Skip to content
ظریفانہ: اورنگ زیب عالمگیر سے ابو عاصم اعظمی تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن جوشی سے کلن پوار نے پوچھا یار آج کل اپنے گودی میڈیا پر تو دشمن چھائے ہوئے ہیں ؟ تم اندر کے آدمی ہو سچ بتاو کیا بات ہے؟
للن بولا کیا بکواس کرتے ہو؟ اپنے ٹکڑوں پر پلنے والے میڈیا کی کیا مجال کہ وہ ایسی جرأت کرے ہم اس پر ٹاڈا لگوا دیں گے ۔
تم مجال کی بات کرتے ہو میں تو سوشیل میڈیا پرشیواجی سے زیادہ اورنگ زیب کا ذکر اور فڈنویس کے بجائے ابو عاصم اعظمی پر ویڈیو دیکھ رہا ہوں ۔
للن نے کہا یہ ہماری مرضی کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے اشارے پر ہورہا ہے ۔ اس لیے تم فکر نہ کرو منا بھائی لگے رہو۔
کلن بولا کیا مطلب ! لگے رہو۔ مجھے اٹھتے بیٹھتے یوٹیوب دیکھنے کی لت لگ گئی ہے مگر جب بھی کھولتا ہوں تو ان دونوں پربحث نظر آتی ہے۔
ارے بھائی یوٹیوب تو تشہیر بھر کرتا ہے کوئی زبردستی تو نہیں کرتا ۔ تم اسے نظر انداز کرکے آگے بڑھ جایا کرو ۔ مت دیکھو کیا پریشانی ہے؟
یار یہ کہنا تو بہت آسان ہے مگر کرنا آسان نہیں ۔ میری انگلی تو ازخود اسے کھول دیتی ہے۔ اس پر سرخی جو اس قدر پرکشش ہوتی ہے۔
للن بولا ہاں بھیا اپنے شکار کو قابو میں کرنے کا یہی تو فن ہے ۔ اب تم اگر اس کے دام میں پھنس جاتے ہو اس میں کسی اور کا کیا قصور ہے ؟
کیوں نہیں ہے۔ ابھی تو تم نے کہا تھا ’ہمارے‘ اشارے پر ہوتا ہے‘ تو ان کو منع کردو تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری؟
ارے بھیا ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں میں الجھے رہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ اور نہ سوچیں تاکہ ہماری جان عافیت میں رہے ۔
یار للن تمہاری یہ گول مول بات میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ ہم جیسے لوگوں کے ان میں الجھے رہنے سے تمہاری عافیت کا کیا تعلق ؟
تم برا مان گئے ۔ اچھا یہ بتاو کہ اگر اورنگ زیب اور ابوعاصم اعظمی سوشیل میڈیا پر نہیں ہوں تو تم جیسے لوگ کس کی ویڈیو دیکھو گے ؟
اس سوال پرکلن سوچ میں پڑگیا اور بہت غور کرکے بولا بھیا ہم تو سنتوش دیشمکھ پر ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس بیچارے پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ؟
للن ہنس کر بولا یہی تو ہم دِ کھانا نہیں چاہتے۔اسی لیے عوام کی تو جہ ہٹانے کی خاطر اورنگ زیب کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر بیان کروانا پڑتاہے ۔
لیکن بھائی آج تو ہم لوگ اورنگ زیب کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے جبکہ سنتوش کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دے کر انصاف کیا جاسکتا ہے۔
یہ بات درست ہے مگر وہ ہمارے لوگ ہیں ۔ ان کو سزا دلوا کر ہم اپنے رائے دہندگان کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
اچھا تو اسی لیے ماضی کے نشے میں عوام کو مدہوش رکھا جارہا ہے؟ لیکن پھر موجودہ رکن اسمبلی ابوعاصم کو معطل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
