Skip to content
واہ رے مہا کمبھ : اصلی ماں بھوکی اور گنگامیاّ میں ڈبکی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاکمبھ کا آج آخری دن ہے۔ اس موقع پر 13 دسمبر (2024) کو وزیر اعظم نے پریاگ راج میں جو تقریر کی تھی اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے لیکن اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ مودی اب کیا کہہ رہے ہیں ۔ کمبھ میلے کی بدانتظامی کے الزامات پر مودی جی کا کہنا ہے کہ ’لوگ باہر سے رقم لے کر اپنے ملک میں تہواروں اور تہذیب کو بدنام کررہے ہیں‘۔وزیر اعظم بھول گئے کہ فی الحال ان کے عزیز دوست ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام نام لے کر کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے پی ایم مودی کو روپیہ دیا۔ اس میں شک نہیں کہ مودی سے کہیں زیادہ جھوٹ ٹرمپ بولتے ہیں اور یہ بھی ایک کذب گوئی ہوسکتی ہےمگر ہمارے وزیر اعظم میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ اس جھوٹ کی تردیس کرسکیں ۔ وزیر اعظم کی خاموشی اعترافِ جرم ہے۔ ڈھائی ماہ قبل مودی جی نے سنتوں اور سادھوؤں کو سلام پیش کرنےکے بعد روزانہ لاکھوں عقیدت مندوں کی توقع کی تھی مگر حکومت کے مطابق کروڈوں آگئے۔
مودی نے کہا تھا استقبال اور خدمت کی تیاری پریاگ راج کی اس سرزمین پر ایک نئی تاریخ تخلیق کی جا رہی ہے۔ مہا کمبھ کا انعقاد ملک کی ثقافتی ، روحانی شناخت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا اور یہ پوری دنیا میں موضوعِ بحث بنے گا ۔اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر للن ٹاپ چینل پر پیش ہونے والے دو واقعات نے روحانی بلندی اور عظیم تہذیب و ثقافت کا پول کھول دیا۔جھارکھنڈ کے رام گڑھ کا رہنے والا اکھلیش اپنی سگی ماں چاندی دیوی کو گھر میں بند کرکے ساس سسر اور بیوی کے ساتھ گنگا میاّ میں ڈبلی لگانے کے لیے چلا گیا۔ بوڑھی ماں پلاسٹک کھانے پر مجبور ہوگئی۔ پڑوسیوں نے پولیس کی مدد سے گھر کھولا اور کھانے کے لیے بسکٹ دیئے۔ یہ کون سی روحانیت ہے ko جس میں بیٹا حقیقی ماں کو بھوکا پیاسا چھوڑ کر مجازی ماں کی خدمت میں چلاجاتا ہے ۔ساتھ جانے والی بیوی اور ساس سسر بھی اسے اپنی ذمہ داری نہیں یاد دلاتے ۔کیا یہ پاپ دھل جائے گا؟
دہلی کا اشوک اپنی بیوی میناکشی کے ساتھ ڈبکی لگاتے ہوئے تصاویر اور ویڈیو شیئر کرتا ہے ۔ اس کے بعد میناکشی کو قتل کرکے یہ خبر اڑا دیتا ہے کہ وہ کھو گئی حالانکہ اس بیچاری کو کیا معلوم تھا کہ غیر عورت سے ناجائز تعلقات رکھنے والے شوہر پر اعتراض کرنے کی یہ سزا موت ہے۔ وہاں پر نہانے والی خواتین کی برہنہ اور نیم برہنہ تصاویر کا کاروبار کرنے والا گروہ گجرات میں پکڑا جاتا ہے اور دینک بھاسکر میں یہ خبر بھی آتی ہے کہ کمبھ میں جانے والے ہر دس میں سے نو لوگ ٹھگے گئے ۔ کیا اسی طرح ملک کا نام دنیا بھر میں روشن ہوا۔ وزیر اعظم نے فرمایا تھا کمبھ اور مذہبی دورے کی اتنی اہمیت کے باوجود، پچھلی حکومتوں کے دور میں، ان کو نظر انداز کیا ۔ ان تقریبات میں عقیدت مندوں کو مشکلات پہلے والی حکومتوں کو کوئی پروا نہیں تھی کیونکہ وہ ہندوستانی ثقافت اور عقیدے سے ان کا لگاؤ نہیں تھا، لیکن آج مرکز اور ریاست میں عقیدے اور ثقافت کا احترام کرنے والی ڈبل انجن سرکار کمبھ میں آنے والے عقیدت مندوں کے لیے سہولیات کا انتظام کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
