Skip to content
قرآن اللہ کا دستر خوان
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک موقع پر قرآن کریم کی عظمت ورفعت کو بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ’’یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا بچھا ہوا دستر خوان ہے ،تو(صبح وشام) جتنی بار ہوسکے خدا کے اس دستر خوان سے سیراب ہوتے رہو ،بلاشبہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے،یہ تاریکیوں کو ختم کرنے والی روشنی اور شفا دینے والی دواہے،یہ مضبوطی سے تھامنے والوں کا محافظ اور عمل کرنے والوں کیلئے ذریعہ نجات ہے،یہ کتاب کسی سے بے رخی اختیار نہیں کرتی کہ اسے منانے کی ضرورت پڑے،اس میں کوئی ٹیڑ ھا پن نہیں کہ اسے سیدھا کرنے کی ضرورت پیش آئے،اس میں کبھی ختم نہ ہونے والے عجیب معانی کا خزانہ ہے اور یہ ایسا لباس ہے جو کثرت استعمال سے پُرانا نہیں ہوتا(سفینہ ٔ نجات :۱۹۴، بحوالہ مستدرک )، سیدناابن مسعودؓ نے قرآن مجید کو ’’اللہ کا دسترخوان ‘‘ کہہ کر بڑی اہم بات کی طرف اشارہ فرمایا ، کہ جس طرح انسانی زندگی اور اس کی حیات کیلئے مادّی غذا ضروری ہے ،اس کے بغیر انسان کا جسمانی وجود برقرار نہیں رہ سکتا ،اسی طرح روح کی زندگی اور اس کے بقا کیلئے روحانی غذا ضروری ہے ،اس کے بغیر روحانی وجود برقرار نہیں رہ سکتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے روحانی غذا کیلئے قرآن کریم کی شکل میں اپنا دسترخوان بچھایا ہے ،جوشخص قرآن کریم سے کس قدر شغف رکھے گا اسے روحانی اتنی ہی ترقی حاصل ہوگی، سیدنا ابن مسعودؓ نے قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے والوں کیلئے محافظ بتایا ہے ،اس طرح سے کہ جو شخص صبح وشام کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کی ورق گردانی کرتا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر اس کے احکامات کے مطابق عمل کرتا رہتا ہے تو قرآن کریم ایسے شخص کا محافظ بن کر اسے خواہشات دنیا کے دلدل میں پھنسنے ، شیطانی چکر میںپڑنے اور نفس کے فریبی جال میں قید ہونے سے بچاتا رہتا ہے۔
خلیفہ ثانی سید نا عمر فاروقؓ کو اپنے دور خلافت میں جب یہ اطلاع ملی کہ ملک شام کے لشکر میں حفاظ کرام کی تعداد تین سو سے بڑھ گئی ہے تو آپ ؓ نے امیر لشکر سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کو خط لکھ کر ان کا وظیفہ بڑھانے اور انہیں اطراف واکناف میں قرآن سکھانے پر مامور کرنے کا حکم نامہ جاری فرمایا ، ساتھ ہی اس خط میں حفاظ کے لئے چند نصیحتیں بھی لکھیں ، فرمایا ’’سلام علیکم! امابعد! یہ قرآن تمہارے لئے باعث اجر ،سبب شرف وعزت اور (آخرت میں کام آنے ولا) ذخیرہ ہے،اس لئے تم اس کے پیچھے چلو(اپنی خواہشات کو قربان کرکے اس پر عمل کرو) قرآن تمہارے پیچھے نہ چلے (یعنی قرآن کو اپنی خواہشات کے تابع نہ بناؤ) کیونکہ قرآن جس کے پیچھے چلے گا تو اسے گُدی کے بل گرادے گا ،پھر اُسے آگ میں پھینک دے گااور جو قرآن کے پیچھے چلے گاقرآن اُسے جنت الفردوس میں لے جائے گا،تم اس بات کی پوری کوشش کرو کہ قرآن تمہارا سفارشی بنے اور تم سے جھگڑا نہ کرے کیونکہ قرآن جس کی سفارش کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس سے قرآن جھگڑا کرے گا وہ آگ میں داخل ہوگا اور یہ جان لو کہ قرآن ہدایت کا چشمہ اور علم کی رونق ہے اور یہ رحمن کے پاس سے آنے والی سب سے آخری کتاب ہے ،اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اندھی آنکھوں کو ،بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھولتے