Skip to content
وقف ترمیمی بل پرمسلم قیادت کی سنجیدگی :ایک جائزہ
ازقلم:محمدفیاض الدین
وقف ترمیمی بل پرتشکیل شدہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہوچکی ہے۔اس درمیان اپوزیشن نے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ان کااختلافی نوٹ شامل نہیں کیاگیاہے۔وزیراقلیتی امورنے وضاحت کی کہ کچھ بھی حذف نہیں کیاگیالیکن خودحکومت کے سرکردہ لیڈران نے اپوزیشن کے مطالبہ کوتسلیم کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اختلافی نوٹ جوڑنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔مرکزی وزیراقلیتی امورکرن رججونے بیان دیاکہ جدیواورٹی ڈی پی اس بل پرہمارے ساتھ ہیں۔لیکن خودان پارٹیوں کی کوئی وضاحت نہیں آئی۔اس درمیان جو رپورٹیں آئیں،ان کے مطابق نئی سفارشات میں وقف بائی یوزرمیں ترمیم،وقف ٹریبیونل میںغیرمسلم کی شمولیت،وقف کرنے والے کاپانچ سال سے پریکٹسنگ مسلم ہوناجیسی شرائط اپوزیشن اورمسلمانوں کے نزدیک بنیادی طورپرقابل اعتراض ہیں۔اورکچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ یہ تمام قابل اعتراض شقیں موجودہیں۔اس درمیان جنتادل یونائٹیڈاورتیلگودیشم پارٹی کے بعض ذرائع کاکہناہے کہ این ڈی اے کی ان اہم جماعتوں کی وجہ سے حکومت کی کئی ترامیم مستردہوگئی ہیں جوقابل اطمینان بات ہے،لیکن ان دعووں پرکسی کوبھروسہ نہیں ہوسکتا، جب تک کہ مکمل سفارشات سامنے نہ آئیں۔ خصوصاجنتادل یونائٹیڈنے مسلمانوں کوایسے امورمیں انتہائی مایوس کیا ہے، للن سنگھ نے جس طرح اچھل اچھل کرپارلیمنٹ میں بی جے پی کے اس بل کی حمایت کی تھی،نیزجنتادل یونائٹیڈنے طلاق ثلاثہ بل پرپارلیمنٹ سے بھاگ کر،بل منظورکرانے میں بی جے پی کے لئے سہولت فراہم کی تھی،انہیں بھولنانہیں چاہیے ۔
اطمینان کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کاپہلاحصہ مکمل ہوچکاہے اوراب دوسراحصہ 10مارچ سے شروع ہورہاہے۔مسلم جماعتوں کواس مہلت کوغنیمت سمجھناچاہیے۔جب پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوگا،وقف بل کی سفارشات پربحث ضرورہوگی اوراسے ایوان سے منظورکرانے کی کوشش کی جائے گی۔اس درمیان آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکی مجلس عاملہ کی میٹنگ منعقدہوئی،اورپریس کانفرنس بھی کی گئی۔ نیزاتراکھنڈکی یوسی سی کے خلاف بورڈعدالت جاچکاہے،گرچہ اس معاملے میں جمیعۃ علمائے ہندنے پہل کی جس پرکارروائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اتراکھنڈحکومت کونوٹس جاری کیا ہے۔ بورڈنے یہاں بھی دیرکردی۔خیربورڈنے کچھ توکیا۔مسلم پرسنل لابورڈکی میٹنگ میں فیصلہ لیاگیاکہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عوامی پریشربنایاجائے گا۔