Skip to content
ٹیرف کی لڑائی میں کس کی کمائی
ازقلم:ڈاکٹرسلیم خان
وزیراعظم نریندر مودی کو امریکہ جانے سے قبل نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ فرانس پہنچ گئے ۔ ماحول بنانے کی خاطروہاں ہندوستان کی میزبانی اور فرانس کے تعاون سے مصنوعی ذہانت پر ایک مجلس کا انعقاد کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر اس سمِٹ کی ایک وائرل ویڈیو میں فرانسیسی صدر میکرون ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میکرون نے نریندر مودی کےبغل میں بیٹھے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس سے مصافحہ کیا اس کے بعد ساتھ بیٹھے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ہاتھ ملایا اور وہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون دیرلائن سے بھی بہت تپاک انداز سے ملے مگرجب ہندوستانی وزیراعظم نے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ آگے بڑھ گئے اور مودی جی ہاتھ ملتے رہ گئے۔ فرانسیسی صدرنے وزیراعظم مودی کوچونکہ نظر انداز کیا اس لیے ان کی سبکی ہوگئی۔ اس ویڈیو مودی جی کا دنیا بھر میں مذاق بنادیا اور اس پر کسی منچلے نے ایکس پر بشیر بدر کا یہ شعر لکھ دیا حالانکہ اس کو ترمیم کرنی چاہیے تھی ؎
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے پڑوگے مذاق سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے ایک دن قبل اسٹیل اور ایلمیومینیم پر پچیس فیصد ٹیرف لگا کر دورے کا مزہ کرکرا کر دیا کیونکہ یہ دونوں اشیاء بڑے پیمانے پر ہندوستان سے امریکہ برآمد کی جاتی ہیں ۔ اس اعلان کو اگر ایک آدھ ہفتے کے لیے مؤخر کردیا جاتا تو کوئی آسمان نہیں پھٹ پڑتا ۔۔ معزز مہمان کا اس طرح استقبال نہیں توہین کی جاتی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ کو پچھلے سال ۳۳ ہزار کروڈ کا اسٹیل اور ۹ہزار کروڈ کا ایلومینیم فروخت کیا تھا ۔ یہ دونوں اشیاء ٹیرف کے سبب مہنگی ہوجائیں تو امریکہ میں ان کی کھپت کم ہوجائے گی ۔ اس کا اثر حصص بازار پر پڑا اور گرتا چلاگیا دوسری جانب ڈالر اور سونے کی قیمت بڑھتی چلی گئی۔ یہ سلسلہ کب رکے گاکوئی نہیں جانتا ۔ پچھلی مرتبہ جب ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تھا تو اسٹیل پر پچیس فیصد اور ایلومینیم پر دس فیصد ٹیرف لگا دیا تھا۔
سابق صدر جو بائیڈن نے اسے ہٹایا تو ٹرمپ نے اسٹیل سمیت ایلومینیم پر بھی پچیس ٹیرف لگا دیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تو نہیں بتایا کہ کن ممالک پر ٹیرف عائد ہوگا۔ اس لیے وزیر اعظم پر امید ہوں گے کہ وہ اس مصیبت سے بچ جائیں گے جب صدر ٹرمپ اس اقدام کوتمام ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے یکساں سلوک کرنے سے تعبیر کرکے اپنے ارادے واضح کردئیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنی صدارت کی پہلی مدت میں بعد ازاں امریکہ کے کئی تجارتی شراکت داروں کو ڈیوٹی فری کوٹہ بھی دیا تھا لیکن ان خوش نصیب ممالک میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل کےساتھ ہندوستان شامل نہیں تھا ۔ سابق صدر جو بائیڈن نے ڈیوٹی فری کوٹے میں دیگر تجارتی شراکت داروں میں برطانیہ، جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ ہندوستان کو شامل کیا ۔ ہندوستان سے امریکی برآمد وہاں کے درآمد سے تقریباً تیس فیصد زیادہ اور ٹرمپ اس کو برابری پر لانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ایسا کرخت رویہ دوستوں سے نہیں دشمنوں کے ساتھ اختیارکیا جاتا ہے۔
امریکہ درآمد ہونے والے اسٹیل اور ایلومینیم کی تمام مصنوعات پر 25 فی صد ٹیکس امپورٹ ہونے والی دھاتوں پر عائد ہونے والا یہ سب سے زیادہ ٹیرف ہے۔صدر ٹرمپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جتنی ضرورت ہندوستان کو امریکی تجارت کی ہے اتنی ہی خود انہیں ہندوستانی بازاربھی ہے۔ امریکہ کے پاس اپنے سب سے بڑے حریف چین کو قابو میں رکھنے کی خاطر بھی ہندوستان کی حمایت در کار ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا سے جنگ ختم کرنے کا اعلان کرکے اقتدار میں آئے تھے کہ لیکن انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد ٹیرف وار شروع کردی۔ توپ و تفنگ سے قتل و غارتگری کے بجائے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جنگ کا آغاز چین سے درآمد ہونے والی تمام مصنوعات پر 10 فی صد ٹیرف عائد کرکے کیا ۔