Skip to content
وقف ترمیمی بل اور صدائے انصاف
ازقلم:ابن عطاءاللہ بنارسی
”چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت“
:فیض احمد فیضؔ
وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے آخری حق کا استعمال کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ 13 مارچ سے دہلی میں صدائے احتجاج بلند کی جائے گی، اسلئے کہ دنیا کے ہر جمہوری ملک میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی اور اپنے وجود کی محافظت میں صدائے احتجاج بلند کرے!
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی یہ تجویز کچھ نازک دلوں کو گراں اور کچھ نفاست پسند دماغوں کو بد صورت نظر آرہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ احتجاج اس طرح نہیں بلکہ اس طرح کیا جائے، صدائے انصاف یوں نہیں بلکہ یوں اٹھائی جائے، حضرت مدنی رابطہ عالمِ اسلامی کو دخل اندازی کی دعوت دیں، جمعیت باغیانہ رخ اختیار کرے! وغیرہ
دیکھئے اختلافِ رائے فیہ نفسہ قابلِ تعریض نہیں، لیکن قابل غور ضرور ہے کہ اختلافِ رائے کس زاویے کا ہے اور کس پسِ منظر سے تعلق رکھتاہے؟اور اختلاف رائے برائے تصحیح ہے یا برائے تضحیک؟ یا اختلاف برائے اختلاف۔
برادرانِ ملت اسلامیہ!
ہماری ملی تنظیمیں کیا ہیں؟ کیا یہ ہندوستان کے خزانے سے مربوط سرکاری محکمے ہیں؟ جنکے پاس اپنے مطلب منوانے کے لئے ضرب و حرب کے آلات ہوں؟ یا کوئی سیاسی جماعتیں ہیں جنہیں ہر طرح کی سرکاری سہولت حاصل ہو؟
ہماری تنظیمیں، ہمارے اتحاد و اتفاق کا سوا اور کیا ہیں؟ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی فکر، اپنے اپنے مشورے اور اپنی اپنی آئیڈیالوجی کچھ دن کے لئے اپنے دل کے کسی قبرستان میں دفن کردیں، اور ایک آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں، ورنہ ظالموں کی جماعت یہ نہیں پوچھے گی کہ کس کا نظریہ زیادہ دور اندیشی کا حامل تھا؟ آو اسے ہم بخش دیتے ہیں!
یاد رکھئے دہلی کی سرزمین پر مسلم پرسنل لاءبورڈ کی آواز مسلمانان ہند کی آواز ہے، اس آواز میں آواز ملا سکتے ہیں تو ضرور ملائیں چاہے قولاً یا تحریراً، بصورت دیگر سکوت اختیار کریں۔
اگر ہماری آوازیں ظالموں کی سماعت سے نہیں ٹکراتیں، تو یہ ناکامی ہم سب کی ناکامی ہے، صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کی یا جمعیت کی نہیں!
”حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو!
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے“
:فیض احمد فیضؔ
Post Views: 16
Like this:
Like Loading...