ارے بھائی اس تیر سے تو ہم نے دو شکار کرلیے لیکن تم جیسے سیدھے سادے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے ۔
دوشکار؟ میں نہیں سمجھا ؟؟
اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے۔ پہلے تو اس خبر نے دھننجئے منڈے کے استعفیٰ کو میڈیا کا مرکزی موضوع بننے سے روک دیا ۔
کلن بولا وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو ہماری نیک نامی ہوتی کہ ہم نے ایک بھیانک جرم میں ملوث ملزم کو نکال باہر کیا ۔
ایسا نہیں ہے۔ اگر اس خبر کی پردہ پوشی نہ ہوتی تو سوال کیا جاتا کہ اول تو اسے وزیرکیوں بنایا گیا؟ اور دوسرے ہٹانے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟؟
ہاں یار اس پر تو خود میں نے بھی غور نہیں کیا کیونکہ وزارت داخلہ کوتو منڈے کے اس معاملے ملوث ہونے کی خبر رہی ہوگی ۔ پھر کیوں بنایا گیا؟
بھائی اندازے کی غلطی سمجھ لو ۔ ہمیں ایس آئی ٹی کی سنگین رپورٹ کا اندازہ نہیں تھا ۔ ہم لوگ تو سوچ رہے تھےکہ معاملہ رفع دفع ہوجائے گا ۔
کیسی باتیں کرتے ہو للن؟ انہوں نے اپنے مظالم کی تصویر کشی کی، ویڈیو بنائی اور سب کچھ سوشیل میڈیا پر شیئر کردیا ۔ اس کو کیسے چھپایا جاسکتا ہے؟
دیکھو بھیا آج کے دور میں یہ مشکل نہیں مگر سمجھ لوکہ ہم اسے سنبھال نہیں پائے اور ہو گیا۔ اس لیے معاملہ رفع دفع کرنے کی خاطر یہ کرنا پڑا۔
کلن بولا سمجھ گیا مگر یہ بتاو کہ اس تیر سے دوسرا شکار کیا تھا ؟
یار کیا بتاوں بدقسمتی سے ہمارے ایک اور وزیر جئے کمار گورے سے متعلق پریشان کن انکشافات نے ہمیں ابو عاصم کو معطل کرنے پر مجبور کردیا ۔
کلن نے کہا یہ کیاچکر ہے میں دن بھر یو ٹیوب پر رہتا ہوں ۔ مجھے تو اس کی خبر ہی نہیں ہوئی؟
تم ہندی دیکھتے اس لیے نہیں جانتے لیکن مراٹھی میں یہ معاملہ اچھلنے لگا تو ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اچھا مگر مجھے بتاو تو سہی کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ میری نظر سے تو اس پر ایک بھی ویڈیو نہیں گزری؟
جی ہاں یہ ہمارا کمال ہے کیا تم نے کانگریس کے وجے وڈیٹیوار کی مراٹھی تقریر نہیں سنی جس میں ایک پہلوان وزیر کا ذکرتھا؟
اچھا وہی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ روز ورزش کرتاہے اور اپنی برہنہ تصاویرکسی خاتون کو بھیجتا ہے؟
جی ہاں موصوف دس دن تک جیل کی ہوا کھانے کے بعد دس ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرکے عدالت سے معافی مانگ چکے ہیں ۔
کلن بولا میں نے خبر کہیں پڑھی تھی مگر شاید یہ تو بہت پرانی بات ہے ؟
للن نے تائید کی جی ہاں یہ معاملہ 2017ء کا ہے اورعدالت نے 2019ء میں اس کی معافی تلافی ہوگئی تھی ۔
جو ہوا سو ہوالیکن اب ۷؍ سال بعد حزب اختلاف اس معاملہ کو اٹھا کر اسے کیوں بدنام کر رہاہے ؟
ارے بھیا جب فلم چھاوا کی آڑ میں تین سو سال پرانی بات اٹھائی جاسکتی تو ۷؍ سال کا کیا ؟ اس پر اب پھر سےبھوت سوار ہوا تو ہنگامہ ہوگیا ۔
کلن بولا لیکن تم شیواجی کے وارث سمبھاجی کا موازنہ اس نا معلوم عورت سے کیوں کررہے ہو؟