وزیر اعظم نے جس انتظامیہ کی تعریف و توصیف کی وہ ہر گھنٹے ڈبکی لگانے والے کروڈوں کی تعداد بتاتا تھا لیکن بھگدڑ میں مرنے والوں کی تعداد کئی گھنٹوں تک نہیں بتا سکا۔ تین میں سے ایک بھگدڑ کا اعتراف کرکے جھوٹ تعدد بتائی لاشوں کو گنگا میں بہادیا ۔ مودی جی نے دعویٰ کیا تھاکہ پریاگ راج شہر کا ایودھیا، وارانسی ، رائے بریلی ، لکھنؤ سے رابطہ بہتر کیا گیا ہے حالانکہ دنیا نے تین سو کلومیٹر طویل ٹرافک جام اتر پردیش میں دیکھا۔ وزیر اعظم نے کمبھ جیسے عظیم الشان اور روحانی پروگرام کو کامیاب بنانے میں صفائی کے پر زور دیا تھا نیز مہاکمبھ کی تیاری میں نمامی گنگے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے اور پریاگ راج شہر کی صفائی ستھرائی اور فضلہ کے انتظام پر توجہ مرکوز کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ اس کی حقیقت نیشنل گرین ٹریبونل کی سماعت میں کھل گئی ۔ این جی ٹی کےچیئرپرسن جسٹس پرکاش شریواستو، عدالتی رکن جسٹس سدھیر اگروال اور ماہر رکن اے سینتھل ویل کی بینچ نے کہا ہےکہ سی پی سی بی نے 3 فروری کو داخل کردہ رپورٹ میں کچھ غیر تعمیل یا خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی تھی۔مثلاً اتر پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ (UPPCB) نے ایک جامع کارروائی کی رپورٹ داخل کرنے کے این جی ٹی کی سابقہ ہدایت کی تعمیل نہیں کی تھی ۔ ٹریبونل نےیو پی پی سی بی کے ذریعہ صرف پانی کی جانچ کی کچھ رپورٹس کے ساتھ ایک خط داخل کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا مگر یوگی کے تحت کام کرنے والے ریاستی بورڈ سے کسی اور جواب کی توقع بھی فضول ہے۔
بینچ نے کہاکہ ‘UPPCB کی مرکزی لیبارٹری کے انچارج کی طرف سے بھیجے گئے 28 جنوری دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مختلف جگہوں پر گندے پانی کی اعلی سطح پائی گئی ہے۔این جی ٹی نے ریاست اتر پردیش کے وکیل کو رپورٹ کا جائزہ لینے اور جواب داخل کرنے کے لیے ایک دن کا وقت دیا لیکن جب وزیر اعلیٰ اپنے ٹریبونل کو ہی سناتن دشمن قرار دے دیں تو بیچارہ بورڈ کیا کرے؟گنگا کی صفائی ستھرائی کے لیے قائم کیے جانے والے قومی مشن (این ایم سی جی) نے گزشتہ سال 30؍ اگست( 2024) کو اپنی 56ویں ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ نئی دہلی میں کی ۔ اس میں 265 کروڑ روپے کے 9 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔ ان میں سے ایک مہا کمبھ میلہ 2025 کے دوران اور اس کے بعد دریائے گنگا کے حوالے سے ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کے لیے پریاگ راج میں ارتھ گنگا سنٹر کی تعمیر اور 1.80 کروڑ روپے کی لاگت سے ریلوے اسٹیشن چھوکی کی برانڈنگ کی منظوری تھی ۔ اس پروجیکٹ کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور گنگا کے طاس والے علاقے کی خواتین کے خود امدادی گروپوں کی مدد کرنا ہے۔ سوال یہ ہے ان سرگرمیوں سے گنگا کے پانی صفائی کیسے ہوگی اور کروڈوں روپیوں میں سے کتنا بدعنوانی کی نذر ہوجائے گا؟
