Skip to content
جمعہ نامہ:حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اور نماز کی پابندی رکھیے، بے شک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بے حیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے۔‘‘ نماز جیسے مراسمِ عبودیت کودین اسلام میں اخلاق ومعاشرت منسلک کردیا گیا ہے ۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ ’’ اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے اور تم کو سمجھاتا ہے، تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ قیامِ عدل و قسط اور صلہ رحمی کی تلقین کے ساتھ بھی بے حیائی و سرکشی سے بچنے کا حکم دیا گیا کیونکہ یہ سب باہم ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ یہ منادی بھی کروائی گئی ہےکہ:’’ آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام فحش باتوں کو، اُن میں جو اعلانیہ ہیں وہ بھی اور ان میں جو پوشیدہ ہیں وہ بھی اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو ۔‘‘
میڈیا میں فی الحال رنویر الہ ٰبادیا کی فحاشی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے کیونکہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ورنہ جب اس طوفان کی شروعات ہوئی اور ان لوگوں نے فحاشی و عریانیت کو پروس کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا شروع کیا تو ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ وزیر اعظم نے خود رنویر کو انعام و اکرام سے نوازہ ۔ اس وقت لوگ اندازہ نہیں لگاسکےکہ یہ بات بڑھ کر کہاں تک پہنچے گی؟ اب تو انکاونٹر اور قرقی تک کا مطالبہ ہورہا ہے جبکہ ارشادِ قرآنی ہے:’’ اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو، بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے اور بری راہ ہے۔‘‘لیکن ان نام نہاد مشہور لوگوں نے فحاشی و عریانیت کے ساتھ گالی گلوچ کو بھی عام کردیا ۔ ان لوگوں کو شہرت کے ساتھ دولت کمانے کا یہ ایک آسان راستہ مل گیا۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ فحاشی کے بغیر نہ ناظرین بڑھیں گے اور نہ کمائی ہوسکے گی جبکہ اللہ کی کتاب خبردار کرتی ہے: ’’شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگدستی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا اور اللہ وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا ۔‘‘
سوشیل میڈیا پر فحاشی و عریانیت کا سیلاب برپا کرکے لوگ کس قدر دولت و شہرت کمائی اس کی مثال رنویر ہے۔ انسٹاگرام پر اس کو30 لاکھ سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں اوراس کے اس کے بیئر بائسپس سمیت ۷یو ٹیوب چینلز سے 1 کروڑ 20 لاکھ سبسکرائبرز منسلک ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 2024 میں رنویر الہ بادیا کی مجموعی دولت 60 کروڑ روپے تھی ۔ وہ کیری مناٹی ( 410 کروڑ) روپئے اور بھووَن بام ( 122 کروڑ) کے بعد تیسرا امیر ترین ہندوستانی یوٹیوبر ہے۔رنویر نے اپنے “فحش تبصروں” معذرت کر کے ویڈیو سے “غیر حساس” مواد کو ہٹانے کے لیے کہا ہے۔ “ لیکن پولیس نےرنویر، اپوروا مکھیجا اور سامے رائنا سمیت کئی ایسے لوگوں کے خلاف شکایت درج کرلی ہے جن کا مذکورہ تبصرے سے کوئی تعلق نہیں حالانکہ فحاشی پھیلانے کا جرم سبھی سےسرزد ہوتارہا ہے۔
ممبئی پولیس کمشنر اور مہاراشٹر خواتین کمیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے بھی اس پر توجہ فرمائی ہے ۔ پولیس کےچھاپے پڑ رہے ہیں نیز ایک پارلیمانی کمیٹی بھی اس پر توجہ دے رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ رنویر کی منگیتر نکّی شرما نے بھی اس سے علیحدگی اختیار کرکے تعلقات منقطع کرلیے ہیں ۔ مغربی تہذیب سے مرعوب جنس زدہ بدعنوان ہندوستانی معاشرے میں جنسی بے راہ روی کس قدر عام ہوچکی ہے اس کا مظاہرہ تو مہا کمبھ میلے کی ویڈیوز سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس لیے رنویر جیسے لوگوں کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ مقبولیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ پچھلے سال ہیک ہونے کےدودن بعد اس کا چینل بحال ہوگیا تھا اس بار بھی کچھ روز بعد سب معمول پر آجائے گا لیکن ملک کی آئندہ نسل اس زہر سے بالکل کھوکھلی ہوکر ٹوٹ جائے گی ۔ یہ اخلاقی مسائل اسے بے شمار نفسیاتی امراض میں مبتلا کرکے اس کا برین فیل کردیں گے ۔
دین اسلام اس خاردار پودے کو تناور درخت بننے سے قبل ہی اکھاڑ پھینکتا ہے۔ وہ اختلاطِ مردو زن کی شدید حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ ارشادِ فرقانی ہے:’’ آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے، بے شک الله تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ‘‘۔دین اسلام کو خواتین دشمن مذہب کے طور پر بدنام کیا جاتا ہے مگر یہاں تو پہلا حکم مردوں کے لیے ہے کہ وہ نگاہ نیچی رکھیں لیکن افسوس کہ آج کل مسلم خواتین بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے پر فخر کرنےلگی ہیں ۔آگے حکم دیا گیا ہے:’’ اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں۔‘‘ یعنی پردہ کریں ۔
کتاب الٰہی میں یہ وعید بھی سنائی گئی ہے کہ :’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں اُن کے لیے عذاب ہے درد ناک دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ دین اسلام میں حیا کو نصف ایمان کہا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے سابقہ انبیاء علیہم السلام کے کلام میں سے جو حاصل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ جب تم حیا نہ کرو، تو پھر جو چاہو کرو۔‘‘ سیرت نبویؐ میں اُمِ خلد نامی عورت کا ذکر آتا ہے کہ وہ نقاب کیے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنےشہید بیٹے کے بارے میں دریافت کیا تو بعض اصحابؑ نے کہا: آپ اپنے (شہید) بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہیں اور (اتنی مصیبت اور غم کے باوجود) آپ نقاب کیے ہوئے ہیں؟ اس پر(عظیم خاتون) نےجواب دیا : اگرچہ میرا لختِ جگر فوت ہوگیا ہے، لیکن میری حیا تو فوت نہیں ہوئی۔‘‘ عالمِ انسانیت اگر کیری مناٹی، بھوون بام یا رنویر الہ بادیا جیسے حیا باختہ انفلوئنسرس کے بجائے صحابہ ٔ کرامؓ کو اپنے لیے نمونہ بنائیں تو اس دور کے سب سے بڑے فتنہ سے بچا جاسکتا ہے ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...
جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ان کالموں کی !
آج کے کالم میں کتابت( ٹائیپنگ) کی کافی غلطیاں ہیں۔