Skip to content
یوم عاشقان بے حیائی کے فروغ کا دن
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اہل مغرب نے تہذیب جدید کے نام پر سال کے مخصوص دنوں کی مخصوص تاریخوں کو کسی خاص شخصیت یا پھر کسی خاص کام کی طرف منسوب کرکے اسے بطور یاد گار منانے کا عوام میں رواج ڈ الا ہے ، یہ رواج اب مغرب سے نکل کر شمال ،جنوب اور پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ، لوگ اسے بڑے ذوق وشوق سے منانے لگے ہیں اور مغرب کی رائج کردہ چیزوں کو اپناکر خود کو تہذیب یافتہ اور مغرب کا پرستار ثابت کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں ، یہ لوگ آنکھیں بند کرکے اور انجام کی پرواہ کئے بغیر مغرب کی دیکھا دیکھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو ماڈرن بتانے لگے ہیں ،انہوں نے اسے تہذیب جدید اور آزاد فکر کا نام دیا ہے اور اسے نہ اپنانے والے کو دقیانوسی خیالات کا حامل بتاکر اسے ذہنی بیمار بتا تے ہیں ،اہل مغرب نے آزادی،ذہنی آسود گی اور ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ کا نام دے کر ایسی ایسی چیزیں لوگوں کے درمیان ایجاد کی ہیں جس نے دھیرے دھیرے پورے معاشرہ کو اپنے شکنجے میں کس دیا ہے ،کیا چھوٹے کیا بڑے ،کیامرد وخواتین ،کیا غریب وامیر اور کیا مغربی ومشرقی سبھی اس کے اسیر بن چکے ہیں اور بڑے اہتمام سے وہ سب کام کرنے لگے ہیں جسے مغرب نے ایجاد کیا تھا۔
مغرب نے جن بے ہودہ اور اخلاق سوز چیزوں کو فروغ دیا ہے ان میں سے ایک یوم عاشقان VALENTINE,S DAY بھی ہے جو ہر سال فروری کی چودہ تاریخ کو منایا جاتا ہے،اس دن بڑے اہتمام کے ساتھ لوگ اور خصوصا نوجوان لرکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو محبت کا پھول دے کر اپنی محبت وچاہت کا اظہار کرتے ہیں ، پوری دنیا یوم عاشقان اور یوم تجدید محبت (VALLENTINE’SDAY ) بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے ، اجنبی اور غیر محرم نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں ،محبت کا اظہار واقرار کرتے ہیں اور بطور نشانی کے سرخ گلاب پیش کرتے ہیں ، ایک دوسرے کو قیمتی تحفے وتحائف دیتے ہیں ، ہوٹلوں میں رقص وسرور کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ، نوجوان لڑکے لڑکیاں پارکوں کا رُخ کرتے ہیں اور وہاں ایک دوسرے کے باہوں میں باہیں ڈال کر بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں ،کہنے والوں نے بالکل سچ کہا ہے کہ اس دن بے حیائی عروج پر ہوتی ہے جسے دیکھ کر شائد شیطان بھی مسکراتا ہوگا اور اپنے آپ پر فخر کرتا ہوگا ۔
ویلنٹائن ڈے کی ابتدا کیسے، کب اور کہاں ہوئی اس کے متعلق بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں ،بعض تاریخ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ رومی عیسائیوں کے خوشی منانے کا ایک خاص دن ہے ، اس دن وہ تمام اخلاقی حدوں کو پارکرکے خوشی مناتے ہیں اوربعضوں کا کہنا ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نامی ایک پادری تھا جسے ایک راہبہ سے محبت ہوگئی تھی ،چونکہ ان کے مذہب کی رو سے ان دونوں کی شادی ممکن نہیں تھی چنانچہ اس پادری نے ایک من گھڑت خواب کا سہارا