Skip to content
اسرائیل 24فروری(ایجنسیز) اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان اور شام کی سرحد پر بمباری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد حزب اللہ کو اسلحے کی اسمگلنگ سے روکنا ہے۔ یہ بمباری ایک ایسے وقت میں کی گئی جب دوسری جانب حزب اللہ بیروت میں اپنے مقتول سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے جنازے کی تیاریاں کررہی تھی۔
اسرائیل نے تقریباً پانچ ماہ قبل حسن نصراللہ کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر ایک بڑے حملے میں قتل کر دیا تھا جس کے بعد پچھلے سال نومبر کے آخر میں جنگ بندی کے معاہدہ طے پایا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے "شام-لبنانی سرحد پر کراسنگ پر حملہ اس وقت کیا جب حزب اللہ نے لبنان میں ہتھیار سمگل کرنے کی کوشش کی”۔
"اسمگلنگ کی یہ کوششیں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی صریح خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے”۔
درایں اثنا سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے لبنان اور شام کی سرحد پر "غیر قانونی گذرگاہوں اور اسمگلنگ کے راستوں” پر بمباری کی ہے تاہم اس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر کئی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کی فوج حزب اللہ تنظیم کی طرف سے اپنی افواج کی تعمیر نو کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے کام کریں گی۔
جنگ بندی کے معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ لبنانی فوج اقوام متحدہ کے امن دستوں کے ساتھ ملک کے جنوب میں تعینات رہے گی ۔ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت ساٹھ دن کے بعد لبنان سے انخلا نہیں کیا بلکہ اس میں اٹھارہ فروری تک کی مہلت حاصل کی تھی۔ اسرائیلی فوج لبنان کی سرحد پر پانچ اہم مقامات پر اب بھی موجود ہے۔
Like this:
Like Loading...