Skip to content
حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کا جامعہ صدیقیہ، ڈگروا میں فقید المثال استقبال، 110 حفاظ کرام کی دستار بندی، روح پرور خطاب اور اہم شخصیات سے ملاقات
مونگیر، 18فروری( پریس نوٹ)امیر شریعت، مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر، نے جامعہ صدیقیہ، ڈگروا، پورنیہ میں منعقد عظیم الشان اجلاسِ دستار بندی میں شرکت کی، جہاں علما، طلبہ اور عقیدت مندوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔
حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کے اس مبارک سفر کا آغاز ضلع کٹیہار کے گونڈواڑا سے ہوا، جہاں ان کے مریدین و متوسلین نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔ حضرت نے وہاں خانقاہ رحمانی کے قدیم مریدین الحاج جناب صلاح الدین صاحب اور الحاج جناب مصلح الدین صاحب کے مکان پر مختصر قیام فرمایا، جہاں سینکڑوں عقیدت مندوں نے ملاقات کرکے دعائیں حاصل کیں۔
ڈگروا پہنچنے پر جامعہ صدیقیہ میں ایک عظیم الشان اجلاسِ دستار بندی کا انعقاد ہوا، جس میں امیر شریعت دامت برکاتہم نے خصوصی شرکت فرمائی، اجلاس کی صدارت کی اور ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ اس موقع پر علما، طلبہ اور عوام کا عظیم اجتماع موجود تھا، جنہوں نے اپنے امیر کا والہانہ استقبال کیا اور ان کے مواعظ حسنہ سے فیض حاصل کیا۔
حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم نے اپنے دست مبارک سے 110 خوش نصیب حفاظ کرام کی دستار بندی فرمائی اور اس موقع پر آپ نے قرآن مجید کی عظمت، حفظِ قرآن کی اہمیت اور حفاظِ کرام کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ “قرآن کی تعلیم امت کی بقا اور ترقی کی بنیاد ہے، اور نوجوان حفاظ پر لازم ہے کہ وہ دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔”
یہ یادگار اجلاس جہاں حفاظ کرام کے لیے عزت افزائی کا ذریعہ بنا، وہیں امت مسلمہ کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی چھوڑ گیا کہ قرآن کی روشنی میں ہی فلاح کا راستہ ہے۔
اس موقع پر پورنیہ لوک سبھا کے رکن پارلیمان پپو یادو بھی مدرسہ پہنچے، حضرت امیر شریعت سے ملاقات کی اور خصوصی دعائیں حاصل کیں۔ اس ملاقات میں سماجی و تعلیمی ترقی اور امت کی فلاح و بہبود کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ حضرت امیر شریعت نے تعلیم، شعور اور اخلاقی تربیت کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پپو یادو نے سماج اور تعلیم کی بہتری کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کا عہد کیا۔
اسی دوران، حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کو اطلاع ملی کہ ان کے والد گرامی حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ و مجاز، حضرت مولانا حسیب الرحمان صاحب کی قیام گاہ جامعہ صدیقیہ، ڈگروا ہاٹ کے قریب ہے۔ حضرت نے وہاں تشریف لے جا کر ان سے اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے بہت سے مریدین و معتقدین ملاقات ہوئی اور مولانا حسیب الرحمٰن صاحب سمیت تمام لوگوں سے کی خیریت دریافت کی۔
یہ روح پرور اجلاس نہ صرف حفاظ کرام کے لیے ایک یادگار موقع ثابت ہوا، بلکہ امت مسلمہ کے لیے قرآن کی روشنی میں جینے کا ایک پیغام بھی دے گیا۔ حضرت امیر شریعت کی قیادت میں علمی و روحانی ترقی کا یہ سفر امت کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
Like this:
Like Loading...