Skip to content
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ اقصیٰ نے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
شر میں خیر کی مصداق صدر ٹرمپ کی ایک احمقانہ تجویز نے عرب سربراہان کو ہنگامی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور کردیا اور اس میں مصرکے ذریعہ پیش کردہ منصوبے کو بالاتفاق منظوری بھی مل گئی۔ یوکرین کے معاملے میں ایک دوسرے کے بال نوچنے والے انگریزوں کو اس اتحادو اتفاق سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ یوکرین کے معدنی خزانوں سے ایک کی نظر ہٹی تو دوسرے نے گاڑ دی ۔ قاہرہ کے یک روزہ عرب سربراہان کے اجلاس میں مصری صدر عبدالفتاح السيسی نے یہ خوشخبری سنائی کہ غزہ کی تعمیر نوکا منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔ اس 5 سالہ منصوبے پر 53 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ تعمیر نو کایہ کام دو مراحل میں طے پائے گا۔ اس کے تحت نہ صرف ہنگامی امداد کی بھرپائی کی جائے گی بلکہ طویل المدتی اقتصادی ترقی پر بھی توجہ مرکوز ہو گی ۔ مذکورہ منصوبے میں مالی وسائل کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی نگرانی میں ایک فنڈ کے قیام کی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ امید ہے کہ یہ منصوبہ غزہ کو پھر سے مشرق و سطیٰ کا سنگاپور بنا دے گا ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں عرب ممالک نے متحد ہوکر جوبہترین متبادل حل پیش کیا ہے اس پر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ ڈونلڈ نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
امریکی صدر نے نہ جانے کیا سوچ کر غزہ پر امریکی کنٹرول کا ایک اوٹ پٹانگ خواب دیکھ لیا ۔ اس نے عالمی سطح پر غصے کی ایک لہر دوڑادی ۔ اس کے تحت فلسطینیوں کی مصر اور اردن جبری ہجرت کے بعد غزہ کو "مشرق وسطیٰ کا ریویرا” میں بدل دینے کی بات کی گئی تھی ۔ مذکورہ بالا منصوبے کے درست ہونے کےثبوت میں امریکہ اور اسرائیل جیسے بدخواہانِ غزہ کا اسے مسترد کر دیا جانا ہی کافی تھا ۔ حماس نے خیر مقدم کرکے گویا کی اس کی حقانیت پر مہر ثبت کردی۔ یوروپ کے ممالک بھی اگر عربوں جیسی یکجہتی کا ثبوت دیتے تو یوکرین کے معاملے میں امریکہ جھکنا پڑتا اور ٹرمپ رجوع کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے کہ میری تجویز اچھی ہے مگر اس پر اصرار نہیں کروں گا لیکن وہاں یوکرین کا پہلا دشمن یوروپ کا ہی ایک ملک روس ہے۔ اس کے بعد کبھی ہنگری اور سلواکیہ ہاتھ کھینچتے ہیں تو کبھی اٹلی و جرمنی اپنا دامن جھٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی انتشار و نااتفاقی کا فائدہ اٹھاکر یوکرین کو امریکہ اپنےقدموں تلے روند رہا ہے۔
غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر اسرائیل نے کہا کہ عرب سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان غزہ کی حقیقی صورت حال کا علاج نہیں کرتا ہے۔تخریب زدہ اسرائیل کو غزہ کی تعمیر میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کو حماس کی فکر ستا رہی ہے اوراس کا کہنا ہےکہ وہ تنظیم غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی ۔ اسرائیل نے پندرہ ماہ تک حماس کو نیست و نابود کرنے کی حتی المقدور کوشش کرڈالی مگر ناکام ہوگیا ۔ اس لیے اب اسے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کو عرب سربراہ اجلاس کے بیان میں سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کا ذکر نہیں ہونے پرافسوس ہے حالانکہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے ورنہ اگر اس کو سراہا جاتا تو اپنے آپ عقل ٹھکانے آجاتی۔ اسرائیل نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بیان ’بدعنوان‘ فلسطینی اتھارٹی اور انروا پر انحصار کر رہا ہے ۔ اسرائیل اگر فلسطینی اتھارٹی کو بھی مسترد کردے تو اس کے پاس حماس پر انحصار کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں بچے گا۔
دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والےاسرائیل کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خود ان کے وزیر اعظم نیتن یاہو پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں ۔ آج اگر وہ اقتدار سے ہٹ جائے تو اس جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔ اسرائیل اگر بدعنوان نہ ہوتا تو اڈانی گروپ کو وہاں بندرگاہ چلانے کا ٹھیکہ نہیں ملتا جبکہ وہ بدعنوانی کے معاملے میں امریکہ کو بھی مطلوب ہے۔ اس لیے اسرائیلیوں کو دوسروں پر الزام تراشی سے قبل خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے۔ ویسے اسرائیلی اہلکار حماس پر لاکھ جھوٹے الزامات لگائیں مگر اس کو بدعنوان کہنے کی جرأت نہیں کرتے یہ بہت بڑی اخلاقی فتح ہے۔ انروا کا تو خیر فلسطینیوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اسرائیل کی نظر میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی چلنے والے اس ادارے کا سب سے بڑا قصور فلسطینیوں کی مدد کرنا ہے۔ اس کے کام میں روڑا ڈالنے کی خاطر صہیونی حکومت نہ صرف اس پربدعنوانی کا الزام لگاتی ہے بلکہ بمباری کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی ۔
