ‘ دیکھ لینا کافی ہے۔ اس کے چار سیکوئیل بن چکے ہیں اور پانچواں بھی آئندہ سال ریلیز ہوجائے گا۔ اس فلم کا ہیرو آروش ایک منحوس آدمی ہے اس لیے اسے ’پنوتی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ 2021 میں پہلی بار ورلڈ کپ میچ میں پاکستان نے ہندوستانی کو شکست دی تو اسٹیڈیم میں اکشے کمار کے ساتھ امیت شاہ کا بیٹا جئے شاہ موجود تھا اور وزیر اعظم بھی اپنے گھر میں کھیل دیکھ کر تالیاں بجا رہے تھے ۔ پاکستان کی جیت کے بعد ٹوئیٹر پر صارفین نے ان تینوں کو پنوتی کہہ کر ہندوستان کی ہار کے لیے ذمہ دار ٹھہرادیا تھا ۔
مودی 3.0کے ساتھ ’تین تگاڑا کام بگاڑا‘ کا معاملہ ہورہا ہے۔ ایودھیا کےجس مندر کا افتتاح مودی جی نےکیا اس کی چھت سے پانی ٹپک گیا ۔ ایودھیا جنکشن کا افتتاح مودی جی نے کیا تھا اس کی دیوار گرگئی۔ راجکوٹ ہوائی اڈے کے نئےٹرمینل کا افتتاح وزیر اعظم نے جولائی 2023 کو کیاتو اس کے پک اپ اور ڈراپ ایریا کی چھت گرگئی۔ لکھنؤ کے اڈانی ایئرپورٹ پر ٹرمینل 3 میں بارش سے چھت ٹپکنے کی ویڈیو منظر عام کرکے کانگریس نے یاد دلایا کہ نریندر مودی نے 10 مارچ 2024 کو اس کا افتتاح کیا تھا۔ عوام اب ایئرپورٹ پہنچ کر انکوائری کاؤنٹر پر یہ پتہ لگاتےہیں کہ اس کا افتتاح مودی جی نے تو نہیں کیا؟ راجدھانی دہلی میں بارش کے دوران اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی چھت گر گئی ۔ اس کے سبب ایک شخص فوت ہو گیا اور کئی لوگ زخمی ہو گئے ۔ مدھیہ پردیش کے جبل پورمیں 27 جون کو نو تعمیر شدہ ڈومنا ہوائی اڈے کے ڈراپ اینڈ گو ایریا میں چھت پھٹ جانے کی وجہ سے پانی کا سیلاب آ گیا ۔ اس سے ایک گاڑی تباہ ہو گئی جبکہ محکمہ انکم ٹیکس کا ایک اہلکار اور اس کا ڈرائیور بال بال بچ گئے۔ اتفاق سے یہ سارے حادثات ڈبل انجن والی سرکاروں میں ہوئے۔ان حادثات سے قبل دو ریل گاڑیوں کے ٹکراو سے مودی جی کی نئی مدتِ کار کا منحوسیت آمیز آغاز ہوا ۔
ایوان کے پہلے اجلاس سے قبل نییٹ اور پھر نیٹ کے پیپرس بھی مندر کی چھت کی مانند لیک ہوگئے۔ ان مقابلہ جاتی امتحانات کا تعلق چونکہ لاکھوں طلبا سے تھا اس لیے اس پر ایوان پارلیمان میں بحث کامطالبہ فطری تھا لیکن مودی سرکار کے لیے اس کی اجازت دینا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے جیسا تھا۔ اس بدعنوانی کا تعلق گودھرا(گجرات)، پٹنہ(بہار)، الہ باد اور نوئیڈا(یوپی)، سوائی مادھو پور(راجستھان) ، روہتک (ہریانہ)، ناندیڑ(مہاراشٹر) اور بھوپال (مدھیہ پردیش) جیسے شہروں سے جڑ چکا ۔ اتفاق سے ان تمام صوبوں میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار ہے ۔ اس لیے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ آخر’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘؟ یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان حلف برداری کے لیے آئے تو ایوان پارلیمان شرم شرم ، نییٹ نییٹ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ آگے چل کر جب حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اس اہم مدعا پر اصرار کیا تو ان کا مائک بند کردیا گیا۔پیپر لیک سے مندر لیک تک کے واقعات حکومت کی کمزوری کا ثبوت ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب مودی کی نئی سرکار بھی ہوا کےجھونکے سے چھت، دیوار اور چھجے ّ کی طرح زمین بوس ہوجائے۔
مرکزی حکومت کے اندر چہار جانب سے رساو کو چھپانے کی خاطر وزیر اعظم نے پہلے ہی دن سے ایمرجنسی کا راگ چھیڑ دیا ۔ بات دراصل یہ ہے کہ موجودہ انتخاب میں مودی کی آمریت اور آئین دشمنی اس قدر کھل کر سامنے آگئی کہ اب اس کا انکار ناممکن ہے ۔ اس لیے اب وزیر اعظم کے پاس صرف یہی چارہ رہ گیا ہے کہ وہ بتائیں ان سے زیادہ آئین کی دشمن کانگریس ہے اور یہ ثابت کرنے کی خاطر انہیں 49سال پرانی ایمرجنسی کا راگ الاپنا پڑا۔ اس حکمتِ عملی کے اندر یہ پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ اب کانگریس کو مسلم دوست یا ہندو دشمن کہہ دینا کافی نہیں ہےکیونکہ لوگ اس جھانسے میں نہیں آتے ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کو آئین کا دشمن کہا جارہا ہے جو ہندوتوا کے منافرت آمیز بیانیہ کی شکست کا اعتراف ہے۔ مودی نے اپنے آمرانہ رویہ کو بدلنے کے بجائے کانگریس کو اپنے سے بڑا ڈکٹیٹر ثابت کرنے کی مہم میں اسپیکر کے ساتھ صدر مملکت کو بھی شامل کرکے دونوں کی مٹی پلید کروادی۔