لے کر آپسی ملاپ کی راہ نکالی ، لیکن کلیسا کے اصولوں کے توڑ نے کے جرم میں اسے قتل کر دیا گیا ،اس کے بعد سے کچھ عاشق مزاجوں نے مل کر اس دن کو شہید محبت کا نام دے کر منانا شروع کیا، جن کے مزاجوں میں بے حیائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، ،جو حرص وہوس کے پجاری تھے،جن کے تن من میں آوارگی پڑی ہوئی تھی اور جو حرام لزتوں کے عادی تھے انہیں تو گویا ایک موقع ہاتھ لگ گیا ،انہوں نے نہ صرف اسے دھوم دھام سے منانا شروع کیا بلکہ اسے فروغ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، پھر کیا تھا دھیرے دھیرے یہ سلسلہ پھلتا اور پھیلتا گیا اور آج اسے تقریبا پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور بے حیائی کے فروغ دینے والوں کو مہذب اور معاشرہ کا اچھا طبقہ شمار کیا جاتا ہے ، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،بے حیائی کو فروغ دینے والے مہذب نہیں بلکہ بے حیا اور سنجیدہ معاشرہ کی نظر میں مجرم ہوتے ہیں ، ویلنٹائن ڈے یوم محبت نہیں بلکہ حقیقت نگاہی سے دیکھا جائے تو یہ یومِ بے حیائی ہے ، اس بے حیائی کے دن کو کل تک صرف مغربی ملکوں میں ہی منایا جاتا تھا افسوس کہ یہ بے حیائی وبے شرمی مغرب سے نکل کر ہمارے یہاں بھی پہنچ چکی ہے، بلکہ معاشرہ کا حصہ بنتی جارہی ہے،کسی زمانہ میں ہمارے معاشرہ میں بزرگوں کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنا،نظریں ملا کر دیکھنا ،بلند آواز سے ہنسنا اور گھر کے بڑوں کے سامنے میاں بیوی کا آپس میں بے تکلف بات کرنا معیوب اور تہذیب سے عاری سمجھا جاتا تھا،آج اسی معاشرہ کے نوجوان بڑے چھوٹوں کا لحاظ کئے بغیر اخلاقی حدوں کو پار کرتے ہوئے کھلے عام عشق ومحبت اور بے حیائی وبے شرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،تیرہ فروری کی شب ہی سے سوشل میڈیا اور خصوصا فون ،واٹس اپ اور فیس بک پر محبت کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، چودہ فروری کی صبح چوراہوں پر پھولوں اور تحائف کے اسٹال سجائے جاتے ہیں ،جہاں بڑی بے حیائی کے ساتھ نوجوان لڑکے لڑکیاں خریداری میں مصروف ہوتے ہیں ، ہمارے ملک کے بعض شہر اور ان کے بعض علاقے تو یورپ کے بعض شہروں کو بھی مات دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ، جس نوجوان نے کبھی اپنے ماں باپ ،بھائی بہن ، بڑے بزرگ اور قرابت داروں سے اس طرح محبت کا اظہار نہ کیا تھا ، آج وہی بڑی بے غیرتی کے ساتھ غیر محرم اور اجنبیوں سے اظہار محبت میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
یہ سب کام اگر غیر کرتے تو اتنا غم نہیں ہوتا تھا لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس طرح کے بے ہودہ ، بے شرم اور اخلاق سوز تہذیب سے عاری اور غیر اسلامی کاموں میں مسلمانوں کی خاصی تعداد بھی شریک ہے، ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں تہذیب اسلامی کو چھوڑ کر ،تعلیمات نبویؐ سے منہ موڑ کر نہایت بے شرمی کے ساتھ اس طرح کی بے ہودہ ،اخلاق سوز تقریبات میں شریک ہورہے ہیں اور اسے اپنے لئے باعث فخر تصور کر رہے ہیں، حلانکہ ان کی عزت وعظمت اسلام سے وابستہ ہونے اور اسلامی تہذیب کو گلے