Skip to content
غزہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے بات چیت شروع ہونے کے ساتھ ہی حماس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو ایک ہی کھیپ میں رہا کرنے پر تیار ہے۔حماس کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو کے مطابق تنظیم دوسرے مرحلے کے دوران غزہ کی پٹی میں زیر حراست تمام اسرائیلیوں کو ایک ساتھ آزاد کرنے کے لیے تیار ہے، یہ عمل پہلے مرحلے کی طرح باریوں میں انجام نہیں دیا جائے گا۔
النونو کے مطابق تنظیم نے وساطت کاروں کو اس موقف سے آگاہ کر دیا ہے . اور یہ اقدام اس بات کو باور کرانے کے لیے ہے کہ حماس اس معاملے کو انجام تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ اور تیار ہے … اور فائر بندی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کر گزرنا چاہتی ہے تا کہ پائے دار جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے”۔
البتہ النونو نے ان اسرائیلیوں کی تعداد واضح نہیں کی جو ابھی تک غزہ کی پٹی میں حماس یا دیگر مسلح گروپوں کی قید میں یرغمال ہیں۔ اسی طرح تبادلے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ان میں سے زندہ افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔حماس کے ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ "تنظیم نے بقیہ قیدیوں کی تعداد نہیں ظاہر کی ہے خواہ زندہ یا مردہ، ان کے بارے میں معلومات دوسرے مرحلے کے سلسلے میں مذاکرات کے ضمن میں شامل ہو گی”۔
اس سے قبل حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے منگل کے روز بتایا تھا کہ وہ جمعرات کو 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کر دے گی … اور ہفتے کے روز ایک ہی باری میں 6 اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کر دے گی۔فائر بندی معاہدے کا نفاذ 19 جنوری کو ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 33 اسرائیلیوں اور ان کے مقابل 1900 فلسطینیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے میں تمام بقیہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کا خاتمہ متوقع ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز دو مارچ کو مقرر ہے۔حماس نے گذشتہ ہفتے کے روز 3 اسرائیلیوں کو رہا کیا تھا جس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے 369 فلسطینیوں کو آزاد کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے مرحلے میں کُل 33 اسرائیلیوں میں سے اب تک 19 کو زندہ واپس کیا جا چکا ہے۔ ان کے علاوہ تھائی لینڈ کے 5 باشنوں کو بھی حوالے کیا گیا جن کے نام معاہدے میں شامل نہیں تھے۔اس وقت غزہ میں 73 اسرائیلی باقی ہیں۔ اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق ان میں سے صرف آدھے لوگ زندہ ہیں۔
Like this:
Like Loading...