Skip to content
سِنیما کا سِحر یا سیاسی پروپیگنڈہ؟: کیا بھارتی فلمیں عوامی ذہنوں کو مُسخر کر رہی ہیں؟
ازقلم : ڈاکٹر محمّد عظیم الدین (اکولہ،مہاراشٹر)
———–
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ پردۂ سیمیں پر چلتی رنگین کہانیاں، دلکش مناظر، اور سحر انگیز موسیقی دراصل آپ کے ذہنوں کو ایک خاص سمت میں موڑنے کا آلہ ہوں؟ بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آج کل ایک ایسے ہی سوال سے دوچار ہے۔ کیا واقعی بھارتی سنیما، جو کبھی خوابوں کی دنیا آباد کرتا تھا، اب سیاسی پروپیگنڈے کا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے؟ یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں بجلی کی طرح کوند رہا ہے، اور اس کا جواب تلاش کرنا آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔”
پروپیگنڈہ فلمیں بھارت کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ ان کی جڑیں آزادی سے پہلے کے تاریک دنوں میں پیوست ہیں۔ 1939 میں بننے والی فلم "برانڈی کی بوتل” کو ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، کانگریس پارٹی جیسے سیاسی ادارے نے اس فلم کی مالی مدد کی، مقصد تھا مہاتما گاندھی کے نظریاتِ ممانعتِ شراب کی تبلیغ کرنا۔ آزادی کے بعد، ایک نیا دور شروع ہوا۔ پنڈت نہرو کے خوابوں کی عکاسی کرنے والی فلمیں منظر عام پر آئیں، جن میں ہم آہنگی، امن پسندی، اور ایک سوشلسٹ قوم کی تعمیر کا درس دیا گیا۔ "جاگرتی”، "اب دلی دور نہیں”، اور "نیا دور” جیسی فلمیں اسی سلسلے کی روشن مثالیں تھیں۔ یہ فلمیں قومی اتحاد اور سماجی اصلاحات کا پیغام دیتی تھیں، ان میں نفرت اور تقسیم کا زہر کم ہی نظر آتا تھا۔ لیکن وقت نے کروٹ بدلی، اور 2014 کے بعد پروپیگنڈہ فلموں کی نوعیت اور مقصد یکسر بدل گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی، سیاسی اور نظریاتی بارود سے بھری فلموں کا ایک نیا باب کھلا، جسے اب "سرکاری سینما ” بھی کہا جا رہا ہے ۔ تب سے، ایسی فلموں کی تعداد میں ایک دھماکہ خیز اضافہ ہوا ہے، اور مستقبل میں مزید فلمیں ریلیز ہونے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تبدیلی ایک سوال کھڑا کرتی ہے: کیا آج کا سنیما واقعی بھارت کی سیاست کے ساتھ ساز باز کر رہا ہے؟
ماضی میں فلمیں وسیع پیمانے پر مشترکہ قومی اقدار کو فروغ دیتی تھیں، لیکن آج کی پروپیگنڈہ فلمیں اکثر مخصوص پارٹی کے مفادات، پالیسیوں اور نظریات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ بھارت میں پروپیگنڈہ فلموں کے موجودہ منظر نامے کو ہم چار بنیادی خانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
1. شخصیت پرستی کی عکاس فلمیں: یہ فلمیں سیاسی رہنماؤں کو دیوتا بنا کر پیش کرتی ہیں۔ ذرا تصور کریں، ایک رہنما جو ہر مشکل کا حل ہے، جو عوام کا مسیحا ہے، جس کی ہر بات حرفِ آخر ہے۔ یہ فلمیں ان رہنماؤں کی شخصیت کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ وہ تنقید سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔
2. پالیسی کی توثیق کرنے والی فلمیں: یہ فلمیں حکومتی اقدامات کو آسمان پر چڑھاتی ہیں۔ کوئی بھی حکومتی پالیسی، چاہے وہ کتنی ہی متنازعہ کیوں نہ ہو، ان فلموں میں ایک شاندار کامیابی کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ یہ فلمیں سوال اٹھانے کی بجائے صرف تعریف و توصیف کرتی ہیں۔
3. تاریخی نظرثانی پسندانہ فلمیں: یہ فلمیں بھارت کی تاریخ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے دوبارہ لکھتی ہیں۔ تاریخ کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، اور ایک خاص نظریے کے مطابق تاریخ کو ڈھالا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے جو اجتماعی یادداشت کو مجروح کرتا ہے۔