اس کے لیے یہ بہانہ بنایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد چین پر دباؤ بڑھاکر اسے نشہ آور دوا فینٹینل میں استعمال ہونے والے اجزا کی امریکہ اسمگلنگ روکنے کے لیےاقدامات بتایا کیونکہ وہ عذرِ لنگ ہے ۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا پر بھی25 فی صد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جب دونوں ممالک نے غیر قانونی تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحد پر حفاظتی کوششیں بڑھانے پر اتفاق کیا تو اس اعلان پر عمل درآمد کو 30 دن کے لیے مؤخر کردیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ ٹیرف کے معاملے میں بہت سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ یہ ان نوٹنکی کا ایک حصہ ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی بھی امریکہ کو سمجھا بجھا کر ٹیرف سے استثناء حاصل کرسکیں گے ؟ٹیرف کی جنگ کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ کی منطق یہ ہےان کے نزدیک سب سے پہلے امریکہ ہے اور اپنے ملک کو دوبارہ امیر بنانے کی خاطر اپنے شہریوں پر ٹیکس لگا کر دوسرے ممالک کوخوشحال نہیں بنانا چاہتے بلکہ دوسرے ممالک پر ٹیکس لگا کر اپنے شہریوں کو امیر بنائیں گے۔
ٹرمپ کے مطابق جیسے جیسے دوسرے ممالک پر محصولات بڑھیں گے امریکیوں پر ٹیکس کم ہو جائیں گے۔ایسا کرنے سے بڑی تعداد میں نئے کارخانے لگیں گے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ٹیرف سے بچنے کے لیے امریکی صدر دوسرے ممالک کو امریکہ میں صنعتیں قائم کرنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ امریکیوں کو فائدہ ہو۔امریکی صدر کی طرح دوسرے ممالک بھی اپنا خسارہ نہیں چاہتے۔ امریکہ میں کارخانوں کے بند ہونے کا بنیادی کا سبب مزدور کا مہنگا ہونا ہے۔ اس لیے یہ کوئی امریکہ میں آکر کارخانہ لگانے کی حماقت نہیں کرے گا الٹا ٹرمپ کے حامی سرمایہ دار چین جاکر صنعتیں کھولیں گے۔ امریکہ میں چین سے کاروباری خسارہ بالترتیب 30.2 فیصد، میکسیکو سے19 فیصد اور کینیڈا سے 14 فیصد ہے مگر ہندوستان کی حصہ داری صرف 3.2 فیصد ہے۔
ٹرمپ کے اس فیصلے پر چین ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ کرنے کی دھمکی دے کرٹرمپ کے ٹیرف کو غلط رواج قرار دیا ۔ چین نے امریکہ سے درآمد ہونے والے کوئلے، ایل این جی پر 15 فیصد اور خام تیل، زرعی آلات، پک اپ ٹرکوں، زیادہ اخراج والی گاڑیوں پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا کچھ بڑی معدنیات پر بھی ٹیرف نافذ کر دیا ۔چین تو خیر بہت بڑا ملک ہے مگرامریکہ کے ٹیرف بڑھانے پر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹرمپ کو سیدھے چیلنج کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 155 بلین امریکی ڈالر کی درآمد پر 25 فیصد ٹیکس لگائیں گے۔ ٹروڈو نے کہا کہ 30 بلین ڈالر کے امریکی سامانوں پر فوری ٹیرف لگایا جائے گا۔ اس کے بعد 21 دنوں میں 125 بلین ڈالر کے سامانوں پر اور ٹیرف لگایا جائے گا تاکہ کینیڈا کی کمپنیوں کو متبادل تلاش کرنے کا موقع مل سکے۔ میکسیکو نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے ٹیرف کا جواب ٹیرف لگا کر دیا ۔ میکسیکن صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا، "امریکہ کے ذریعہ میکسیکن اشیا پر ٹیرف لگانے کے بعد انہوں نے اپنے وزیر اقتصادیات کو میکسیکو کے مفادات کے تحفظ کے لیے ٹیرف اور غیر ٹیرف طریقوں کو نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔”
ایک طرف ٹرمپ نے کینیڈا، میکسیکو، برازیل اور چین وغیرہ جوابی ٹیرف لگا رہے ہیں تو اس کے برعکس ہندوستان نے ان جھٹکوں کے باوجود امریکہ سے موٹر سائیکلوں اور دیگر لگژری مصنوعات کی درآمدات کو بڑھانے کے لیے ہیوی بائک (1600 سی سی سے اوپر کی موٹر سائیکلوں) پر ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دیا ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے انجن والی بائیک پر ٹیرف کو 40فیصد تک کم کر دیا گیا ۔ مودی جی اپنے دورے کے درمیان امریکہ سے جنگی گاڑیاں اور لڑاکا طیاروں کے انجن خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے کر ٹرمپ سے امریکی دفاعی سازوسامان خریدنے راضی نظر آتے ہیں ۔
ہندوستان کوٹرمپ زیادہ سے زیادہ امریکی سیکورٹی آلات خریدنے پر بھی دباوڈال رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتاہے کہ ہندوستان سے امریکہ کیا خریدے گا ۔ مختلف ممالک کا امریکہ کو آنکھ دکھا نا مگر مودی جی کا نگاہیں بچھا کر نظریں چرا نا ملک کے عزت نفس سے کھلواڑ ہے۔ اپنے تاجر دوستوں کے مفاد کی خاطرانہیں اس حدتک نیچے نہیں گرنا چاہیے۔مودی جی امریکہ کے آگے جس قدر جھک رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اور بھی زیاد ہ جھکا رہے ہیں ۔ ٹیرف کی اس جنگ میں کون جیتے گا یہ تو کہنامشکل ہے مگر مودی جی کا ہارنے والوں میں شامل ہو نا لازمی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الحال دیگر ممالک کے مقابلے مودی کی حالت پر کسی مزاحیہ شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
محفل میں کررہے ہیں رقیبوں کو وہ سلام
وعلیکم السلام کیے جارہا ہوں میں
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...