بھیا یومِ نسواں کے دن تو کم از کم تمہیں خواتین کے درمیان تفریق و امتیاز نہیں کرنا چاہیے۔
ارے بھائی یومِ خواتین جیسے کئی دن آتے جاتے رہتے ہیں۔اب ان میں سے کس کس کا خیال رکھا جائے؟
اچھا اگر چھیڑ چھاڑ کا شکار عورت شیواجی کےکمانڈرہمبیر رائو موہتے کے خاندان سے ہوتو تمہارا کیا خیال ہے؟
تب تو اس وزیر کو ایوان اسمبلی سے نکال کرریاست سے تڑی پار اترپردیش بھیج دینا چاہیے ۔
درست لیکن اس معاملے میں یوگی ادیتیہ ناتھ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ابو عاصم اعظمی کو ہمارے حوالے کرو ہم دیکھ لیں گے ۔
یار یوگی جی کو یہ بات ڈونلڈ ٹرمپ سے کہنی چاہیے جو ہمارےلوگوں کو ہتھکڑی پہنا کر ملک لوٹا رہا ہے۔
اوہو کلن سمجھتے کیوں نہیں؟ اول تو ادیتیہ ناتھ ڈر کے مارے ٹرمپ کے خلاف کچھ بولنے کی ہمت نہیں کرسکتے دوسرے اس میں ہماری بدنامی ہے۔
یار لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سنگھ پریوار کے سنسکاری وزیر اعلیٰ کو جے کمار گورے اور دھننجئے منڈے جیسے نگینے ہی کیوں ملتے ہیں؟
ارے بھائی کیا بتاوں اس نمونے کو فڈنویس کانگریس سے توڑ کر لائے ۔ اپنے چہیتے کوا نتخاب جتواکر انہوں نے وزیر بنایا ۔ تم کیا سمجھتے ہو؟
میں تو سمجھتا ہوں کہ اسے بھی سنجئے راٹھوڑ کی مانند نکال باہر کرنا چاہیے جس کی وجہ سے۴؍سال قبل پونے میں ایک عورت نے خود کشی کرلی تھی۔
اچھا للن یہ بتاو کہ وہ مالون میں بلڈوزر کا کیا چکر ہے ؟ ایک بچے کے نعرے سے قومی سلامتی کو خطرہ کیسے لاحق ہوگیا جو ایسی کارروائی کرنی پڑی؟
یار کیا کریں ابھی بلدیاتی انتخاب جیتنا ہے دوسرے ہماری مرکزی وزیر رکشا کھڑسے کی حماقت نے بھی مسائل کھڑے کردئیے تو یہ کرنا پڑا ؟
یار مرکزی وزیر اپنی ہی ڈبل انجن سرکار کے لیے مسائل کھڑے کرے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟ یہ کیا چکر ہے؟
ارے بھائی اس کی بیٹی کسی مذہبی جترا میں گئی تو کچھ اوباش نوجوانوں نےچھیڑ چھاڑ کی ۔ اس کی شکایت کرنے کے لیے وہ پولیس تھانے پہنچ گئی۔
اچھا تو اس میں کیا غلط ہے ؟ وہ آخر ایک ماں ہے۔ اپنی بیٹی کی شکایت وہ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟
یار کلن وہ اگر کوئی عام عورت ہوتی تو ٹھیک تھا مگر وہ ماں کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر بھی ہے ۔ اسے کچھ تو سوچنا چاہیے تھا؟
بھیا وہ پہلے ماں ہے اور پھر وزیر نیز کل جب وزارت چلی جائے گی جیسا کہ اس کے سسر ایک ایکناتھ کھڑسےکی چلی گئی تب بھی ماں رہے گی۔
للن بولا جی ہاں مگر جب یہ سوال ہونے لگا کہ اگر مرکزی وزیر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو عام لوگوں کا کیا ؟ تو ہمیں بلڈوزر سے اسے کچلنا پڑا۔
لیکن بھیا جن لوگوں کی دوکانوں کو بلڈوزر سے کچلا گیا ان کا کیا قصور؟
بھائی ہماری پوری سیاست کا دارومدار ہی اورنگ زیب ، ابو عاصم اعظمی اور بلڈوزر کا شکار قطب اللہ پر ہے ۔ اب ہم کریں تو کریں کیا؟
کلن نے کہا بھیا سمجھ گیا ۔ ہماری اس مجبوری کا خمیازہ بے قصور لوگ بھگت رہے ہیں۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...