4. مخالف جماعتوں کے بیانیے: یہ فلمیں سیاسی حریفوں کو بدنام کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو ولن، ملک دشمن، اور سازشی عناصر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ فلمیں سیاسی مکالمے کو زہر آلود کرتی ہیں اور نفرت کو فروغ دیتی ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ فلمیں ایک ایسے ملٹی میڈیا ماحولیاتی نظام کا حصہ بن چکی ہیں جو ایک خاص مذہبی اور سیاسی نقطہ نظر کو پروان چڑھاتا ہے اور متبادل آوازوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ یہ صرف فلمیں نہیں ہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد رائے عامہ کو کنٹرول کرنا ہے۔
پروپیگنڈہ فلمیں عوامی رائے کو مسخر کرنے کے لیے مختلف اور پیچیدہ حربے استعمال کرتی ہیں، اور ناظرین کے تاثرات اور رویوں پر قبضہ کرنے کے لیے نفسیاتی تکنیکوں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ فلمیں اس لیے بھی زیادہ مؤثر ہیں کیونکہ سنیما میں جذبات کو بھڑکانے اور پیچیدہ حقائق کو انتہائی آسان اور دلکش انداز میں پیش کرنے کی جادوئی صلاحیت موجود ہے۔ ان فلموں کا سب سے بنیادی حربہ تاریخی واقعات کی من پسند اور جانبدارانہ پیشکش ہے۔تاریخی واقعات کی اس جانبدارانہ فریم بندی کا سامعین کے ذہنوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور وہ پیچیدہ تاریخی عمل کو غلط انداز میں سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ جذبات کا کھیل ہے جس میں سنیما ایک موثر آلہ کار ثابت ہو رہا ہے۔
بھارتی سنیما میں سیاسی پروپیگنڈہ کی حالیہ لہر نریندر مودی کے دورِ حکومت میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ 2014 کے بعد سے، ایسی فلموں کی ایک کھیپ سامنے آئی ہے جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریات اور سیاسی مقاصد کو فروغ دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں ‘پی ایم نریندر مودی’ جیسی سوانحی فلمیں شامل ہیں، جو مودی کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ‘اڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک’ 2016 کے سرجیکل اسٹرائیکس کی تعریف میں بنائی گئی، جو بی جے پی کے قوم پرستانہ بیانیے سے ہم آہنگ ہے۔ ‘دی تاشقند فائلز’ نے لال بہادر شاستری کی موت کے بارے میں سوالات اٹھا کر کانگریس کو نشانہ بنایا، جبکہ ‘دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر’ نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کمزور شخصیت کے طور پر دکھایا۔ ‘کیسری’ ایک تاریخی ڈرامہ ہے جس میں قوم پرستانہ موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے، اور ‘سواتنتریہ ویر ساورکر’ ونایک دامودر ساورکر کی سوانح عمری ہے، جو بی جے پی کے نزدیک ایک قابل احترام شخصیت ہیں۔ ‘دی کشمیر فائلز’ نے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا اور اس کا ذمہ دار دہشت گردوں اور اپوزیشن جماعتوں کو ٹھہرایا۔ ‘بستر: دی نکسل اسٹوری’ نکسل ازم پر بی جے پی کے موقف کی عکاسی کرتی ہے، اور ‘دی کیرالہ اسٹوری’ نے کیرالہ میں جبری تبدیلی مذہب کا دعویٰ کر کے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی۔ ‘آرٹیکل 370’ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بی جے پی کے فیصلے کی حمایت کرتی ہے، اور ‘دی سابرمتی رپورٹ’ گودھرا ٹرین آتشزدگی کے واقعے کا بی جے پی کا ورژن پیش کرتی ہے۔ ‘میں اٹل ہوں’ اٹل بہاری واجپائی، جو بی جے پی کے سابق وزیر اعظم تھے، کی سوانح عمری ہے۔ ‘جہانگیر نیشنل یونیورسٹی کا مقصد ‘جواہر لال نہرو یونیورسٹی’ کے موضوعات ہیں،جو بی جے پی کے نظریاتی بیانیوں سے مطابقت رکھتے ہیں، اور ’72 حوریں’ اور ‘اجمیر 92’ جیسی فلمیں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاتی ہیں اور ہندوتوا فخر کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ فلمیں اکثر قوم پرستی، ہندو فخر، اور تاریخی نظرثانی پرستی کے موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں، جو بی جے پی کی نظریاتی لائن کے ساتھ چلتی ہیں اور اکثر اپوزیشن جماعتوں اور اقلیتوں کو ولن کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
ایک اور حربہ ان مخصوص فلموں کی سرکاری سطح پر سرپرستی اور تشہیر ہے۔ جب سیاسی رہنما، بشمول وزیر اعظم، خاص فلموں کی عوامی طور پر تعریف کرتے ہیں یا اپنی پارٹی کے زیر اقتدار ریاستوں میں انہیں ٹیکس فری قرار دیتے ہیں، تو وہ شہریوں کو یہ واضح اشارہ دیتے ہیں کہ یہ فلمیں سرکاری نقطہ نظر کی ترجمانی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، "دی کیرالہ اسٹوری” کو کم از کم دو بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں ٹیکس فری کر دیا گیا، اور افواہیں یہ بھی گردش کرتی رہیں کہ کرناٹک میں پارٹی رہنماؤں نے 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے حلقوں کے لیے سینما کے مفت ٹکٹوں کا بھی بندوبست کیا۔ یہ سرکاری سرپرستی تفریح اور سیاسی پیغام رسانی کے درمیان حد فاصل کو دھندلا دیتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک سوچی سمجھی چال؟
مخصوص گروہوں کو ولن یا خطرات کے طور پر پیش کرنا بھی ایک اہم حربہ ہے جس کے ذریعے پروپیگنڈہ فلمیں عوامی رائے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ حالیہ فلموں میں اکثر کچھ مخصوص ولن بار بار نظر آتے ہیں، جن میں "قرون وسطی کے مسلم حکمران، پاکستان، اسلامی حلیہ کے حامل دہشت گرد، بائیں بازو کے لوگ، اور اپوزیشن پارٹیاں، خاص طور پر کانگریس” شامل ہیں۔ ان گروہوں کو مسلسل ملک مخالف دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر فلم میں ایک جیسے ہی ولن نظر آتے ہیں؟ ایسی فلمیں معاشرے میں پہلے سے موجود تعصبات کو مزید پختہ کرتی ہیں اور سماجی تقسیم اور نفرت کو ہوا دیتی ہیں۔ سنیما نفرت کی فصل بو رہا ہے، اور معاشرہ اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
فلموں کی ریلیز کا وقت اکثر انتخابی موسم کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے، جو سنیما کے بیانیوں اور سیاسی مہمات کے درمیان ایک گہرے اور سوچے سمجھے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیٹرن خاص طور پر 2019 کے عام انتخابات کے دوران واضح طور پر نظر آیا، جب موجودہ حکومت کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت کرنے والی کئی فلمیں دوران الیکشن ریلیز ہوئیں۔ یہ رجحان بعد کے انتخابی ادوار میں بھی جاری رہا، اور 2024-2025 کے انتخابی موسم میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ فلمیں الیکشن کے وقت ہی ریلیز ہوتی ہیں، یا یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے؟