مسلم پرسنل لابورڈکایہ فیصلہ صرف پریس ریلیزکے صفحات اورراردواخبارات کی زینت بھرہوگایااس پرعمل بھی ہوگایہ کہناجلدبازی ہوگی۔گزشتہ چندبرسوں میں مسلم پرسنل لابورڈکارویہ مایوس کن رہاہے۔اس کی قیادت اپنے رومال سے باہرنہیں نکل سکی ہے۔ آج تک،آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈنے اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی سے ملاقات نہیں کی ہے اورنہ مضبوطی کے ساتھ حکمراں جماعتوں کے تین اہم اتحادی نتیش کمار،چندرابابونائیڈواورچراغ پاسوان کوانتخابی زبان میں مضبوط پیغام دیاہے۔یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ نتیش اورنائیڈوکی کوشش سے چندترمیمات سفارشات میں ہوئی ہیں،یہ ہوئی بھی ہیں یانہیں ،یااس معاملے میں بورڈغچہ کھاجائے گا۔
چندرابابونائیڈوکچھ حدتک وقف ترمیمی بل پرسنجیدہ نظرآرہے تھے ۔جب یہ بل پیش ہواتھا،توان کی پارٹی کی کوششوں سے ہی جے پی سی میں بھیجاگیاتھا۔لیکن نتیش کمارکے قریبی اورجدیوکے سنیئرلیڈرللن سنگھ نے اس وقت بل کی زبردست حمایت کی تھی جس کی توقع نہیں تھی،اس کے بعدجدیوکوبہارمیں اپنی زمین ہلتی نظرآئی۔اورمسلم ووٹ بینک سے تھوڑاڈرلگنے لگاتوکچھ مسلم لیڈران میدان میں اتاردیئے گئے جو مسلمانوں کواطمینا ن دلانے لگے کہ’’ نتیش کمارمسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔نتیش کمارسنجیدہ ہیں‘‘لیکن آج تک نتیش کمارکااس موضوع پربیان نہیں آیا،اس سے سمجھ میں آتاہے کہ وہ کتنے سنجیدہ ہیں اوران کی پارٹی کے مسلم لیڈران کے آشواسن پرکتنابھروسہ کیاجائے۔جدیوکوبھی سمجھادیناچاہیے کہ اگریہ بل اسی طرح اپنے تمام قابل اعتراض نکات کے ساتھ منظورہوجاتاہے تونتیش کمارکامسلم ووٹ بینک مکمل ختم ہوجائے گااوراس کے مسلم لیڈران کی انتخابی کوشش کوئی کام نہیں آئے گی۔اسی زبان میں جدیوکوپیغام دینے کی ضرورت ہے ۔
لیکن اس درمیان سب سے افسوس ناک صورت حال رہی بہارکے سب سے بڑے ملی ادارہ امارت شرعیہ کی۔جب جے پی سی نے رائے مانگی تواس میں واضح طورپرلکھاتھاکہ ہارڈکاپی بھی بھیجنی ہے اوراس کوای میل بھی کرناہے۔امیرشریعت حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی صاحب سے توقع تھی کہ وہ انگریزی اشتہارتوکم ازکم سمجھ ہی لیں گے،لیکن بہارسے صرف ای میل ای میل ہوتارہااورایساماحول بنایاگیاگویااس دور کی سب سے بڑی عبادت ای میل کرناہے۔جے پی سی نے رائے مانگی تھی،ووٹنگ اورریفرنڈم نہیں ہورہاتھا،کہ کروڑوں ایم میل بھیجنے سے فرق پڑے گااورہماری گنتی گنی جائے گی ۔وہ سارے ای میل کہاں گئے ،کمیٹی نے کون سانوٹس لیا۔اسی طرح جب اسٹیک ہولڈرکے علاوہ سے رائے مانگی گئی تواس وقت تمام مسلم تنظیموں کومخالفت کرنی چاہیے تھی لیکن مسلم پرسنل لابورڈاورامارت شرعیہ،جمیعۃ علمائے ہندسبھی غچہ کھاگئیں۔