Skip to content
کیا بنگال اور بہار میں پھر سے کھیلا ہوگا؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی والوں نے جب دہلی کے بعد بنگال کا نعرہ لگایا تو ممتا بنرجی نے اپنے کرارے جواب سے ہوش اڑا دئیے۔ انہوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل جعلی رائے دہندگان کا معاملہ اچھال کر دہلی، ہریانہ اور مہاراشٹر کی فتح کو نقلی ثابت کردیا۔ ممتا بنرجی کے مطابق وہ بی جے پی کو الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹر لسٹ میں راجستھان اور ہریانہ کے نام شامل کرکے کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دیں گی۔ ممتا بنرجی کا دعویٰ ہےکہ ایک ہی نمبر میں کئی ووٹروں کے نام مل رہے ہیں، بنگال کے ووٹروں کے ای پی آئی سی نمبر میں ہریانہ یا گجرات کے ووٹروں کے نام ہیں۔ یہ کام ایجنسیوں کی مدد سے ہو رہا ہے۔ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما شوبھندو ادھیکاری نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ترنمول کانگریس پر روہنگیا مسلمانوں کے نام شامل کرنے کا الزام لگادیا۔ یہ معاملہ طول پکڑا تو الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہہ دیا کہ اب تک ایک لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے جا چکے ہیں۔ اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں حتمی ووٹر لسٹ کے شائع ہونے پر یہ انکشاف ہوا۔
یہ اعدادو شمار گمراہ کن ہوسکتے ہیں کیونکہ کمیشن اگر پچیس لاکھ جعلی ووٹرس کو شامل کرکے چھبیس لاکھ جائز رائے دہندگان کا نام نکال دے تب بھی یہی نتیجہ ہاتھ آئے گا ۔ کمیشن کے مطابق فوت شدہ ، دوسری جگہ منتقل ہونے والے اور ڈپلیکیٹ ووٹر کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ فرضی ووٹروں سے متعلق سب سے زیادہ شکایات چونکہ جنوبی 24 پرگنہ، جنوبی دیناج پور، مرشد آباد اور کوچ بہار سے آئی ہیں اس لیے چیف سکریٹری منوج پنت نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نئی درخواستوں کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کی ہدایات دی ہے ۔ کمیشن نے بھی گڑ بڑی کی صورت میں سخت کارروائی کی یقین دہانی کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری پر انتخابی نتائج کے بعد ہارنے والا حزب اختلاف لگاتا ہےمگر ممتا نے چونکہ پہلے سے یہ الزام لگا دیا اس لیے الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ کچھ ووٹرز کے ووٹر آئی ڈی کارڈ نمبر ایک جیسے ہوں تو وہ جعلی نہیں ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ اس نقص کو دور کیوں نہیں کیا جاتا؟بی جے پی کی چوری پکڑی گئی تو بنگال کے نگراں امیت مالویہ نے الٹا ممتا بنرجی پر شکست کے خوف سے انتخابی نظام میں ووٹروں کا اعتماد متزلزل کرنے کا الزام لگا دیا اور خود بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آنے والوں کو ووٹر بنانےکی بات کہہ دی لیکن سوال یہ ہے امیت شاہ بنگلہ دیشیوں کو آنے سے روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟
ممتا اور تیجسوی کی مقبولیت بی جے پی کے لیے مصیبت ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ساتھ مل کر کیا جانے والا سی ووٹر کا جائزہ بہار کے اندر تبدیلی کی لہر کا اشارہ کررہا ہے۔ اس سروے کے دوران جب شرکاء سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک وزیر اعلیٰ کے عہدے کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے تو 18 فیصد لوگوں نے بتایا کہ وہ نتیش کمار کو پھر سے اس کرسی پر براجمان دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس 41 فیصد لوگوں کی رائے تھی کہ وہ تیجسوی یادو کو ان کی جگہ وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نتیش شرما اس قدر پچھڑ کیوں گئے کیونکہ دوگنا سے زیادہ 23 فیصد کا فرق معمولی نہیں ہوتا اور اس کھائی کو پاٹنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار نے وزیر اعظم کی آمد سے قبل پریس کانفرنس کرکے یہ مطالبہ کیا کہ ان کے والد کو ’لاڈلہ وزیر اعلیٰ‘ مقرر کردیا جائے تو بی جے پی نے یہ کہہ کر انہیں شانت کردیا کہ ابھی صبر کرو۔ بعید نہیں کہ اس بار نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کا چہرا نہ بنائے کیونکہ اب وہ این ڈی اے کے لیے سرمایہ نہیں بوجھ بن گئے ہیں۔ نشانت کو سیات میں لاکر نتیش نے لالو پر اقربا پروری سے گریز کےامتیاز کو ختم کردیا۔
نتیش کمار کے زوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلے انتخاب میں بی جے پی نے چراغ پاسوان کے ہاتھ میں چھرا تھماکر نتیش کی پیٹھ کو لہو لہان کیا۔ اس کوشش میں خود پاسوان کا چراغ بھی بجھ گیا ورنہ اسی وقت نتیش کمار کی سیاسی زندگی کو چتا پر لٹا کر انتم سنسکار کردیا جاتا۔پچھلے انتخاب کے بعد بی جے پی اور جے ڈی یو نے اسی چتا کے گرد سات پھیرے لگا کر بادلِ نخواستہ پھر سے گھر سنسار شروع کیا مگر نتیش کمار نے پھر سے پلٹی مار کر ’انڈیا‘ محاذ بنایا۔ اس کے بعد جب وہ این ڈی اے میں لوٹے تو ان کی عرفیت’پلٹو رام ‘ سے’پالتو شیام‘ ہوگئی۔ اسی کے نتیجے میں وہ عوام کی نظروں سے گر گئے اوراب سنبھل نہیں سکیں گے۔ حالیہ سروے نتیش کمار کی لاعتباریت پر شاہد ہے۔ اس سروے کے مطابق 58 فیصد بولے کہ موصوف پر بھروسے میں کمی آئی ہے۔13 فیصد کسی نہ کسی حدتک کمی کے قائل تھے جبکہ صرف 21 فیصد کے خیال میں وہ اب بھی لائقِ اعتماد ہیں ۔ ایک زمانے میں وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے والے نتیش کمار کی بی جے پی سےدوستانہ نے یہ درگت بنادی۔
بی جے پی نے دوسری مرتبہ تھکے ماندے نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کے طور پرتسلیم کرلیا حالانکہ پچھلی بار آر جے ڈی پہلے نمبر تھی اور اس نے 75 نشستوں پر کامیابی درج کرائی تھی ۔ اس کے بعد 243؍ارکان کی اسمبلی میں بی جے پی نے 74 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ بیچارے نتیش کمار کی جے ڈی یو 43 پر سمٹ گئی تھی۔ کانگریس 19 پر تھی اور مودی کے ہنومان چراغ پاسوان کے حصے میں ایک نشست آئی تھی۔ جے ڈی یواور بی جے پی کے درمیان اس مجبوری کی شادی میں یہ سمجھوتہ ہوا کہ وزیر اعلیٰ تو نتیش کمار ہی ہوں گے مگر ان پر بی جے پی اپنے دو نائب وزر ائے اعلیٰ مسلط کردے گی جبکہ پہلے جب جے ڈی یو اور بی جے پی کی طاقت یکساں ہوتی تھی تو ان میں سے ہر ایک کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی ملتا تھا۔ بی جے پی نے اپنے دو عدد نائب وزیر اعلیٰ تو بنوا دئیے مگر وہ دونوں نکمے نکلے۔ان میں سے ایک کا تو خیر کوئی نام بھی نہیں جانتا مگر اپنے نفرت انگیز بیانات کے لیے مشہو ر سمراٹ چودھری تو نوزائیدہ جن سوراج پارٹی کے پرشانت کشور جتنی مقبولیت بھی حاصل نہیں کرسکے ۔ حالیہ سروے کے مطابق جہاں پرشانت کشور کو 15 فیصد لوگوں نے پسند کیا وہیں سمراٹ چودھری کے چاہنے والے صرف 8 فیصد تھے ۔ کنگنا رناوت سے پینگیں لڑانے والے چراح پاسوان کو صرف4 فیصد عوام وزیر اعلیٰ کی کرسی کا اہل سمجھتے ہیں۔ اس طرح این ڈی اے تینوں رہنماوں کی مجموعی مقبولیت بھی تیجسوی سے کم ہے۔