حماس نے نہ صرف قاہرہ میں عرب سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا بلکہ فلسطینی قضیے کے حل کی بابت عرب اور اسلامی صف بندی کی پیش رفت کو سراہا۔حماس نے جبری ہجرت سے متعلق قابض اسرائیل کے منصوبے کومسترد کرنے والی عربی قیادت کے اتفاق کو گراں قدر قرار دیا۔ تنظیم نے عرب سربراہ اجلاس میں منظور کیے گئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے اور غزہ میں انتظامی امور چلانے کے لیے معاون کمیٹی کی تشکیل کے فیصلے کی حمایت کی۔تنظیم نے فلسطینی صدر کی جانب سے قانون ساز اور صدارتی انتخابات کے اعلان کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر آج کل براہِ راست بات کرنے کا بھوت سوار ہے۔ انہوں روس سے گفتگو کی تو یوکرین کو نہیں بلایا ۔ ایسا کرنے سے یوکرین کے ساتھ ساتھ یوروپی یونین کی ناراضی اس لیے بھی تھی کیونکہ اس کام کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اب اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے حماس کے ساتھ رابطہ کیا تو اسرائیل کو نظر انداز کردیا ۔
حماس سے گفت و شنید میں اسرائیل کو اعتماد میں نہ لینا اس کی بہت بڑی توہین تھی۔ اس سے نیتن یاہو سمیت پورے اسرائیل میں ناراضی کا پھیل جانا فطری ہے مگرٹرمپ کو اس پروا نہیں ہے۔ وہ تو اپنے آپ میں مست ہیں ۔ امریکی ذرائع نے جب انکشاف کیا کہ واشنگٹن خفیہ طور پر حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے تو حماس نے بھی اس کی تصدیق کردی ۔ان مذاکرات کے ذریعہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اول تو غزہ میں قید امریکی قیدیوں کی رہائی چاہتاہے نیز جنگ کا خاتمے کرنے کے لیے وسیع معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کی تلاش بھی اس کے پیشِ نظر ہے۔ حماس کو قیدی اپنے پاس رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ تو ان کے عوض اپنے بے قصور لوگوں کی رہائی کے لیے کوشاں ہے۔ٹرمپ انتظامیہ میں یرغمالیوں کے لیے ایلچی ایڈم بوہلر نے دوحہ میں حماس کے عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔ اس بابت حماس کے ترجمان نے ’’ العربیہ‘‘ کو بتایا ہے کہ ہم یرغمالیوں کے امور کے لیے ٹرمپ کے ایلچی کے ساتھ براہ راست بیٹھے تھے۔امریکی یرغمالیوں کے معاملے پر بات چیت کا اگلا دور ایک ہفتے بعد پھر شروع ہوگا۔
اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ وہ مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت ہونے تک شرکت نہیں کریں گے۔ان کےنزدیک ٹھوس سے مراد کیا ہے یہ شاید وہ خود بھی نہیں جانتے۔ اسرائیل نے امریکہ سے ناراضی کا نزلہ غزہ والوں پر اتارتے ہوئے امداد بندکروادی جس کے بعد انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ۔ اسرائیل دوسرے مرحلے میں جانے کے بجائے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 42 روز کی توسیع چاہتا ہے مگر حماس اس ٹال مٹول کے لیے راضی نہیں ہے۔ اسرائیل کے اس احمقانہ اقدام نے اس کے اتحادی جرمنی سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کو ناراض کردیا اوروہ اس کی مذمت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ مصر، قطر، اور اردن نے بھی اسرائیل کی جانب سےغزہ میں امداد کا داخلہ بند کرنے کو جنگ بندی اور انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دےدیا ۔ اس طرح جھنجھلاہٹ کا شکار اسرائیل خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماررہا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان فی الحال دو بنیادی اختلافات ہیں۔ حماس اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے مکمل انخلاء پر اصرار کرتا ہے جب کہ جنگ بندی کی شرائط کے مطابق اسرائیلی افواج مستقل طور پر سرحد کے ساتھ صرف 40 کلومیٹر لمبے اور پانچ سے 13 کلومیٹر چوڑے بفر زون میں رہیں گی۔ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی فوج کی یہ موجودگی ناقابلِ قبول ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کوشش یہ بھی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں اقتدار سونپ دیا جائے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ حماس کی مقبولیت نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے پر بھی پی ایل اے سے زیادہ ہے۔ یورپی یونین کی تجویز میں بین الاقوامی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ پی ایل اے کو حماس کے متبادل کے طور پر اقتدار دینے کی حمایت کی گئی ہے لیکن اس عارضی صورتحال کے بعد جب بھی انتخابات ہوں گےتو غزہ سمیت پورے فلسطین پر حماس پھر سے اقتدار میں آجائے گی ۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا مسئلہ یہ ہے کہ ایوانِ پارلیمان میں ان کی پارٹی اقلیت میں ہے اور وہ اقتدار میں رہنے کے لیے انتہائی دائیں بازو کی پسند جماعتوں کی یرغمال ہے ۔ ان کی ناز برداری کے لیے نیتن یاہو نےمبینہ طور پر ناراض وزراء کو یقین دہانی کرائی تھی یہ جنگ بندی عارضی ہوگی۔ نیتن یاہو کے ایک جانب ان حامیوں کی کھائی اور دوسری طرف ٹرمپ نامی آگ ہے۔ ایسے میں اس کا کیا حشر ہوگا یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ویسے ٹرمپ کا حماس سے براہِ راست بات چیت کرنا اسرائیل کے لیے وہ زور کا جھٹکا ہے جو بہت زور سے لگا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...