Skip to content
انٹونی بلنکن سےسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر تک
سارے یہودی کیوں؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کملا ہیرس کو ہرا کر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ صدر تو منتخب ہوگئے لیکن انہیں سوچنا چاہیے کہ جو بائیڈن نے ایسی کون سی غلطی کردی تھی جس نے ان کی ولیعہد کو تاریخی شکست سے دوچار کردیا ۔ جو بائیڈن انتظامیہ کی سب بڑی غلطی انٹونی بلنکن جیسے یہودی کو وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز کرنا تھی ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ بلنکن کی ہر بات کو مانتے چلے گئے یہاں تک کہ ساری دنیا میں پوری قوم کی مٹی پلید ہوگئی؟ ٹرمپ نے بھی ایک یہودی رئیل اسٹیٹ ٹائکون سٹیو وٹکوف کو مشرق وسطیٰ کے لیےاپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔وہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا ساتھی ہے۔ پچھلے سال جب غزہ میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی جیرڈ نے کہہ دیا تھا کہ غزہ کا ساحل بہت خوبصورت ہے اور وہاں لگژری ریسٹورنٹ اور ولاز بن جائیں تو دنیا بھر سے لاکھوں سیاح آئیں گے۔ وہ سربیا اور البانیہ کے جنگ سے تباہ حال علاقوں میں لگژری ولاز بنا تے ہوئےغزہ کی زمین پہ قابض ہو کر اربوں ڈالر کمانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔برطانوی ملوکیت اورامریکی جمہوریت میں فرق کرنے والوں سے اقبال نے یہی کہا تھا ؎
کاروبار شہر یاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
عقلمند انسان اپنے پیش رو کی غلطی سے سبق سیکھتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ خود بھی اسی گڈھے میں جاکر گرجاتا ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کی رسوائی سے اگر ٹرمپ نے عبرت نہیں پکڑی تو اس کا انجام بائیڈن سے برا ہوگا ۔ ۷؍ اکتوبر کے ۵؍ دن بعد جو بائیڈن نے بلنکن کو مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر روانہ کیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل پہنچے ۔ انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کے سامنے پہلے تو ہولوکاسٹ سے بچنے کے اپنے خاندان کی تاریخ بیان کی اور پھر کہا کہ وہ "صرف سیکرٹری آف سٹیٹ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک یہودی کے طور پر بھی” آئے ہیں ۔ اس بیان کے بعد اگر خارجہ پالیسی کی ذمہ داری سے بلنکن کو ہٹا کر کسی معقول آدمی کو وہ کام سونپا جاتا تو نہ غزہ میں وہ عظیم تباہی برپا ہوتی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ایسی درگت بنتی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی ۔ اپنے بیہودہ بیان نے بعد بلنکن نے لیپا پوتی کے لیے غزہ کی شہری آبادی کے تحفظ کا مطالبہ تو کیا لیکن اس سے پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ ، ” وزیر اعظم (نیتن یاہو) ، میں ذاتی سطح پر سمجھتا ہوں کہ حماس کے قتل عام کی وجہ سے ہر جگہ اسرائیلی یہودیوں کے ساتھ ساتھ (دیگر) یہودیوں کے لیے بھی دردناک بازگشت ہے۔” وہ بولے :”میں اسرائیل کے لیے یہ پیغام لاتا ہوں کہ آپ اپنے دفاع کے لیے اپنے طور پر کافی مضبوط ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب تک امریکہ موجود ہے، آپ کو کبھی بھی ایسا نہیں کرنا پڑے گا” ۔