نمامی گنگے مشن کے تحت دنیا بھر کا روپیہ تو خرچ ہورہا ہے مگر گنگا کی آلودگی کم نہیں ہوتی اس کو ان مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مذکورہ بالا نشست میں کولکاتہ، مغربی بنگال کے اندربیلیاگھاٹ سرکلر کینال کے مشرقی اور مغربی کناروں پرنئے پین اسٹاک گیٹس کی تنصیب اور موجودہ گیٹس کی تزئین و آرائش کے پروجیکٹ کو منظوری دی گئی۔ اس پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت 7.11 کروڑ روپئے ہے۔ ایک اور ترقیاتی کام میں، جھارکھنڈ کے ادھوا جھیل برڈ سینکچری کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے 25.89 کروڑ روپے کی لاگت سے 5 سالوں کا ایک مربوط انتظامی منصوبے (آئی ایم پی) کو منظوری دی گئی ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے ڈی بی او ٹی موڈ پر 2.89 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت کے ساتھ عالمی بینک کے پی بی آئی جی جزو کے تحت 5 سال کے لیے شانتی پور، گاڑولیا اور چکدھا میونسپلٹیوں میں تجدید کی تجویز منظورکی۔ اپنے مقصد کے حوالے سے یہ فضول خرچی ہے۔.
وارانسی وزیر اعظم کا حلقۂ انتخاب ہے اور وہاں بھی گنگا کا پانی خاصہ آلودہ ہے۔ ابھی حال میں جب زائرین کو پریاگ راج میں جانے سے روکا گیا تو گاڑیوں کا قافلہ کاشی کی جانب مڑ گیا کیونکہ سیر و تفریح کو نکلے ہوئے لوگ خالی خولی کیسے واپس جاسکتے ہیں اور جب و ہاں بھی حالات ناگفتہ بہ ہوگئے تو وہ قافلہ ایودھیا کی جانب چل پڑا۔ وارانسی میں نمامی گنگے مشن کے تحت کوئی ٹھوس اقدام کرنے کے بجائے صاف ندیوں پر اسمارٹ لیبارٹری (ایس ایل سی آر) کے لیے سیکریٹریٹ کے قیام کو منظوری دی گئی تاکہ آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) کے ذریعے اسے نافذ کیا جاسکے ۔ اس کثیر مقصدی منصوبے کا مقصد عالمی مہارت کو بروئے کار لانا اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے چھوٹے دریاؤں کو نئے سرے سے جوڑنے کی ترتیبِ نو کے لیے پائیدار طریقوں کو اپنانا ہے۔ اس پروجکٹ گنگا کی آلودگی اور اس میں کمی سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔
مہاکمبھ کی بد انتظامی پر سب سے جرأتمندانہ بیان مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مہا کمبھ ’مرتیو کمبھ‘میں بدل گیا ہے۔ وہ مہا کمبھ اور ماں گنگا کا احترام کرتی ہیں، لیکن کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ امیروں کے لیے ایک لاکھ روپئے تک کے کیمپدستیاب ہیں، لیکن غریبوں کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے۔ غریب عوام کو چونکہ توقع نہیں ہے اس لیے شکایت بھی نہیں ۔ ان کے لیے مفت سیرو تفریح کے ساتھ موکش بہت ہے۔ اب وہ ساری پریشانی کو بھول کر اس احسانِ عظیم کے عوض بی جے پی کو ووٹ دیں گے کیونکہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی دعوت پر انہیں کسی تقریب میں شرکت کی سعادت ملی ۔ اتنے کثیر آبادی والے ملک میں دوچار سو کی موت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ویسے ضرورت سے زیادہ بھیڑ کرنے کی غلطی بھی عوام نے ہی کی تھی۔ ان کو کچلنے کے لیے یوگی کا بلڈوزر نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے خود ہی ایک دوسرے کو روند دیا تھا۔ اس لیے ساری غلطی عوام کی ہے ایسے میں سرکار کو گنگا نہانے کی مطلق ضرورت نہیں اس کے پاپ تو جنتا از خود اپنے سر لے لیتی ہے۔
Like this:
Like Loading...