Skip to content
بھارتی پارلیمنٹ میں اردو کی گونج: ایک خوش آئند آغاز
تحریر: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
یہ ایک غیر متوقع مگر خوش آئند لمحہ ہے کہ وہ حکومت، جس پر بارہا مسلم مخالف پالیسیوں کے الزامات لگے، جس کے دور میں اردو زبان کو بارہا حاشیے پر دھکیلنے کی کوششیں ہوئیں، آج اسی حکومت نے پارلیمنٹ میں اردو کے ترجمے کی سہولت فراہم کر کے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت، جسے عمومی طور پر مسلمانوں کے لئے تعصب کا حامل سمجھا جاتا ہے، آج ایک ایسی زبان کو اس کے حق کی ایک ہلکی سی جھلک دینے پر آمادہ ہوئی ہے، جو برصغیر کی تہذیب و ثقافت کی علامت ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف اردو زبان سے محبت کرنے والوں کو حیران کیا، بلکہ یہ ثابت کیا کہ حکومت اگر چاہے تو زبانوں کے تئیں اپنے رویے میں وسعت پیدا کر سکتی ہے۔
اردو، جس کی بنیاد صدیوں کی گنگا جمنی تہذیب پر استوار ہے، آزادی کے بعد سے مسلسل نظر انداز ہوتی رہی۔ اگرچہ آئینی سطح پر یہ ہندوستان کی 22 تسلیم شدہ زبانوں میں شامل ہے، مگر عملی طور پر اسے وہ مقام کبھی نہ مل سکا جو دیگر زبانوں کو حاصل تھا۔ آج جب پارلیمنٹ میں اسپیکر اوم برلا نے اعلان کیا کہ اردو ان چھ زبانوں میں شامل ہے، جن کے لیے ترجمے کی سہولت دی جا رہی ہے، تو یہ کم از کم رسمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے۔ اس اقدام سے پارلیمنٹ میں اردو بولنے والے نمائندوں کو آسانی ہوگی اور اردو اپنی گمشدہ شناخت کو تھوڑا سہارا دے سکے گی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی حکومت نے اردو کے لیے سنجیدگی دکھائی ہے، اور اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو یقیناً یہ اقدام نریندر مودی کا ایک روشن کارنامہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اردو داں طبقے نے ہمیشہ انگلیاں اٹھائی ہیں، مگر آج جب ایک مثبت قدم اٹھایا گیا ہے، تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کا اعتراف بھی کیا جائے۔ کیا یہ محض ایک رسمی اعلان ہے یا حکومت واقعی اردو کو اس کا حق دینے کے لیے سنجیدہ ہے؟ اگر مودی سرکار واقعی اردو کے تئیں دیانت دار ہے تو یہ سلسلہ یہیں رکنا نہیں چاہیے۔ اردو کو تعلیمی نصاب میں دوبارہ مضبوط مقام دینا ہوگا، سرکاری دفاتر میں اسے عملی زبان کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا، اور اردو صحافت کو وہ آزادی دینی ہوگی جو دیگر زبانوں کو حاصل ہے۔ اگر حکومت اس سمت میں مزید قدم بڑھاتی ہے، تو نریندر مودی کا نام تاریخ میں ان رہنماؤں میں لکھا جائے گا جنہوں نے ہندوستان کی تہذیبی وراثت کی حفاظت کی، اور اردو کے ساتھ ساتھ خود کو بھی امر کر دیا۔
یہ خوشی اپنی جگہ، مگر کیا یہ اردو کا وہ مقام ہے جس کی یہ حق دار تھی؟ کیا اردو صرف پارلیمانی ترجمے تک محدود رہے گی، یا حکومت آگے بڑھ کر اسے ایک زندہ زبان کے طور پر ترقی دینے کے عملی اقدامات کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو وقت کے ساتھ جواب طلب رہیں گے۔ اگرچہ آج کا دن اردو کے لیے ایک روشن دن ضرور ہے، مگر یہ روشنی تب ہی مکمل کہلائے گی جب اردو کو اسکولوں، یونیورسٹیوں، دفتری معاملات، اور عوامی زندگی میں دوبارہ وہ عزت ملے گی جو کسی بھی زبان کا بنیادی حق ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مودی سرکار اس چھوٹے مگر معنی خیز قدم کو ایک بڑی تحریک میں بدل دے گی، اور اردو کو صرف زبانی جمع خرچ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک حقیقی سرکاری زبان کے طور پر فروغ دے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ محض اردو کی فتح نہیں ہوگی، بلکہ ہندوستان کی تہذیبی تکثیریت کی بھی جیت ہوگی۔ اور اگر مودی سرکار اردو کو اس کے جائز حقوق سے مکمل طور پر نواز دیتی ہے، تو آنے والی نسلیں نہ صرف اردو کو زندہ دیکھیں گی بلکہ نریندر مودی کا نام بھی ہمیشہ کے لیے اردو کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...