Skip to content
فلسطین،7مارچ(ایجنسیز)حماس نے جمعرات کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینیوں کے خلاف بار بار کی دھمکیاں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی غزہ جنگ بندی سے انحراف اور غزہ کے محاصرے کو تیز کرنے کی حمایت میں ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ حماس "تمام یرغمالیوں کو ابھی رہا کرے، بعد میں نہیں” بشمول مردہ یرغمالیوں کی باقیات "یا یہ معاملہ آپ کے لیے ختم۔”
رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی دھمکیاں اس دن سامنے آئیں جب ان کے ایلچی نے حماس سے خفیہ مذاکرات کیے۔ اس اقدام سے فلسطینی دھڑے کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی عشروں سے جاری امریکی پالیسی سے علیحدگی کا عندیہ ملتا ہے۔
مصری سکیورٹی حکام نے جمعرات کو رائٹرز کو تصدیق کی کہ ٹرمپ کے ایلچی اور حماس کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اور اس میں مصری اور قطری ثالثین نے بھی شرکت کی۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے رائٹرز کو ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا، "ہمارے لوگوں کے خلاف ٹرمپ کی بار بار دھمکیاں نیتن یاہو کی حمایت کی نمائندگی کرتی ہیں کہ وہ معاہدے میں پس و پیش کریں اور ہمارے لوگوں کے خلاف محاصرے اور بھوک کو مزید سخت کر دیں۔”
انہوں نے کہا، "باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوں اور اسے (اسرائیل کو) ثالثین کی سرپرستی میں طے پانے والے معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے۔”
جنوری میں نافذ ہونے والا غزہ جنگ بندی معاہدہ دوسرے مرحلے میں باقی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا تقاضہ کرتا ہے جس کے دوران جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز ختم ہو گیا اور اسرائیل نے اس کے بعد سے غزہ میں داخل ہونے والے تمام سامان کی مکمل ناکہ بندی کر دی اور حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کیے بغیر باقی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔
فلسطینی کہتے ہیں کہ ناکہ بندی غزہ کے کھنڈرات میں رہنے والے 2.3 ملین لوگوں میں فاقہ کشی کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہا ہونے والے یرغمالیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد نئی دھمکیاں دیں۔
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "میں اسرائیل کو وہ سب کچھ بھیج رہا ہوں جس کی اسے کام ختم کرنے کے لیے ضرورت ہے، حماس کا ایک بھی رکن محفوظ نہیں رہے گا اگر آپ میرے کہنے کے مطابق عمل نہیں کریں گے۔ "اس کے علاوہ، غزہ کے لوگو: ایک خوبصورت مستقبل آپ کا منتظر ہے لیکن اگر آپ نے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو نہیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو سمھیں آپ مر گئے! ایک عقلمندانہ فیصلہ کریں۔ قیدیوں کو ابھی رہا کریں ورنہ بعد میں ایک جہنم ہو گا!”
فلسطینی انکلیو میں خان یونس کے ایک رہائشی احمد نے کہا، "(ٹرمپ کا) کام فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ذریعے قیامِ امن کے لیے زیادہ ہونا چاہیے نہ کہ وہ غزہ کی پٹی کے لوگوں پر الزام تراشی کریں اور دھمکیاں دیں جو اس جنگ کے نتیجے میں مصائب جھیل رہے ہیں۔”
ذرائع نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ نے غزہ میں قید امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر کے ایک دیرینہ سفارتی روایت توڑ دی۔
وائٹ ہاؤس نے بات چیت کے بارے میں سوال پر کہا، یرغمالی امور کے امریکی ایلچی ایڈم بوہلر کو حماس کے ساتھ براہِ راست بات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مذاکرات کے بارے میں معلومات رکھنے والے دو ذرائع نے بتایا کہ بوہلر اور حماس کے حکام نے حالیہ ہفتوں میں دوحہ میں ملاقات کی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کی نمائندگی کس نے کی۔
رائٹرز سے بات کرنے والے دو مصری سکیورٹی حکام نے کہا کہ حماس نے مذاکرات کے دوران مرحلہ وار جنگ بندی کے اصل معاہدے پر قائم رہنے پر اصرار کیا تھا۔
فریقین نے اتفاق کیا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان اختلافات دور کرنے کی غرض سے ثالثین کو وقت دینے کے لیے جنگ بندی برقرار رکھی جائے۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کرنا چاہتا تھا۔ حماس نے اسرائیل کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
دو مصری ذرائع کے مطابق مصر نے جنگ بندی معاہدے کو جنگ کے خاتمے تک برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غزہ کے لیے قاہرہ کے تعمیرِ نو کے منصوبے پر عمل درآمد میں آسانی ہو گی جس کی عرب رہنماؤں نے منگل کو ایک سربراہی اجلاس میں توثیق کی تھی۔
مصری ذرائع نے کہا کہ مذاکرات مثبت انداز میں ختم ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین جلد ہی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...