ہیں اور جان لو کہ بندہ جب رات کو کھڑا ہوتا ہے اور مسواک کرکے وضو کرتا ہے ،پھر تکبیر کہہ کر (نمازمیں)قرآن پڑھتا ہے تو فرشتہ اُس کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر کہتا ہے اور پڑھ ،اور پڑھ ،تم خود پاکیزہ ہو اور قرآن تمہارے لئے پاکیزہ ہے،اور اگر وہ بغیر مسواک کے وضو کرے تو فرشتہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسی تک محدود رہتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں کرتا ،غور سے سنو! نماز کے ساتھ قرآن کا پڑھنا محفوظ خزانہ اور اللہ کا مقرر کردہ بہترین عمل ہے،لہٰذا جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھو،نماز نور ہے اور زکوٰۃ دلیل ہے اور صبر روشن اور چمکدار عمل ہے اور روزہ ڈھال ہے اور قرآن تمہارے لئے حجت ہوگا یا تمہارے خلاف،لہٰذا قرآن کا اکرام کرواور اس کی توہین نہ کرو کیونکہ جو قرآن کا اکرام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اکرام کرے گا اور جو اس کی توہین کرے گا ،اللہ تعالیٰ اس کی توہین کرے گا،اور جان لو کہ جو قرآن پڑھے گا اور اسے یاد کرے گا اور اس پر عمل کرے گااور جو اس میں ہے اس کا اتباع کرے گا تو اس کی دعا اللہ کے ہاں قبول ہوگی ،اگر اللہ چاہے گا تو اس کی دعا دنیا میں پوری کردے گا ورنہ وہ دعا آخرت میں اس کیلئے ذخیرہ ہوگی اور جان لو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ان لوگوں کیلئے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے جو ایمان رکھنے والے اور اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں(حیات الصحابہ :۳؍۲۶۲)۔
سیدنا فاروق اعظم ؓ کی یہ نصیحتیں اُن حفاظ کے علاوہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں، اسے کلام الٰہی اور آسمانی آخری ہدایت نامہ تصور کرتے ہیں، اُس پر عمل کے ذریعہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں فلاح یاب ہونا چاہتے ہیں، یقینا انسانوں کی عزت وشرف قرآن مجید کے ساتھ وابستگی میں مضمر ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ کے تاج وتخت قرآن سے وابستہ قوموں کی ٹھوکروں میں آکر گرے ،قوموں نے انہیں اپنا پیشوا اور مقتدیٰ بنا لیا اور قرآن سے بے پرواہی کرنے والے نہ صرف تاج وتخت سے محروم ہوئے بلکہ قوموں نے انہیں اپنا غلام بنالیا ،سیدنا عبدالرحمن بن ابی ابزیؓ نے ایک دیہاتی شخص کو قریش پر حاکم بنایا ،سیدنا عمر فاروق ؓ نے ان سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو جواب میں سیدنا عبدالرحمنؓ نے فرمایا کہ میں نے ان سے زیادہ کسی کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے نہیں دیکھا ، سیدنا فاروق اعظم ؓ نے خوش ہوکر فرمایا :تم نے ٹھیک کیا واقعی اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعہ بعض کو بلند اور بعض کو پست کر تا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میںقرآن کریم سے تعلق جوڑ نے والوںکو بلند ترین مقام پر پہنچا دیتا ہے اور اس سے تعلق کو توڑ نے والوں کو نہایت ذلت کے ساتھ بلندی سے پستی کی طرف ڈھکیل دیتا ہے، قرآن کریم کی اتباع آخرت میں دخول جنت کا سبب اور اس سے اعراض نار جہنم کا موجب ہے،قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنے والے ، حفظ کے ذریعہ اسے اپنے سینوں میں محفوظ کرنے والے اور اس کے احکامات پر عمل کر تے ہوئے زندگی گزار نے والے بارگاہ الٰہی میں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ،قاری ٔ قرآن جب محبت الٰہی میں ڈوب کر قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو فرشتے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیتے ہیں اور اس سے مزید پڑھتے رہنے کی خواہش کرتے رہتے ہیں ، کثرت تلاوت کی وجہ سے وہ فرشتوں میں معروف اور ان کا نور نظر بن جاتا ہے ، جس وقت وہ بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہے تواس کی دعا رد نہیں کی جاتی اور جب مانگتا ہے تو خزانہ ٔ خداوندی سے اسے بھر پور دیا جاتا ہے ۔