خصوصاامارت شرعیہ بہارنے یہاں بڑی غلطی کی اورووٹنگ کی طرح کروڑوں میل بھجوادیے گئے،اورہارڈکاپی بھیجنے کاکوئی نظم نہیں کیاگیا۔جس کاکوئی فائدہ نہیں ہوااورنہ ہوناتھا۔دوسراکام یہ ہواکہ امیرشریعت نے مسلسل درجنوں ورکشاپ اورپرزنٹیشن کیے،یہ اس حدتک درست کہاجاسکتاہے کہ مسلمان بل کی خامیوں کوسمجھیں لیکن اس کاکوئی فائدہ نہیں۔مسلمانوں کونہ بھی سمجھایاجاتاتوبھی جب آوازدی جائے مسلمان ہمیشہ حاضرجمع ہوجاتے ہیں۔بل کی خامیوں کوحکومت بھی نہیں سمجھاناہے،حکومت بھی جانتی ہے کہ کیاخامیاں ہیں۔بل کومسلمان پارلیمنٹ میں نہیں روکیں گے۔جولوگ روکیں گے،اصل محنت ان پرہونی چاہیے۔اس محاذپرامارت شرعیہ مکمل ناکام رہی۔اُدھرسے کہاجارہاہے کہ ہرحال میں بل منظورکریں گے،اس کاجواب تھاکہ ہم منظورنہیں ہونے دیں گے اوراس کے طریقہ کارپرمحنت کی جاتی لیکن محنت کی گئی کہ یہ سمجھاناہے کہ بل میں خامیاں ہیں،ارے بھائی !حکومت بھی جانتی ہے کہ بل میں کیاخامیاں ہیں،آپ خامیاں بتاکربل روک دیں گے یاجولوگ بل کومنظورکرنے والے ہیں،ان پرمحنت کریں گے؟ پارلیمنٹ میں صورت حال ایسی ہے کہ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں،تیلگودیشم پارٹی،چراغ پاسوان کی لوجپا،اورنتیش کمارکی جدیوکے بغیریہ بل منظورنہیں ہوسکے گا۔اصل کوشش اس کیہونی چاہیے تھی کہ ان تین پارٹیوں پرپوراپریشربنایاجائے۔اسی سا ل بہارمیں الیکشن ہونے والے ہیں،جدیوکوڈرایاجاتاکہ اگرنتیش کمارکی پارٹی نے بل کی کسی بھی طرح کی حمایت کی یاایوان سے بھاگ کربل منظورہونے میں مددکی توامارت شرعیہ اوربہارکی تنظیمیں الیکشن میں مسلمانوں کوجدیوکایہ چہرہ دکھائیں گی اوراس کاجوانتخابی نقصان نتیش کمارکوہوگااس کے ذمہ داروہ خودہوں گے ۔
اب امیرشریعت صاحب ’ ایک اہم کام‘ کررہے ہیں۔وہ یہ کہ بہارمیںجوبھی موقوفہ جائیدادیں ہیں،انہیں بہاروقف بورڈمیں رجسٹرڈکرایاجائے۔بظاہریہ عمدہ سوچ ہوسکتی ہے ۔پہلے مرحلے میں پٹنہ اوراس کے مضافات کی جائیدادیں رجسٹرڈہورہی ہیں۔ان میں ابھی قبرستان کی زمین رجسٹرڈکرائی جارہی ہے۔پھرنمبرآئے گادیگرموقوفہ جائیدادکا۔(گرچہ ابھی ایک جائیدادکابھی رجسٹریشن نہیں ہواہے۔ ) اس کام کے لئے درجنوں لوگوں کو لگا رکھا گیا ہے۔(اہم بات یہ ہے کہ اس ’اہم کام‘ سے امارت شرعیہ کے ملازمین وذمہ داروں کوالگ رکھاگیاہے اورخانقاہ رحمانی کاعملہ وہاں رہ کرکام کررہاہے،اس سے بہت سارے سوال اورشبہات جنم لیتے ہیں۔) پہلاسوال یہ ہے کہ جوجائیدادیں وقف بورڈمیں رجسٹرڈنہیں ہوں گی کیاان پرسرکارکاقبضہ ہوجائے گا؟ ایساکچھ نہیں ہوگا۔رجسٹرڈنہ ہونے سے کون سانقصان ہوجائے گا؟یہ واضح ہوناچاہیے اوررجسٹرڈہونے سے کون سافائدہ ہوگایہ بھی واضح کردیناچاہیے؟