انٹونی بلنکن کی جانبداری نے یہ ثابت کردیا کہ وہ اسرائیل اورفلسطین کے درمیان امن و انصاف قائم کرنے کے لیے اہل نہیں ہیں اس کے باوجود انہیں نکال باہر کرنے کے بجائے صدر بائیڈن نے 2021 سے لے کر پوری مدت کار تک سیکرٹری آف سٹیٹ کی ذمہ داری ادا کرنے کا موقع دیا اور وہی غلطی بائیڈن سمیت پارٹی کو لے ڈوبی ۔ انہوں نے ان پندرہ ماہ میں مشرق وسطیٰ کے بے شمار دورے کیے اور خوب چکنی چپڑی باتیں کیں مثلاً ایک بار کہا "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے، درحقیقت یہ اس کی ذمہ داری ہے،” لیکن پھر یہ شرط لگائی کہ "اسرائیل یہ کیسے کرتا ہے، اہم ہے۔ ہم جمہوریتیں انسانی جانوں کی قیمت لگا کر خود کو دہشت گردوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اس لیے ہر طرح کی احتیاط برتنا ضروری ہے۔ ہم ہر جان کے ضیاع پر ماتم کرتے ہیں۔” غزہ میں اسرائیل بربریت نے یہ ثابت کردیا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اسرائیل سرکار ہے اور اسے امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اس لیے وہ بھی اس میں برابر کا شریکِ کار ہے۔ جمہوریت کی پذیرائی اور امن و سلامتی کا یہ راگ دراصل انگور نہیں ملے تو کھٹے والی کہاوت کی مصداق ہے کیونکہ حماس نے بیک وقت اسرائیل اور امریکہ سمیت سارے حواریوں کے دانت کھٹے کردئیے ۔ حماس نے اپنے جہاد سے مغربی جمہوریت کی نیلم پری کو بے نقاب کردیا ۔ اس کے چہرے پر پڑی چمکدارنقاب کو ہٹایا گیا تو اس کابدنما چہرا سب کے سامنے آگیا بقول اقبال ؎
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!
انٹونی بلنکن سے ایک مرتبہ انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ اسرائیل کے ’’حماس کو پوری طرح نیست و نابود کردینے کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں ‘‘تو ان کا جواب’ہاں ‘ تھا لیکن یہ مشیت ایزدی کا کرارہ طمانچہ ہے بے آبرو ہو کراقتدار سے بے دخل ہو تے ہوتے انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ، حماس نے تقریباً اتنے جنگجو بھرتی کرلیے جتنے جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔بلنکن کا یہ بیان، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس عہد کی ذلت آمیز شکست تھا جس میں انھوں نے غزہ سے حماس کے خاتمہ کو مکمل فتح سے منسلک کیا تھا ۔یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ اس جنگ میں اپنے کئی اعلیٰ رہنماوں کی شہادت کے باوجود حماس کمزور ہونے کے بجائے مضبوط تر ہوگیا ۔ جنگ بندی کے بعد یرغمالیوں اور ان کے عوض تیس مقابلے نوےّ اور پھر چار کے بدلے دوسو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے وقت ہتھیا ربند مجاہدین اسلام کی ویڈیوز اور ان کی قوت اور زبردست عوامی تائید کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہ مقبولیت نہ تو نیتن یاہو کو حاصل ہے اور نہ ٹرمپ کو جہاں تک بائیڈن اور بلنکن کا تعلق ہے وہ تو ذلیل ہوکر رخصت ہوگئے جبکہ حماس نے اسرائیل کو اپنی شرائط پر جھکنے کے لیے مجبور کردیا ۔
امریکہ کی تاریخ میں کسی وزیر خارجہ کا الوداعیہ انٹونی بلنکن جیسا رسوا کن نہیں تھا ۔ اٹلانٹک کونسل میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ عام شہریوں کا تحفظ ضروری ہے اور اسرائیل نے غزہ پر حملے کے دوران عام شہریوں کے تحفظ میں کوتاہی کی ہے۔ وہ بولے اسرائیل ہر علاقے پر حملہ کر رہا ہے اورپورا غزہ عام شہریوں کے لئے غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ بلنکن یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کے لئے زیادہ کوشش کی جانی جاہیے کیونکہ اسرائیل نے عام شہریوں کے تحفظ کا جووعدہ کیا ہے اس میں اورزمینی حقائق میں بہت فرق ہے۔ ہزاروں افراد مارے گئے ہيں۔ اس لیپا پوتی کے خلاف پریس کانفرنس میں موجود ایک شخص نے فلسطین کی حمایت میں نعرے لگا کر انٹونی بلنکن کو جنگی جرائم کا مرتکب مجرم قرار دے دیا۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے کو باہر نکالا۔ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے اختتامی ایام ان کے گلے کی ہڈی بن گئے تھے ۔ انہیں آخری 48 گھنٹوں میں غزہ اور اسرائیلی جنگ پر شدید ردعمل نیز بڑی بے عزتی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی وزیرِ خارجہ تو اپنی الوداعی پریس کانفرنس کو یادگار بنانا چاہتے تھے لیکن وہ ایک ڈراؤنا خواب بن گئی ـ اس پریس کانفرنس میں موجود 2 صحافیوں اور ایک خاتون نے غزہ جنگ پر شدید احتجاج کیا اور انٹونی بلنکن کو خوب کھری کھری سنا ڈالی جس سے افرا تفری پھیل گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران جب انہوں نےغزہ میں 15 ماہ کی جنگ کے دوران بائیڈن انتظامیہ کے فیصلوں اور پالیسیوں کا دفاع کرنا شروع کیا تو اس کے خلاف صحافی سام حسینی نے کھڑے ہوکرکہا ایمنسٹی انٹرنیشنل سے لے کر آئی سی جے تک ہر کوئی اسرائیل کونسل کشی اور قتل و غارت کامجرم پاتا ہے۔ اس کے باوجود آپ مجھے اس کی کارروائی کا احترام کرنے کو کہہ رہے ہیں؟اس احتجاج کو نظر انداز کردیا جاتا تو امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی ڈنکا پٹتا لیکن تھوڑی دیر بعد حفاظتی اہلکارحسینی کو وہاں سے زبردستی کر باہر لے جانے لگے۔ اس دوران صحافی نے کہا چھوڑو مجھے، مجھے تکلیف ہو رہی ہے، کیا تم اس کو آزاد میڈیا کہتے ہو؟ میرے ساتھ بدتمیزی مت کرو، مگر اہلکاروں نے انہیں گھسیٹا اور اٹھا کر باہر لے گئے۔حسینی نے جاتے جاتے غصے سے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کو مجرم کہہ کر امریکہ کے اندر اظہار رائے کی آزادی کاپول کھول دیا ۔
اس کے بعد بھی امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے غزہ میں امریکا کی پالیسیوں کے ساتھ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے لیے امریکہ کی حمایت کا دفاع کرنے لگے تو ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ جب مئی میں معاہدہ ہو گیا تھا تو پھر آپ غزہ میں بم کیوں برسا رہے تھے؟اس کے بعد صحافی نے امریکی وزیرِ خارجہ سے کئی سوالات کیے اور انہیں صہیونی قرار دے دیا۔صحافی زور زور سے پوچھتے رہے کہ آپ نے میرے دوستوں کا قتلِ عام کیوں ہونے دیا؟ آپ نے ان کے گھر کیوں تباہ ہونے دیئے؟اس احتجاج کے خلاف پھر ایک بار محکمۂ خارجہ کے اہلکار حرکت میں آئے اور اس صحافی کو بھی زبردستی وہاں سے اٹھا کر باہر لے گئے۔ اس نے بھی جاتے ہوئے انٹونی بلنکن کو ’نسل کشی کا سیکریٹری‘ کے لقب سے نواز دیا۔ان کا کہنا تھا کہ آپ کے سسر اور آپ کے دادا اسرائیل کے حامی تھے، کیا آپ اسرائیل سے سمجھوتہ کر رہے ہیں؟صحافی نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ہمارے دور کے ہولوکاسٹ کو کیوں ہونے دیا؟ آپ کی وراثت کو نسل کشی ہونے پر کیسا لگتا ہے؟ بلنکن بظاہرامن کے چولا اوڑھ ظلم کی حمایت کرتے رہے اور بالآخر سیکریٹری آف اسٹیٹ کے بجائے سیکریٹری آف جینو سائیڈ کا تمغہ پاکر رخصت ہوئے ۔یہی حال ٹرمپ کا بھی ہوگا وہ بھی نسل کشی کے صدر کا خطاب پاکر وداع ہوں گے اور دنیا اس وقت غالب کا یہ شعر پڑھے گی ؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
(بشکریہ رفیق منزل)
Like this:
Like Loading...