Skip to content
ظریفانہ: ہار مری مجبوری بھی ہو سکتی ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن بجرنگی نے کلن ترنگی سے پوچھا بھیا جیتے تو ہم ہیں اور خوشی تم منارہے ہو کیا بات ہے؟
کلن بولا میری خوشی سے تم کو کیا ؟ میں نے تمہیں جشن منانے سے منع تھوڑی نا کیا ہے؟ ناچو گاو مستی مناو ہم کو کیا؟
جی ہاں ہم 27 سال کے بعد کامیاب ہوئے ہیں اس لیے ہماراجشن تو واجب ہے مگر تمہارے یہاں تو زیرو بٹا سناٹا ہونا چاہیے۔
سناٹا کیوں ؟ گیارہ سال بعد ہمارے ووٹ کے گراف نے کروٹ لی ہے اور ہم نےنیچے کے بجائے اوپر کی جانب پیش قدمی کی ہے ۔
یار کلن صفر کے آگے پیچھے صفر بڑھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ نہ بھولو کہ تم لوگ اس بار بھی اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے۔
بھائی میں ووٹ کے تناسب کی بات کررہا تھا دیکھو 1998اور2003 میں ہم لوگ 48 فیصد پر تھے مگر 2008 میں 40 پر آگئے ۔
مجھے پتہ ہے لیکن پھر بھی تمہاری سرکار تو بن گئی نا ؟
جی ہاں کیونکہ تم لوگ 36 فیصد پر تھے مگر پھر 2013 میں عآپ آئی اور ہم لوگ لڑھک کر 25 پر آگئے وہ ہمارا 15فیصد ووٹ کھا گئی۔
للن نے سوال کیا ارے بھیا اس نے ہمارا ووٹ بھی تو کھایا ہوگا؟
جی ہاں مگر تمہارا نقصان صرف 3؍ فیصد کا تھا ۔ اس کے بعد 2015 میں جب وہ 29 فیصد سے بڑھ کر 54 پر پہنچی تو ہم لوگ10 پر آگئے ؟
للن نے پھر پوچھا ، اچھا تو ہمارا کیا ہوا؟
کلن بولا تمہا راصرف ایک فیصدی نقصان ہوا بلکہ 2020 میں تو تم لوگوں نے 6فیصد ووٹ بڑھا لیے جبکہ ہم لوگ گھٹ کر 4فیصد پر پہنچ گئے ۔
للن بولا یار 48سے 4 فیصدیہ تو بہت بری حالت ہوگئی ؟
جی ہاں مگر اس بارہم لوگ 6.4 فیصد پر پہنچے ہیں ۔ یہی خوشی ہے اگر کیجریوال کے ساتھ لڑتے تو یہ بھی نہ ہوتا کیونکہ کم سیٹوں پر لڑنا پڑتا۔
اچھا اب سمجھ میں آیا کہ جئے رام رمیش یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ’ اگلی بار کانگریس سرکار‘ مگر یہ تو مونگیری لال کے حسین سپنے ہیں ۔
بھائی تمہیں یہ تو ماننا پڑے گا کہ دس سال بعد ہم دہلی میں اکیلے مگر الیکشن لڑتے ہوئے دکھائی دئیے ۔ سارے لوگ ہمارے خلاف تھے ۔
اچھا تو کیا تمہیں اروند کیجریوال کو ہرانے کے لیے بی جے پی سے الحاق کی توقع تھی ؟ یار تم بھی شیخ چلی کے خوابوں میں کھوئے رہتے ہو ۔
کلن بولا جی نہیں ہمیں کیجریوال اور سماجوادی پارٹی سے امید تھی کہ وہ بی جے پی کو روکنے کے لیے ہمیں ساتھ لیں گے ۔
کیوں ؟ وہ تمہارے رشتے دار ہیں کیا ؟
اچھا یہ بتاو کہ تم لوگوں نے جے ڈی یو اور ایل جے پی کے لیے ایک ایک سیٹ کیوں چھوڑ دی ؟ ان سے کوئی رشتے داری ہے کیا؟
ارے بھیا وہ ہماری این ڈی اے کا حصہ ہیں اور ہماری سمجھ میں یہ آگیا ہے کہ ’بٹیں گے تو کٹیں گے‘۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
وہ لوگ تو پہلے بھی متحدہ جمہوری محاذ شامل تھے لیکن تم لوگ انہیں گھاس کہاں ڈالتے تھے ؟ اب ان پر اتنا پیار کیوں آرہا ہے؟