بہت سی حدیثیں ہیں کہ جن میں رسول اللہ ؐ نے اپنی امت کو قرآن کریم سے شغف پیدا کرنے ، اس سے تعلق مضبوط کرنے ،اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور اُسے حفظ کرنے کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کا معمول بنانے کی تعلیم دی وتلقین فرمائی ہیں اور اس کی تلاوت پر غیر معمولی اجر وثواب بھی بتایا ہے ، اہل علم قرآن کریم کے حقوق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے تجوید کے ساتھ پڑھاجائے،چنانچہ ہر صاحب ایمان کی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کو کسی ماہر معلم کی نگرانی میں تجوید کے ساتھ سیکھنے کی کوشش کریں، تجوید وترتیل کے ساتھ قرآن کی تلاوت ہر شخص پر لازم ہے ، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :ورتل القرآن ترتیلا(مزمل،۴)’’ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھو‘‘، دوسرا حق یہ ہے کہ اسے سمجھاجائے ،اس سلسلہ میں بعض لوگ غلطی کرتے ہیں ،بعض تو صرف تلاوت ہی پر اکتفا کرتے ہیں اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بعض لوگ سمجھنے کی فکر تو کرتے ہیں مگر اسے تجوید کے ساتھ پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ یہ دونوں چیزیں اس کے حقوق میں داخل ہیں ،تیسرا حق یہ ہے کہ اس کے احکام کے مطابق عمل کیا جائے ،یقینا قرآن کریم کے نزول کا مقصد ہی انسانیت کی ہدایت اور اس کی فلاح وکامیابی ہےاور اس پر عمل کے بغیر اسے یہ چیزیں حاصل نہیں ہو سکتی ہیں ، قرآن کریم عام کتابوں کی طرح محض ایک کتاب نہیں کہ جس سے صرف معانی ومطالب کا تعلق ہو بلکہ اس کے معانی اور الفاظ دونوں مقصود ومطلوب ہیں، خود قرآن کریم میں’’اتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃ‘‘(العنکبوت:۴۵)کے ذریعہ تلاوت قرآن کا حکم دیا گیا ہے ، رسول اللہ ؐ کی بعثت کے مقا صد میں ’’ یَتْلُوْ عَلَیْْہِمْ آیَاتِہٖ‘‘(اٰل عمران:۱۶۴) بھی بتایا گیا ہے ، ایک حدیث میں آپ ؐ نے تلاوت قرآن کو افضل ترین عبادت قرار دیا ہے، رسول اللہؐ کا ارشاد ہے :افضل عبادۃ امتی قرأۃ القرآن(الاتقان)’’ تلاوت قرآن میری امت کی سب سے بہترین عبادت ہے‘‘، تلاوت قرآن میں مشغول رہنے والوں کی قرآن مجید میں ان الفاظ سے تعرف کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:یَتْلُونَ آیَاتِ اللّہِ آنَاء اللَّیْْلِ وَہُمْ یَسْجُدُونَ(اٰل عمران ؛۱۱۳)’’(اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے )وہ لوگ ہیں جو رات کی تنہائی میں تلاوت قرآن کرتے رہتے ہیں‘‘، قرآن کریم میں ایک مقام پر تلاوت قرآن کی سماعت کو مومنین کے ایمان میں زیادتی کا سبب بتلایا گیا ہے : وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہٗ زَادَتْہُمْ إِیْمَانًا (انفال:۲) ’’(کامل ایمان رکھنے والے وہ لوگ ہیں )کہ جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم سننے والے کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر پڑھنے والے کے ایمان میں بھی زیادتی کیونکر نہ ہوسکے گی ،ایک