Skip to content
سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھل کے دیکھ!
از : مفتی محمّد زبیر احمد اشرفی لاتوری
یہ فطری بات ہے کہ انسان جس سے محبت و عقیدت رکھتا ہے اس کے عادات و اطوار کو اپناتا ہے ، اور اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے ؛ کیوں کہ محبِ صادق اور عاشقِ حقیقی اپنی تمام تر توجہ کا مرکز اور قبلہ اپنے محبوب کی شخصیت ہی کو ٹھہراتا ہے ، پھر محبت کا یہ خوبصورت احساس اور قلبی رجحان انسان کو اپنے اسی پسندیدہ شخص کی طرح بننے پر مجبور کرتا ہے ، اور اسی کا گرویدہ بناتا ہے ؛ حتیٰ کہ انسان وہی دیکھنا چاہتا ہے جو اس کا محبوب دیکھتا ہے ، اور وہی سننا چاہتا ہے جو اس کا محبوب سنتا ہے ، اور وہی پڑھنا چاہتا ہے جو اس کا محبوب پڑھتا ہے ، اور وہی سب کچھ کرنا چاہتا ہے جو اس کے محبوب کو مطلوب ہوتا ہے ۔
الغرض! عاشق صرف اپنے گفتار اور کردار ہی میں نہیں ؛ بلکہ تمام حرکات و سکنات میں اتباعِ محبوب کو اپنے اوپر لازم کرکے ، اسی کے سانچے میں ڈھل کے محبوب کا عکسِ جمیل اور دوسروں کے لیے بہترین دلیل بن جاتا ہے ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان کی ایسی محبت کا حق دار کون ہے ؟ وہی واحد ہستی کہ جس سے محبت کئے بغیر ہمارا ایمان ناقص اور ادھورا ہے یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں
اسی لیے ارشادِ نبوی ہے : ” لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ “ (صحیح البخاري ، كِتَاب الْإِيمَانِ : ١٥)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا ؛ جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد ، اس کی اولاد ، اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں “
لیکن پتہ ہے محبت کیا ہے…..؟
المحبة هي الموافقة في جميع الأحوال، فإذا كان هذا الحب صادقًا فَإِنَّه لا بدَّ أَن يَحْمِلَ صاحبه على متابعة النبي صلى الله عليه وسلم، والعمل بسنته؛ وإن قدم على طاعته وامتثال أوامره شيئًا آخر، دل ذلك على عدم إتيانه بالإيمان التام الواجب عليه.
یعنی ” محبت “ اپنے محبوب کی تمام احوال میں موافقت کا نام ہے ،
پس یہ محبت اگر سچی ہوگی تو پھر یہ بات ضروری ہے کہ وہ محبت محب کو اپنے محبوب ﷺ کی (مکمل) اتباع پر آمادہ کریں ؛ ورنہ وہ اس شخص کے ناقص الایمان ہونے کی دلیل ہوگی ؛ نیز یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ محبوبِ کل جہاں ﷺ سے سب سے زیادہ محبت و عقیدت کا خدائی تمغہ پانے والے حضرات صحابہ کرام ؓ تھے ؛ کیوں کہ حضرات صحابہ کرام ؓ نے ہمدردی و خیرخواہی ، ایثار و قربانی ، جانثاری و وفا شعاری ، فدائیت و فانئیت اور ان سب سے بڑھ کر آپ ﷺ کی غایت درجہ اتباع کا جو عملی مظاہرہ پیش کیا جس کو دیکھ کر دنیا حیران ہیں ، اور ہر مؤرخ انگشت بدنداں ہے
تری اک نگاہ ناز کیا کام کر گئی
دو جہاں سنور گئے ، زندگی نکھر گئی
موجودہ دور کا تقاضہ ہے کہ آج یہی صفات ہم سب میں مطلوب و مقصود ہیں ؛ کیوں کہ اتباع کے بغیر محبت کے صرف زبانی دعوے اور کھوکھلے نعرے لاحاصل اور بے اعتبار ہیں ، ہمارے یہ زبانی دعوے جب اس فانی دنیا میں کارآمد ثابت نہیں ہوسکتے تو ابدی حیات اور دائمی زندگی میں کہاں نفع بخش ثابت ہوں گے ؟
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی خواہشاتِ لایعنی اور ہفوات نفسانی پر پیغام ربانی اور اتباعِ محبوبِ خداوندی کو ترجیح دیں!
اور نبی ﷺ کے طریقہ پر دل وجان سے عمل کریں ؛ کیوں کہ حقیقی کامیابی کا راز اتباعِ سنت ہی میں مضمر ہے ۔
ورنہ یاد رکھیں ! اگر ہم نے آپ ﷺ کی اطاعت و تابع داری پر کسی اور امر کو ترجیح دی تو پھر ہمارا ایمان ناقص اور ہماری زندگی اجیرن ہوجائے گی ، نتیجۃً دنیا تو اہلِ ایمان کی فہرست میں ہمیں شمار کرسکتی ہے ؛ لیکن بعد الموت خسارہ ہی خسارہ ہے ۔۔۔۔
نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
اللہ تعالیٰ ہمیں اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
Post Views: 35