دیکھو بھائی پہلے ہم ان کے محتاج نہیں تھے لیکن فی الحال ہماری سرکار بیساکھیوں پر سوار ہے ۔ اس لیے الحاق میں شامل لوگوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
یہ ہوئی نا بات؟ یعنی کسی کے ساتھ رہو تو اس کاپاس و لحاظ رکھو ۔ ملک میں ایک انڈیا محاذ بھی ہے اور اس میں عآپ اور کانگریس دونوں شامل ہیں۔
مجھے معلوم ہے لیکن تم لوگوں نے عآپ کو اپنے ساتھ ہاتھ کیوں نہیں ملایا؟ عمر عبداللہ نے صحیح کہا ’اور آپس میں لڑو‘۔
بھیا ایک بات بتاو اگر این ڈی اے میں شامل جماعتیں بی جے پی کو ہی اس میں نکالنے کی بات کرنے لگیں تو کیا ہوگا ؟
ہم اسے این ڈی اے سے نکال باہر کریں گے ۔
اچھا یہ بتاو کہ اروند کیجریوال نے ایسا کرنے کی کوشش کی یا نہیں ؟
للن نے کہا وہ ایسا کیونکر کرسکتے ہیں ۔ اس طرح تو یہ محاذ ازخود ختم ہوجائے گا ۔
درست بات ہے لیکن جب کوئی یہ کہتا ہے کہ این ڈی اے کی کمان راہُل یا کھڑگے کے بجائے ممتا بنرجی کے حوالے کی جائے تو اس کا کیا مطلب؟
اس کے یہی معنیٰ ہیں کہ این ڈی اے کا سربراہ پردھان جی کے بجائے نتیش کمار کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے ۔
کلن نے سوال کیا تو کیا ایسی تجویز کو تم لوگ قبول کرلو گے؟
ہرگز نہیں۔ ہم ایسی بات کرنے والے پر قوم دشمنی کا الزام لگا کر جیل میں ڈال دیں گے ۔
دیکھو للن تمہارے پاس سرکار اور انتظامیہ ہے۔ تم جو چاہو کرسکتے ہو لیکن ہمارے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ توہم کیا کریں ؟
کیا تم لوگ ایسے آدمی یا اس کی پارٹی کو محاذ سے نکال باہر بھی نہیں کر سکتے ہو؟
کرتو سکتے ہیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ عآپ نے جب ہمارے بغیر اکیلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو ہم بھی اپنے بل پر تنہا میدان میں اترگئے ۔
للن بولا ہاں یار مرتا کیا نہ کرتا ؟ لیکن اب میرا سوال ہے کہ کیجریوال نےتم لوگوں کو ساتھ کیوں نہیں لیا ؟
ارے بھائی سنا ہے کہ انہیں ضمانت اسی شرط پر ملی تھی کہ وہ کانگریس کو دور رکھیں گے اس لیے مجبوراً انہیں دور رہنا پڑا۔
للن بولا اچھا لیکن اپنی اس حرکت کی وجہ سے اسے اقتدار گنوانا پڑا۔ یہ کون سی دانشمندی ہے؟
جی ہاں لیکن یہ بات اب ان کی سمجھ میں آئی ہوگی لیکن انتخاب سے قبل وہ ہوا میں تھے ۔ ان کی سوچ بالکل مختلف تھی ۔
اچھا وہ کیا تھی ؟ ہمیں بھی تو پتہ چلے ؟ تم اندر کے آدمی ہو۔
بھائی للن ان خیال تھا کہ پچھلی بار ان کے اور بی جے پی کے بیچ جو پندرہ فیصد ووٹ کی کھائی ہے وہ اسے عبور نہیں کرپائے گی۔
للن بولا سمجھ گیا انہوں نے سوچا کہ بی جے پی کو ہرانے کی خاطر وہ کانگریس کے محتاج نہیں ہیں ۔
صحیح پکڑے ۔ ان کی سمجھ تو یہ بھی تھی کہ انہیں جیل میں ڈال کر جو غلطی بی جے پی نے کی ہے اس کے سبب وہ ہمدردی کے اضافی ووٹ پائیں گے۔
ہاں یار یہ بھی صحیح ہے ۔ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین کو دیکھو انہیں گرفتار کرنےکی غلطی کرکے ہم نے بلا وجہ ان کو پھر سے کامیاب کر دیا ۔
