Skip to content
پانچویں بین الاقوامی اردو-ہندی کانفرنس کے افتتاحی و اختتامی اجلاس کے انعقاد پر اہم میٹنگ
لکھنؤ (ابوشحمہ انصاری)
پانچویں بین الاقوامی اردو-ہندی کانفرنس کے افتتاحی و اختتامی اجلاس کے انعقاد کے سلسلے میں ایک اہم میٹنگ ہفتہ کے روز بانی و مہتمم کانفرنس ڈاکٹر عمار رضوی، صابق کارگزار وزیر اعلیٰ اتر پردیش کی علی گنج واقع رہائش گاہ، دارالعمان، لکھنؤ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر رمیش دکشت نے کی۔
میٹنگ کے آغاز میں ڈاکٹر عمار رضوی نے تمام شرکاء کا پرتپاک استقبال کیا اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ گزشتہ چاروں بین الاقوامی اردو کانفرنسیں انتہائی کامیاب رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کانفرنسوں کے ذریعے ملک و بیرونِ ممالک میں اردو زبان کے فروغ کو نمایاں تقویت ملی ہے۔ ان کانفرنسوں کے کامیاب انعقاد میں تمام ممبران کا اس اہم کردار رہا ہے۔
میٹنگ میں پانچویں بین الاقوامی اردو-ہندی کانفرنس کے افتتاحی و اختتامی اجلاس کے انعقاد پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ طے پایا کہ یہ اجلاس 19، 20 اور 21 اپریل کو مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ہیومینٹیز، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، محمود آباد، ضلع سیتاپور (مجوزہ مولانا آزاد رورل یونیورسٹی) میں منعقد کیا جائے گا۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے اردو کے گھریلو اور تعلیمی سطح پر فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر گھر میں اردو کو عام کیا جائے۔
نئی نسل کی رہنمائی کے لیے اردو کے موضوع پر مزید پروگرام منعقد کیے جائیں۔ کم از کم میں اردو زبان کے الفاظ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ ہر گھر میں کم از کم ایک اردو اخبار ضرور خریدا جائے تاکہ بچوں میں مطالعے کی عادت پروان چڑھے اور اردو اخبارات کی اشاعت میں بھی اضافہ ہو۔
میٹنگ میں شریک معزز شخصیات نے اردو زبان کے فروغ اور اس کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر برمنگھم انگلستان سے تشریف لائے جناب امیر مہندی نے کہا اردو ایک تہذیب کی علامت ہے اور نئی نسل کو اس زبان سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے جدید ذرائع ابلاغ، ٹیکنالوجی اور نصاب میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔ اگر ہم نے آج اردو کی ترویج پر محنت نہ کی تو آنے والی نسلیں اس کے حقیقی حسن اور وسعت سے محروم ہو جائیں گی۔
پروفیسر ریشمہ پروین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو اردو زبان وادب سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو زبان کی شیرینی اور کشش ہر ایک کو متاثر کرتی ہے۔ کانفرنس میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویٹ کے طلبا کو اپنے پیپرز پڑھنے کا اور مختلف پروگرامز میں شامل ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔
پروفیسر پروین شجاعت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا اردو کی بقا صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ہمیں اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔ والدین، اساتذہ اور ادبی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کو اردو کی جانب راغب کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ زبان کے بغیر ثقافتی شناخت برقرار نہیں رہتی۔
یہ میٹنگ اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی اور کانفرنس میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔
اس اہم اجلاس میں اردو اور ہندی زبان و ادب سے وابستہ کئی معروف شخصیات نے شرکت کی، جن میں شامل ہیں۔
پروفیسر رمیش دکشت، پروفیسر وندنا دکشت، سینیر صحافی پردیپ کپور، پروفیسر خان محمد عاطف، امیر حیدر،ایڈووکیٹ، سماجی کارکن وفا عباس، ڈاکٹر ریشما پروین، ڈاکٹر منتظر قائمی، امیر مہدی (برمنگھم، انگلینڈ)، عاطف حنیف، ڈاکٹر پروین شجاعت، فرقان بیگ، عابد نظر، اسد نصیرآبادی، ڈاکٹر ہارون رضوی، اسلم بیگ، عاصم حسین، تقدیس فاطمہ، عرفان منصوری، ڈاکٹر جاوید انور، شہاب الدین خان، اکبر عابدی، ایڈوکیٹ، جمیل حسن نقوی، روی یادو، صحافی ابوشحمہ انصاری سمیت دیگر اہم شخصیات بھی اجلاس میں موجود تھیں۔
Like this:
Like Loading...