حدیث میں آپ ؐ کا ارشاد ہے کہ ’’من قرأ القرآن لیلا او نہارا صلت علیہ الملائکہ‘‘(سنن الدارمی:۳۴۸۰) جو شخص صبح وشام تلاوت قرآن میں مشغو ل رہتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعائے خیر کرتے رہتے ہیں،اور بھی متعدد احادیث میں تلاوت قرآن اور ہر ہر حرف پر دس دس نیکیوں کے ملنے کا ذکر موجود ہے، خودرسول اللہ ؐاور آپ کے اصحابؓ داخل نماز اور خارج نماز کثرت سے تلاوت قرآن مجید کیا کرتے تھے ، دن کی تھکادینے والی مشغولیت سے فارغ ہوکر جب اورلوگ رات میں میٹھی نیند کے مزے لے تے تھے تو آپ ؐاور صحابہ ٔ کرامؓ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوکر رب سے سرگوشیاں کرتے تھے،مکی دور میں جب آپ ؐ رات کی تنہائی میں تلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے تو بعض مشرکین باوجو اسلام کے شدید دشمن ہونے کے چھپ چھپ کر تلاوت قرآن سنتے تھے، رمضان المبارک جس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے، آپ ؐسیدنا جبرئیل ؑ کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا ایک دور فرمایا کرتے تھے اور وفات کے سال تو آپ ؐ نے قرآن کریم کے دودور فرمائے(بخاری :۴۹۹۸) ۔
قرآن کریم پر عمل سے زندگیوں میں جہاں انقلاب برپا ہوتا ہے وہی اس کی تلاوت سے جسم ِ خاکی سرور پاتا ہے ، دل کا زنگ دور ہوتا ہے اور روح منور ہوجاتی ہے ، رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا : بنی آدم کے دلوں پر اسی طرح زنگ پڑجاتا ہے جس طرح پانی لگ جانے سے لوہے پر زنگ آجاتا ہے ،پوچھا گیا ،یارسول اللہ ؐ !دلوں کا زنگ دور کر نے کا ذریعہ کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا:موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا( معارف القر آن :۵؍ ۸۴،بحوالہ بیہقی)قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کو حق تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوتا ہے ،تلاوت قرآن کے ذریعہ بندہ روحانیت کے زینہ طے کرتے ہوئے خدا کے قریب ہوجاتا ہے ، حدیث میںآپ ؐ نے نماز کو مومن کی معراج فرمایا ہے ،علماء نے اس کی وجہ یہی بتائی ہے کہ نماز کے ذریعہ بندہ خدا کے بالکل قریب ہوجاتا ہے اور اس میں تلاوت قرآن کے ذریعہ ذات خداوندی سے ہم کلامی کا شرف حاصل کر لیتا ہے ، گویا مومن کے لئے یہی معراج ہے،جب تک بندہ تلاوت قرآن میں مشغول رہتا ہے اس وقت رحمت الٰہی ابر رحمت بن کر سایہ فگن ہوتی ہے، وہ رحمت کی بارش میں نہاتا اور نوازشات کے دریا میں غوطہ لگاتا رہتا ہے ، جو شخص تلاوت قرآن میں منہمک اور مصروف ر ہتا ہے ،جس کی وجہ سے اُسے ذکر واذکار ،دعائیں اور دیگر نفلی عبادتوں کا موقع نہیں ملتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ذکر ،دعا اور دیگر عبادتوں میں مشغول رہنے والوں سے بڑھ کر ثواب عنایت فرماتے ہیں ، رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ من شغلہ القرآن عن ذکری ومسأ لتی اعطیتہ افضل ما اعطی السائلین (ترمذی:۲۷۲۲)’’ جس شخص کو قرآن نے میرے ذکر اور مجھ سے مانگنے کا موقع نہ دیا ،تو مانگنے والوں اور ذکر کرنے والوں میں جتنا دیا کرتا ہوں ،اُس سے بہتر اس شخص کو دیتا ہوں ‘‘۔