وزیر اعظم کے مشیروں میں رتیّ برابر بھی عقل ہوتی تو وہ انہیں ایمرجنسی کو مدعا بنانے کا مشورہ نہیں دیتے۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ کہ ایساکرنے سے مودی کی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا اندرا گاندھی کی اعلان کردہ ایمرجنسی سے موازنہ شروع ہوگیا اور وہ بری طرح پھنس گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایمرجنسی اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ دونوں صورتوں میں بری شئے ہے مگر اعلان شدہ ہوتو اس کو کچھ حدود و قیود کا پابند ہونا پڑتاہے جبکہ بغیر اعلان کے وہ بالکل شتر بے مہار کی مانندجہاں چاہے منہ مارتی پھرتی ہے یعنی دونوں میں پالتو اور نیل گائےکا فرق ہے۔ دونوں کی مدت کارمیں بھی بہت بڑا تفاوت ہے۔ اندرا گاندھی نے 21 مہینوں بعد ایمرجنسی اٹھالی مودی تو دس سال بعد بھی اٹھانے کا نام نہیں لیتے ۔ اندرا گاندھی نے تو انتخاب سے پہلے ایمرجنسی اٹھا کر سارے مخالفین کو رہا کردیا تھا جبکہ مودی سرکار نے انتخاب سے قبل پکڑ دھکڑ تیز کردی۔سابق وزیر اعلیٰ جھارکھنڈ ہیمنت سورین الیکشن کے دوران جیل میں رہے اور اروند کیجریوال کو باہر آنے سے روکنے کے لیے سرکاری وکیل نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اندرا گاندھی کو الیکشن کی حدتک حزب اختلاف کا خوف نہیں تھا مگر موجودہ مودی سرکار نہایت بزدل ہے۔
ویسے کانگریس نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے قوم سے معافی مانگ لی لیکن مودی جی سے یہ ناممکن ہے۔ وہ تو نہ چین کی گھس پیٹھ کو تسلیم کرتے ہیں اورنہ انتخابی شکست کو مانتے ہیں۔ گھمنڈ میں غرق مودی کا حقائق سے انکار کرکے اپنی غلطیوں کو اصرار ہی ان کی پہچان ہے۔ ایمرجنسی کے بارے میں لمبی چوڑی ہانکنے والے وزیر اعظم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی مادرِ تنظیم آر ایس ایس نے اندراگاندھی کے سامنے رحم کی درخواست کرنے کے ساتھ اس کی تعریف بھی کی تھی۔ سر سنگھ چالک بالا صاحب دیورس نے کئی بار یروڈا جیل سے اندرا گاندھی کو معافی نامہ لکھ کر جئے پرکاش نرائن سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے ساتھ بدنامِ زمانہ 20؍ نکاتی پروگرام میں تعاون کا یقین دلایا تھا۔ اندرا گاندھی کو جئے پرکاش کےساتھ تحریک نہیں چلانے کا وعدہ کرکے اٹل جی پیرول پر باہر آئے تو جیل نہیں لوٹے۔ مودی خود بھی گرفتار ہونے کے بجائے انڈر گروانڈ ہونے کا بہانہ بناکر چھپتے پھر ے تھے ۔ یہ سارے انکشافات کسی اربن نکسل نے نہیں بلکہ خود ساختہ عظیم ترین ہندوتوا نواز ، بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے ’دی ہندو اخبار ‘ میں کیےتھے۔
وزیر اعظم اور اسپیکر کے ایمرجنسی والے بیانات کو سن کردنیا حیران ہے کہ آخر یہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں ۔ انہیں پچاس سال پرانی ایمرجنسی تو یاد ہے مگر وہ 1992میں بابری مسجد کی شہادت بھول گئے جسے ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے بھی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا ۔ اب درسی کتابوں میں بابری مسجد کو تین گنبد والی عمارت کہنے سے وہ جرم ِ عظیم چھپ نہیں سکتا۔ ان کو گودھرا کے فسادات کی یاد بھی نہیں آتی جس نے دوہزار لوگوں کو موت کے منہ میں ڈھکیل دیا۔ بھیما کورے گاوں کے جھوٹے مقدمہ میں گرفتار دانشور وں کا خیال نہیں آتا جن میں سے کئی ہنوز پابند سلاسل ہیں۔جن کو ضمانت پر چھوڑاگیا وہ بھی پریشان ہیں۔ بی جے پی کو این آر سی تحریک کے دوران ملک بھر میں طلبا اور خواتین پر کیے جانے والے مظالم کی یاد نہیں آتی جنھیں لباس دیکھ کر پہچانا جارہا تھا۔ مودی کو وہ سیکڑوں کسانوں کا خیال نہیں آتا جو دہلی کی سرحد پر اپنی جان گنوا بیٹھے اور ابھی حال میں منی پور کے اندر ہونے والے مظالم کی یاد بھی نہیں آتی کہ جس کی خاطر منی پور بی جے پی کے صدرفی الحال وزیر داخلہ سے گہار لگا رہے ہیں مگر موصوف مرکزی سرکار کو بچانے کی جوڑ توڑ میں مصروفِ عمل ہیں ۔ ایمرجنسی کا ذکر چھیڑ کر مودی نے جی خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ہے ۔ مودی سے راگ ایمرجنسی سننے کے بعد ابن انشا کے یہ دو مصرع(مع ترمیم ) یاد آتے ہیں؎
مودی جی اٹھو اب کوچ کرو سرکار میں جی کو لگانا کیا
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
Like this:
Like Loading...