یہی تو فرق ہے سورین اور کیجریوال میں کہ وہ کوئی ڈیل کرکے باہر نہیں آئے اوران کے دماغ میں غرور نہیں تھا مگر یہاں تو رعونت آسمان پر تھی ۔
اچھا کلن یہ بتاو کہ بار بار تم دماغ کے اندر کی بات کرتے ہو ۔ تم کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ کس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟
ارےبھائی یہ کوئی راکٹ سائنس تھوڑی نا ہے۔ انسانی رویہ ،سوچ کاغماز ہوتا ہے۔ یہ بتاو کہ کیا ہیمنت سورین نے کبھی اکیلے لڑنے کی بات کی؟
ہاں یار تمہاری بات درست ہے انہوں نےپردھان جی کی بات پر عمل کیا ’ایک ہیں تو سیف ہیں‘ اور اس کا فائدہ اٹھایا۔ پردھان جی کے کیا کہنے؟
کلن بولا لیکن یہ بات بھی ہے جھارکھنڈ میں تم لوگ آپس میں لڑتے رہے ورنہ اتنی بری طرح نہیں ہارتے ۔
یہ صحیح ہے لیکن شکست کی بنیادی وجہ ہماری فرقہ وارانہ مہم تھی ۔ دہلی میں ہم نے اپنی اصلاح کی اور اس کا فائدہ ملا ۔
کلن بولا ہم لوگوں نے بھی کیجریوال کوجتا دیا کہ اگر ہمارے ساتھ الحاق کرتے مزید 14سیٹ جیت کر سرکار بنا سکتے تھے ۔
جی ہاں اب کیجریوال اور ممتا بنرجی کو کانگریس کے ساتھ رہنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی اور راہُل کو ہٹانے کی تو وہ کبھی نہیں سوچیں گے ۔
کلن نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ مسلمانوں نے ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیا ورنہ ہم لوگ بڑی آسانی سے 15فیصد ووٹ پالیتے۔
للن بجرنگی بولا وہ دیکھو سامنے دوکان میں جمن پتنگی چائے پی رہا ہے اسی سے پوچھتے ہیں ۔
کلن ترنگی نے سوال کیا بھیا جمن یہ بتاو تم لوگوں نے ہمارا ہاتھ کیوں نہیں تھاما؟ اور پھر ایک بار گیارہ میں دس جگہ جھاڑو کیوں چلا دیا۔
جمن بولا ارے بھائی اگر کیجریوال مصطفیٰ آباد میں طاہر حسین کو ٹکٹ دیتا تو اسے بھی کامیاب کردیتے لیکن وہ بنیا ڈر گیا ۔
للن نے سوال کیا وہ تو ٹھیک ہے مگر دہلی کے فساد میں سرد مہری کے باوجود یہ رویہ سمجھ میں نہیں آیا ۔
جمن بولا بھیا اس بار ہم نے کیجریوال کو پیغام دیا ہے کہ بی جے پی سے لڑنا ہے تو ہندووں کے بجائے ہم پر بھروسا کرو ورنہ منہ کے بل گروگے۔
للن نے پوچھا لیکن کیا وہ کوئی سبق لے گا؟ تمہیں ایسی توقع ہے؟
اگر وہ سبق لے گا تو اس کا بھلا ورنہ ہم لوگوں کے پاس متبادل موجود ہے لیکن اس بارکم ازکم بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا الزام ہم پر نہیں ہے ۔
کلن بولا مگر پھر بھی ہم لوگ جیت ہی گئے نا؟
سو تو ہےلیکن اگر یہ دس بھی بڑھ جاتیں تو کیجریوال جیسی جیت ہوتی ۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں تم لوگ اس طرح نہیں جیت سکے۔ یہی کافی ہے۔
کلن نے للن سے کہا چلو چلتے ہیں اور جمن سے دور جانے بعد بولا یار اس کے دونوں امیدوار ہار گئے پھر بھی کتنا پرسکون ہے۔
ارے یار ان کی تو ساری خوشی ہمارے نقصان میں ہے ؟
اور تمہاری ؟
ان کی ایذارسانی میں ہے۔ یہی تو جنگ ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...