حدیث میں قرآن کریم کا حق اس کی تلاوت بتلایا گیا ہے ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا اے قرآن والو! قرآن کو اپنا تکیہ مت بنالو ،بلکہ دن اور رات اس کی تلاوت کیا کرو،جیساکہ اس کا حق ہے اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی سے اور مزے لے لے کر پڑھا کرو ،اور اس میں غور فکر کرو،امید رکھو کہ تم اس سے فلاح پاجاؤ گے اوردنیا میں معاوضہ لینے کی عجلت مت دکھاؤ ،اللہ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ ملنے والا ہے( معارف الحدیث :۵؍۸۱ بحوالہ شعب الایمان)معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کی تلاوت بھی ذکر اللہ ہی کی ایک قسم ہے اور بعض لحاظ سے تو سب سے اعلیٰ وارفع عبادت ہے،اللہ تعالیٰ کو بندہ کا تلاوت قرآن میں مشغول ہونا بہت پسند ہے ،رسول اللہ ؐ نے تلاوت قرآن میں مشغول کی مثال اس زنبیل سے دی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہے ،ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے قرآن پڑھا اور پھر روزانہ اس کی تلاوت کا معمول رکھا اس کی مثال ایسی ہے جیسے مشک سے بھری زنبیل جس کی خوشبو چار سو مہک رہی ہے ،اور جس شخص نے قرآن پڑھا لیکن روزانہ اس کی تلاوت نہیں کرتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے مشک سے بھری بوتل کہ جس کو ڈاٹ سے بند کر دیا گیا ہے(ترمذی :۲۸۶۵)، قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ہر حرف پر ایک ایک نیکی دی جاتی ہے ، رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا:جس نے قرآن میں سے ایک حرف پڑھا اس اس کے بدلے ایک نیکی دی جائے گی اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے ،میں نہیں کہتا کہ ’’الم‘‘ ایک حرف ہے بلکہ ’’الف‘‘ ایک حرف ہے’’لام‘‘ ایک حرف ہے اور ’’میم‘‘ ایک حرف ہے(ترمذی : ۲۷۰۷)، اس حدیث میں سورۂ بقرہ کے اس شروع کلمہ کو پڑھنے پر تیس نیکیوں کا وعدہ ہے ،حالانکہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہے ،جس کے معانی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ،اس کے باوجود اس کے پڑھنے پر تیس نیکیوں کا ملنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی مقصود ہیں ،قرآن کریم بادشاہ وقت کاکلام نہیں بلکہ شہنشاہ عالم کا کلام ہے اور تلاوت کرنے والا گویا شہنشاہ عالم سے ہم کلام ہے، اس لئے تلاوت کے وقت ظاہری پاکی کے ساتھ باطنی پاکی بھی ضروری ہے ،ظاہری پاکی سے مراد وضو اور باطنی پاکی سے مراد دل غیر کے خیالات سے پاک ہو ،کلام الٰہی کی عظمت ووقعت کا مکمل احساس ہو ،سیدنا عکرمہ ؓ جب قرآن کی تلاوت فرماتے تو اکثر بے ہوش ہوجایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ’’ یہ میرے جلال وعظمت والے پروردگار کا کلام ہے۔
رمضان المبار کو قرآن کریم سے خاص نسبت اور انسیت ہے ،یہی وجہ ہے کہ نزول قرآن کے لئے اسی ماہ کا انتخاب عمل میں آیا ، رسول اللہ ؐ اورصحابہ ٔ کرام ؓ اس ماہ میں کثرت سے تلاوت کا اہتمام فرماتے تھے ،اور ہر دور کے بزرگان دین اور علماء واکابرینِ امت کا بھی یہی معمول رہا ہے کہ وہ بھی رمضان میں کثرت سے تلاوت کیا کرتے ہیںتاکہ تلاوت قرآن کے ذریعہ روزہ کے لمحات کو مزید خوبصورت بنایا جا سکے،رمضان المبارک کی رحمتوں ،برکتوں اور عنایتوں سے بھر پور فائدہ آٹھے ہوئے ہم کو بھی زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن میں اپنے اوقات صرف کرنا چاہیے ، عام دنوں میں ہر حرف پر دس نیکی اور رمضان میں ہر نیکی پر سات سو گنا تک ثواب دیا جاتا ہے ،اس کے ذریعہ ہم اپنے نامہ اعمال میں کروڑوں نیکیوں کا اندارج کرا سکتے ہیں ،کیا بعید کہ رمضان میں تلاوت کی کثرت اور قرآن سے تعلق کی برکت زندگی میں دینی انقلاب برپا ہوجائے اور پھر عمر بھر قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عطا ہو جائے ۔
Like this:
Like Loading...