پروپیگنڈہ فلمیں مختلف طریقوں سے انتخابی نتائج پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ سب سے پہلے، یہ موجودہ سیاسی وابستگیوں کو تقویت بخشتی ہیں، کیونکہ یہ ووٹروں کے پہلے سے قائم عقائد و نظریات کی توثیق کرنے والے بیانیے پیش کرتی ہیں۔ دوسرا، یہ سیاسی معاملات پر شدید جذباتی ردعمل پیدا کر کے ممکنہ حامیوں کو متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ آخر میں، یہ انتخابی ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں، بعض موضوعات کو نمایاں کر کے جبکہ دیگر کو پس منظر میں دھکیل کر، یوں عوامی مباحثے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ سنیما ایک خاموش ہتھیار ہے جو رائے عامہ کو بدل سکتا ہے۔مزید برآں، سنیما اور انتخابی سیاست کا یہ گٹھ جوڑ صرف مخصوص فلموں تک محدود نہیں ہے بلکہ فلمی شخصیات کی سیاسی سرگرمیوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ آندھرا پردیش اور تامل ناڈو جیسی ریاستوں میں، فلمی ستاروں نے تاریخی طور پر اپنے کیریئر کو سیاست میں براہ راست قدم رکھنے سے پہلے سماجی و سیاسی پیغام رسانی کے ایک طاقتور پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ ایک باہمی مفاد کا رشتہ ہے جہاں میڈیا شخصیات سیاسی سرپرستی سے فائدہ اٹھاتی ہیں جبکہ سیاستدان ان شخصیات کی عوامی مقبولیت اور اثر و رسوخ سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ سنیما کے ستارے سیاست کے مہرے بن جاتے ہیں، اور عوام ان کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔
پروپیگنڈہ فلموں کے فنی معیار اور تجارتی کامیابی میں کافی فرق نظر آتا ہے، جو بھارتی سنیما میں سیاسی پیغام رسانی کی ارتقائی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ کچھ فلموں نے باکس آفس پر ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ہے، لیکن دیگر مخصوص سیاسی نقطہ نظر کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے باوجود عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2019 کے بعد، تاناجی، دی کشمیر فائلز اور دی کیرالہ اسٹوری، چھاوا کے علاوہ، باقی فلمیں باکس آفس پر بری طرح پٹ گئیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ عوام اتنے بھی سادہ لوح نہیں ہیں جتنا پروپیگنڈہ کرنے والے سمجھتے ہیں؟ یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناظرین باشعور صارف ہیں جو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر فلموں کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتے۔ عصری پروپیگنڈہ فلموں کا جمالیاتی نقطہ نظر اکثر لطیف اور فنکارانہ کہانی سنانے کے بجائے جذباتی اثر کو ترجیح دیتا ہے۔ فلمیں فن سے زیادہ نعرہ بن کر رہ گئی ہیں۔
ناقدین کے مطابق، 2014 کے بعد کا پروپیگنڈہ سنیما ماضی کی سیاسی فلموں سے مختلف ہے، کیونکہ یہ "کھلے عام فرقہ وارانہ نفرت اور غلط معلومات” پھیلانے پر زور دیتا ہے۔ پہلے کا سنیما نظریاتی لحاظ سے لطیف تھا، جبکہ حالیہ فلمیں زیادہ واضح اور تفرقہ انگیز بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ فرق صرف یہ نہیں کہ پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اب یہ پروپیگنڈہ کس قدر بے شرمی اور جارحیت سے کیا جا رہا ہے۔
یہ فلمیں سیاہ و سفید اخلاقی فریم بندی، حکومتی اقدامات کی مبالغہ آمیز تعریف، دشمنوں کی کردار کشی، اور قومی فخر یا مذہبی شناخت کی جذباتی اپیل جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ اس کا مقصد پیچیدہ حقائق کو آسان بیانیوں میں تبدیل کر کے ایک خاص نظریے کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ تنقیدی تجزیے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ یہ فلمیں ذہن کو روشن کرنے کی بجائے اسے تاریک کرنے کا کام کرتی ہیں۔
