Skip to content
وقف ترمیمی بل بڑے پیمانے پر نا انصافی اور تجاوزات کا راستہ کھول دے گا۔
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
وقف ترمیمی بل کابینہ منظور کر چکی ہے ممبئی اُردو نیوز کے مطابق وقفت ترمیمی بل جس میں 14 ترامیم ہیں 19 فروری کو ہونے والی کابینہ میٹنگ میں اسے منظور کیا گیا ہے ۔
نئی ترامیم کے مطابق اب غیر مسلم ممبران کے لئے بورڈ میں جگہ ہوگی، خواتین کی نمائندگی ہوگی،تصدیق کے عمل میں تیزی کا دعویٰ کیا گیا ہے ،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ہوگا،وقف بورڈ کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے، وقف کے نظام کو ڈجٹالائز کیا جائیگا،وقف بورڈ کے ارکان کی تقرری حکومت کی مرضی سے ہوگی،وقف ٹریبونل کے اختیار میں اضافہ کیا گیا ہے ،وقف کی غیر مجاز منتقلی پر کارروائی کا وعدہ،چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کی تقرری حکومت کی مرضی سے،بڑے پیمانے پر کپیوٹریساشن ،پرانے قانون میں کسی جائیداد پر دعویٰ ہے تو ٹریبونل ہی میں اپیل کی جا سکتی تھی ،اب ٹریبونل کے علاوہ عدالتوں میں اپیل ہوگی اور اسکے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے پرانے قانون میں تھا اگر زمین پر مسجد ہے تو وہ وقف کی ملکیت ہے۔اب کے قانونی کے حساب سے اگر اسے عطیہ نہیں کیا گیا تو وقف دعویٰ نہیں کر سکتا۔
وقف یعنی وہ جائیداد جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی راہ میں دے دی گئی ہو، اسلامی ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں، جو صدیوں سے معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے وقف کی جاتی رہی ہیں۔ حالیہ وقف ترمیمی بل کے تحت مرکزی حکومت کو وقف بورڈز پر وسیع اختیارات دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے وقف املاک پر اختیار کمزور ہو جائے گا۔ ماہرین اور علماء کرام کے مطابق یہ اقدام وقف املاک کی خودمختاری کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ سرکاری مداخلت کے نتیجے میں وقف کے اصل شرعی مقاصد پسِ پشت جا سکتے ہیں اور وقف کا استعمال فی سبیل اللہ کے بجائے تجارتی مفادات کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
اس مجوزہ قانون سازی کے ذریعے حکومت کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ وقف بورڈز کی تشکیل، پالیسی سازی اور انتظامی معاملات میں براہِ راست مداخلت کر سکے۔ خدشہ ہے کہ حکومتی نامزد اراکین، خصوصاً غیر مسلم اراکین کی شمولیت کے نتیجے میں وقف کے بنیادی مذہبی اور فلاحی مقاصد متاثر ہوں گے اور تجارتی مفادات کو فوقیت دی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں وقف جائیدادوں کو غیر شرعی طویل المدتی لیز پر دینے یا انہیں حکومتی منصوبوں میں شامل کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ 2017 کی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق، ملک میں تقریباً 6 لاکھ ایکڑ وقف اراضی موجود ہے، جس کی مالیت لاکھوں کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد یا تو غیر قانونی قبضے میں ہے یا انتہائی کم کرائے پر دی گئی ہے، جسے خالی کرانا بھی ایک پیچیدہ قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
وقف املاک بنیادی طور پر مذہبی مقاصد جیسے مساجد، درگاہیں، قبرستان، نیز تعلیمی، طبی اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن غیر قانونی قبضے اور حکومتی مداخلت پہلے ہی وقف جائیدادوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ نئے بل کے تحت ڈیجیٹل سروے کے دوران وقف جائیدادوں کی حدود میں تبدیلی اور تنازعات میں اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ ریاستی وقف بورڈز کے اختیارات محدود کر دیے جائیں گے اور فیصلہ سازی کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس چلا جائے گا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کا اپنے مذہبی اداروں جیسے مساجد، درگاہیں، قبرستان، اسکول، مدرسے پر کنٹرول کمزور ہو جائے گا، اور وقف جائیدادوں کے صحیح استعمال میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
وقف املاک کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور وقف قوانین میں شرعی اصولوں کو اولین حیثیت دی جائے، تاکہ وہ جائیدادیں جنہیں اللہ کی راہ میں وقف کیا گیا ہے، اپنے اصل مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوں اور حکومتی مداخلت روکی جا سکے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ وقف املاک کو کسی بھی سیاسی یا تجارتی مفاد سے محفوظ رکھے، کیونکہ یہ محض جائیداد نہیں بلکہ صدیوں کی اسلامی تہذیب اور فلاحی ورثہ ہیں، جنہیں مسلمانوں نے اللہ کی رضا کے لیے وقف کیا ہے۔ ان جائیدادوں کا بنیادی مقصد نماز، تعلیم، فلاحی کام، اور ضرورت مندوں کی مدد ہے۔
بھارت میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی امور اور ادارے خود چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ گرودوارے، مندر اور چرچ اپنی کمیونٹی کے تحت آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں، لیکن حکومت وقف جائیدادوں میں مداخلت کرنا چاہتی ہے، جو ایک کھلا امتیازی رویہ ہے۔ اگر ملک میں سبھی مذہبی اداروں کو خودمختاری حاصل ہے، تو پھر وقف املاک کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو کمزور کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ یہ سوال حکومت کی نیت اور اس بل کے حقیقی مقاصد پر ایک سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...