کیارجسٹرڈکرانے سے ان جائیدادوں کاتحفظ یقینی ہوگا،اس کی بھی ضمانت نہیں لی جاسکتی یاسرکارکچھ مراعات دے گی،یہ بھی معلوم نہیں ۔لیکن جوجائیدادیں وقف بورڈمیں رجسٹرڈنہیں ہیں،انہیں بلاوجہ رجسٹرڈکرانے سے جننقصانات کااندیشہ ہے،ان کوسمجھناضروری ہے۔ایک جائیدادجودوردرازمیں ہے،حکومت کی نگاہ میں بھی نہیں ہے،اس کارجسٹریشن کراکر،کیااس کاڈیٹاآپ وقف بوڈکو،سرکارکوبآسانی نہیںدے رہے ہیں؟اس سے حکومت کوکیاآسانی فراہم نہیں ہوگی کہ جب یہ بل منظورہوگااورسرکارکو’نظرکرم‘ کرنے میں سہولت حاصل ہوگی۔ کل حکومت اس پر’نظرکرم‘کرے گی توامارت شرعیہ اس کی ذمہ داری لے گی؟۔ جو ڈیٹا حکومت اپنے وسائل لگاکرحاصل کرتی ،امارت شرعیہ پہلے ہی ڈیٹاجمع کرادے رہی ہے ،یہ لو،ہماری فلاں فلاں جائیدادموقوفہ ہے ۔اس مہم کی تہہ میں جانے کی ضرورت ہے ۔اس کے جونقصانات ہوسکتے ہیں،کیااس کاادراک نہیں کیاجاناچاہیے ؟اس پہلوپرخوب سوچ لینے کی ضرورت ہے۔
وقف بورڈمیں خواہ مخواہ جائیدادرجسٹرڈکرانے کی مہم مضرہوگی یااس کاکوئی حاصل ہے،اس کاجائزہ لینے اوراس پرگہری نظررکھنے کی ضرورت ہے ۔قابل غوربات یہ ہے کہ وہ کام توکیانہیں جارہاہے کہ وقف ترمیمی بل منظورہونے سے رک جائے،لیکن وہ کام توکررہے ہیں جس سے نقصان کابھرپوراندیشہ ہے۔ آج تک امیرشریعت نے خوداین ڈی اے کی بہارکی دواہم بیساکھیوں نتیش کماراورچراغ پاسوان سے ملاقات نہیں کی ، امیرشریعت نے آج تک جدیواورلوجپاکوواضح پیغام دینے کے لئے پٹنہ میں پریس کانفرنس نہیں کی،جب جے پی سی نے بہارکاآفیشل دورہ کیاتواس میں بھی حضرت امیرشریعت غائب رہے ۔ ان کی عدم سنجیدگی کااندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ الیکشن کے زمانے میں،امیرشریعت صاحب، اپنے مونگیرکے ایم پی للن سنگھ سے ملاقات توکرتے ہیں لیکن آج تک اس مسئلہ پرانہوں نے مرکزی وزیراورمونگیرکے ایم پی للن سنگھ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔اس سے سمجھ میں آتاہے کہ انہیں وقف کے مسئلے پرکتنی فکرہے اورکتنے سنجید ہ ہیں۔قارئین خودپڑھ کرفیصلہ کرلیں۔ہم درخواست کرتے ہیں حضرت امیرشریعت سے کہ اگروہ واقعی بل کے لئے سنجیدہ ہیں توان طریقوں پرغورکریں جن سے بل کی منظوری رک جائے ۔اس کے لئے وزیراعلیٰ نتیش کمار،للن سنگھ،چراغ پاسوان سے خودملاقات کریں،پٹنہ میں مضبوط پریس کانفرنس کرکے جدیواورلوجپاکوواضح پیغام دیں ورنہ ساری کو ششیں ناموری اوررسم کے سواکچھ نہیں کہی جائیں گی۔اب تک کے جائزے سے اندازہ ہوجاتاہے کہ مسلم قیادت کتنی سنجیدہ ہے ۔ اگروقف ترمیمی بل منظورہوجاتاہے تومسلم پرسنل لابورڈ،امارت شرعیہ جیسی تنظیمیں مرکزی ذمہ دارہوں گی۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...