بہار کے50 فیصد لوگ این ڈی اے سے نجات چاہتے ہیں۔ 22 فیصد ناراض تو ہیں مگرتبدیلی نہیں چاہتے جبکہ 25 فیصد اسی حکومت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔سی ووٹر کے سروے میں فرد کے علاوہ عوامی دلچسپی کے مسائل پر سوالات کیے گئے تو جو رجحان سامنے آیا وہ بی جے پی کے لیے سمِ قاتل ہے ۔ رائے دہندگان میں سے 45 فیصد نے بیروزگاری کو سب سے اہم مدعا بتایا۔ وزیر اعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ کمبھ کی ڈبکی سے بیروزگاری پھیلانے کا پاپ نہیں دھلتا۔ کمبھ بہت زیادہ بھیڑ کی وجہ ملک میں بیروزگاروں کا جم غفیر ہےمگرکیا وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر پھر سے بی جے پی کو ووٹ دیں گے؟ دوسرا اہم ترین مسئلہ مہنگائی کا ہےجو 11 فیصد لوگوں کے لیے سوہانِ جان بناہوا ہے۔ اس صورتحال کے لیے پنڈت نہرو یا جنگل راج کو موردِ الزام ٹھہراکر جان چھڑانا غلط ہے۔ بجلی،پانی اور سڑک 10 فیصد لوگوں کے نزدیک اہم ہے۔ کسانوں کے مسائل اور بدعنوانی کو صرف 4فیصد لوگ اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ جائزہ اگر دورے سے پہلے آجاتا تو ممکن ہے وہ کسانوں اور جنگل راج کا راگ نہیں الاپتے۔
بی جے پی کے پاس ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس لیے وہ ذات پات کی جوڑ توڑ سے الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ اس نے ابھی حال میں وزارت کی توسیع کرائی اورآئینی گنجائش کے مطابق زیادہ سے زیادہ تعداد میں وزیر بنا دئیے۔ فی ا لحال ۷؍ کی گنجائش تھی تو یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ۵؍ بی جے پی اور ۲؍ جے ڈی یو کے ہوں گے مگر بی جے پی نے سب کے سب اپنے لوگوں کی حلف برداری کردی۔ اس میں مختلف ذاتوں کی نمائندگی کا خاص خیال رکھا گیا۔ وہ ایسا سمجھتی ہے کہ اس طرح الگ الگ ذاتوں کی نازبرداری کرکے انتخاب جیتا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے ہندوستانی سماج زات پات میں منقسم ہے اور یہ حربہ کام آتا ہے لیکن وزیر اعظم کے لوٹتے ہی پٹنہ میں ایک طالبہ ڈپٹی چیف منسٹر سمراٹ چودھری کی کار کے سامنے چھلانگ لگا دینا بتاتا ہے کہ شاید پانی سر سے اونچا ہوگیاہے۔ مذکورہ طالبہ دیگر طلبہ کے ساتھ ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج کررہی تھی کیوں کہ وزارت تعلیم نے ایس پی ای ٹی میں شریک ہونے والے اُمیدواروں کو ریاست میں اساتذہ کی بھرتی کے تیسرے مرحلہ کی درخواستیں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔سمراٹ نے طلبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے مظاہرین کو تیقن دیا کہ وہ اُن کا پیام محکمہ تعلیمات کو پہنچا ئیں گے اور شکایتوں کا ازالہ ہوگا مگر اس بات کا امکان ہے کہ بیروزگاری کی آندھی اس بار کمل کے نشان کو اڑا کر لے جائے۔
Like this:
Like Loading...