لگانے میں ہے ،مسلمان اپنے پاس تہذیب رکھتا ہے کہ اُسے پھر کسی تہذیب کی ضرورت نہیں ،وہ کسی کی تہذیب وتمدن سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ اپنی تہذیب وتمدن سے ضرور دوسروں کو متاثر کرتا ہے،مگر رونا اس بات کا ہے کہ مسلمان خود اپنی تہذیب وتمدن سے نا آشنا ہے،نہ اسے خدا کا حکم یاد ہے ،نہ رسول خدا ؐ کی تعلیمات یا د ہیں اور نہ ہی اسلامی تہذیب سے واقفیت ہے، اسلامی تہذیب وہ شائستہ تہذیب ہے جس نے پوری دنیا پر اپنی الگ چھاپ چھوڑی ، جسے گلے لگا نا باعث صد افتخار سمجھاگیا ، نہایت قلیل عرصہ میں اسلامی تہذیب نے پوری دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا، اسی تہذیب میں لپٹ کر بے بہت سے قبائل کو عزت وعظمت حاصل ہوئی اور بہت سی قوموں کو بلندی عطا ہوئی، جب سے مسلمانوں نے اس لباس کو نکال دیا تب سے وہ ننگے نظر آنے لگے ہیں ،ان کی شناخت مٹ چکی ہے وہ مغربی تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر ان کی تہذیب وتمدن اپناکر ذلیل وخوار ہورہے ہیں ، تاریخ گواہ ہے کہ جس وقت عرب کے صحراؤں میں اسلام آفتاب ہدایت بن کر طلوع ہوا تو اس کے نور سے سارا عالم جگ مگا اُٹھا ، دربدر بھٹکنے والے انسانوںکے لئے اسلام سایہ ٔ عافیت بن گیا اور اس کی آب حیات تعلیمات سے پژ مردہ انسانیت کو حیات نو حاصل ہوئی ،وہ آیا اور آتے ہی ساری دنیا پر چھاگیا ، اس نے ظلم کا قلع قمع کیا،بد امنی کا خاتمہ کیا،تعصبیت کی جڑوں کاٹ کر رکھ دیا ، بے حیائی اور آوارگی کو پیروں تلے روند ڈالا ، انسانوں کو جینے کا انداز بتایا اور زندگی گزار نے کا سلیقہ عطا کیا ،اس نے انسانوں کو ایسی لاجواب اور مہذب تہذیب عطا کی جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ، انسانوں کو انسانیت واخلاق ، تمیز وشرافت اور عزت وعظمت کی تعلیم دی اور درندگی وحیوانیت ،بدتمیزی وبد اخلاقی اور بے حیائی وآوار گی سے بچنے کی تلقین کی،اللہ کے آخری رسول ،انسانیت کے محسن ،دوعالم کے رحمت اور انسانوں میں سب سے ا علیٰ اخلاق وکردار کے حامل ذات جناب محمد الرسول اللہ ؐ ؐ نے اپنے اقوال وافعال اور اپنے عادات وخصائل کے ذریعہ انسانوں کے سامنے ایسے بلند وبالا اخلاق پیش کئے جس کی رہتی دنیا تک نظیر ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
آپؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ انسانوں کو جہاں توحید ورسالت ،عبادات ومعاملات کی تعلیم دی وہیں اچھے اخلاق وکردار اپنا نے کی عملی تربیت بھی دی ، شرم و حیا کو ایمان کا جزو قرار دے کر اس کی اہمیت کو واضح فرمادیا ،ارشاد فرمایا ’’ حیا ایمان کا جزو ہے‘‘ (ترمذی :۲۱۵) دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا’’حیا اور ایمان ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں جب ان میں سے ایک اٹھایا گیا تودوسرا بھی اٹھایا گیا‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ :۲۳۵۰) یعنی جس شخص میں حیا کی صفت موجود ہے تو اس میں ایمانی کیفیت بھی باقی ہے اور جس میں حیا نہیں تو اس میں کا مل ایمان بھی نہیں ، دراصل’’ حیا‘‘ شریعت کی اصطلاح میں انسانی طبیعت کی اس کیفیت کانام ہے جس سے ہر نامناسب اور ہر ناپسندیدہ کام سے اس کو انقباض ہو اور اس کے ارتکاب سے اذیت ہو جو درحقیقت ایمان کا تقاضہ ہے اور دین اسلام کا امتیازی وصف ہے۔