سیاسی پروپیگنڈہ کے لیے سنیما کا استعمال کوئی نیا حربہ نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پردۂ سیمیں ہمیشہ سے طاقتوروں کے ہاتھوں میں ایک آلۂ کار رہا ہے۔ نازی جرمنی میں ہٹلر کی ‘پروپیگنڈہ وزارت’، جس کی باگ ڈور جوزف گوئبلز کے مضبوط ہاتھوں میں تھی، اس کی ایک واضح مثال ہے۔ گوئبلز کی وزارتِ ریخ کے تحت بننے والی فلمیں نازی نظریات کی تشہیر اور ذہن سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی تھیں۔ لینن ریفنسٹال کی شہرۂ آفاق فلم ‘ٹرائمف آف دی وِل’ کو لیجیے۔ اس فلم میں ہٹلر کو ایک دیوتا کی طرح پیش کیا گیا، جس کے لیے کم اینگل شاٹس اور سنیما کی دیگر تکنیکوں کو مہارت سے استعمال کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہٹلر کو ایک بہادر، طاقتور اور نجات دہندہ رہنما کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ نازی فلموں کا ایک اور اہم مقصد مطلق وفاداری کو فروغ دینا اور ‘دشمنوں’ کو شیطانی قوتوں کے روپ میں پیش کرنا تھا۔ ‘دی اٹرنل جیو’ جیسی فلموں نے تو اقلیتوں کو غیر انسانی روپ دے کر نسل پرستانہ اور خطرناک دقیانوسی تصورات کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں معاشرے میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکائی گئی۔ اسی طرح، برطانیہ نے بھی پہلی جنگ عظیم کے دوران فلم کو پروپیگنڈہ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سنیما کا سحر سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ سے ایک طاقتور ذریعہ رہا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پروپیگنڈہ ہمیشہ سے سیاست کا ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔ بھارتی سنیما میں بھی یہ رجحان بدلتا رہا ہے۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں نہرو کا سوشلسٹ وژن فلموں میں جھلکتا تھا، جبکہ آج کا پروپیگنڈہ سنیما زیادہ جارحانہ اور تفرقہ انگیز بیانیے کو فروغ دیتا ہے۔ ماضی کا پروپیگنڈہ نظریاتی تھا، آج کا پروپیگنڈہ نفرت انگیز ہے۔
نتیجتاً، بھارت میں پروپیگنڈہ فلموں کا بڑھتا ہوا رجحان جمہوریت، سنیما اور عوامی رائے کے تعلق پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ مسلسل نظرثانی پسندانہ تاریخی بیانیے اجتماعی یادداشت کو مسخ کر سکتے ہیں، جس سے نوجوان نسلیں قوم کے ماضی کو ایک مخصوص نظریے کی عینک سے دیکھنے لگتی ہیں۔ ماضی کو مسخ کرنا مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
یہ سنیما نہ صرف عوامی رائے سازی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی قوتیں ثقافتی مصنوعات کے ذریعے عوامی شعور کو کس حد تک قابو میں رکھ سکتی ہیں۔ ثقافت کو ہتھیار بنانا جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایسے میں شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان فلموں کے اثرات کو سمجھ کر سیاسی بیانیوں کے زیادہ باشعور صارف بنیں۔ ہمیں فلموں کو صرف تفریح نہیں بلکہ ایک پیغام کے طور پر دیکھنا سیکھنا ہوگا، اور اس پیغام کا تجزیہ کرنا ہوگا۔
بھارت میں پروپیگنڈہ سنیما کا ارتقاء سیاست اور مقبول ثقافت کے درمیان پیچیدہ اور خطرناک تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں بھی اسکالرز، ناقدین اور عوامی گفتگو کا ایک اہم موضوع بنا رہے گا، جو جمہوری اداروں کی صحت اور مکالمے کے معیار پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سنیما کا سحر برقرار رہے یا پروپیگنڈہ کا زہر غالب آجائے، یہ فیصلہ اب ناظرین کے ہاتھ میں ہے۔
=========
Like this:
Like Loading...
اسلام و علیکم ۔۔۔برادر محترم۔۔آپ کی پیش کردہ تمام ہی باتیں نظر سے گزر ی ۔۔۔۔۔۔۔آپ کی سو چ،دور اندیشی اور تجاو یز قا بل غو ر اور سو چنے کے لئے تحریک دیتی ہیں ۔۔۔۔اللہ آپ کی مدد کرے ۔۔۔آپکا ساتھی ۔۔عبدالمناف بلڈانہ