اسلام میں جہاں حیا کو ایمان اور نیکی کا درجہ حاصل ہے وہیں بے حیائی ،آوارگی کو نافرمانی اور گناہ کہا گیا ہے ، جو شخص حیا وایمان سے متصف ہوگا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا اور جس میں بے حیائی اور آوارگی پائی جائے گی وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہوکر جہنم میں داخل ہوگا ،آپ ؐ کاارشاد ہے کہ ’’ حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان (اہل ایمان) جنت میں ہیں ،اور بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی(والے) جہنمی ہیں‘‘ (ترمذی :۲۰۰۹ ، کہا وت مشہور ہے کہ چیونٹی کے پَر نکلنا اس کی موت کی نشانی ہے ٹھیک اسی طرح کسی قوم کا بے حیا ہوجانا ،اس کے اخلاق کا زوال پذیر ہوجانا اس کی تباہی وبربادی کی علامت ہوتی ہے، بے حیائی وبے شرمی موجب عذاب وعتاب ہے ،جن اسباب وعلل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ قوموں پر اپنا عذاب اتار تا ہے ان میں سے ایک بے حیائی بھی ہے ،چنانچہ جب وہ کسی قوم کو ہلاک وتباہ کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس سے حیا کی صفت ہٹا لیتا ہے اس کے بعد اس پر اپنے عذابکا کوڑا برساتا ہے ، آپؐ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے حیا کی صفت چھین لیتا ہے‘‘ (ابن ماجہ:۴۰۵۴)، اسلام کے اس قدر واضح احکامات اور پیغمبر اسلام کی اس درجہ پاکیزہ تعلیمات کے بعد کوئی بد بخت ہی ہوگا جو اس سے انحراف کرتے ہوئے اور اس کی تہذیب سے منہ موڑتے ہوئے غیروں کے طریقے پر زندگی گزارنے کی جرأت کرتا ہوگا، مسلمان جان لیں کہ وہ پابند شریعت قوم ہے ،وہ صرف خدا کے حکم اور رسولِ خدا ؐ ہی کے طریقے کی پابند ہے ،اسلامی تہذیب سے ہٹ کر اس کی نظر میں کسی اور کی تہذیب ناقابل قبول ہے ۔
ہر مسلمان کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مغربی تہذیب جو سراسر بے حیائی پر مبنی تہذیب ہے اس سے اپنے آپ کو دور رکھے اور خصوسا ماں باپ اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاص کر اپنے بچوں اور بچیوں کو ان بے ہودہ اخلاق سوز کاموں سے دور رکھیں ،ایسے دنوں میں ان پر مزید نگرانی رکھیں ،انہیں پیار ومحبت سے بتائیں کہ یہ طریقہ جسے لوگ بخوشی اپنا نے لگے ہیں دراصل یہ اس کا نہ اخلاقیات سے تعلق ہے،نہ محبت ومروت سے تعلق ہے ،نہ ہی سنجیدہ تہذیب وتمدن سے تعلق ہے اور نہ ہی اسلامی معاشرہ سے اس کی نسبت ہے بلکہ یہ غیر اخلاقی آزادی اور ذہنی آوارگی ہے جس کے اپنا نے محبت وتعلق پروان نہیں چڑھ رہا ہے ہاں بے حیائی تیزی سے فروغ پارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی نوجوان مرد وعورتیں گناہ میں مبتلا ہورہے ہیں ،گھروں سے فرار ہوکر اپنے گھر والوں کو ناراض بلکہ بدنام کرکے شادیاں رچا رہی ہیں اور بعض جھوٹی محبت کے جال میں پھنس کر آگے اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ،کہنے والے نے سچ ہی کہا ہے کہ بُرائی کا انجام بُرا ہوتا ہے اور بھلائی آخر بھلائی ہوتی ہے ۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...