Skip to content
کیا انٹرنیٹ مررہا ہے؟ مصنوعی ذہانت، قاتل یا مسیحا؟
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
————
کیا واقعی انٹرنیٹ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے؟ یہ سوال آج کل ہر اس شخص کے ذہن میں گردش کر رہا ہے جو ڈیجیٹل دنیا سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ ہے۔ انٹرنیٹ، جو کبھی معلومات کا آزاد سمندر تھا، کیا اب واقعی اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو، کیا اس کا ذمہ دار مصنوعی ذہانت ہے، جو ہماری ہی اپنی تخلیق ہے؟ کیا مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کے لیے قاتل ثابت ہوگی، یا پھر مسیحا بن کر اسے ایک نئی زندگی عطا کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہم سب کو آج سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک تکنیکی بحث نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ڈیجیٹل زندگی کے مستقبل، معلومات تک رسائی کے طریقے، اور آن لائن دنیا کے جمہوری اور آزاد ہونے کے تصور پر سوالیہ نشان ہے۔
آئیے ماضی میں جھانکتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ جو ہم نے دو دہائیوں پہلے جانا تھا، آج اس سے کتنا مختلف ہے۔ انٹرنیٹ کا ارتقاء ایک دلچسپ داستان ہے۔ ویب 1.0 کے ابتدائی دور میں، انٹرنیٹ بنیادی طور پر جامد ویب سائٹس کا ایک مجموعہ تھا، جہاں صارفین غیر فعال طور پر معلومات حاصل کرتے تھے۔ یہ انٹرنیٹ معلومات کا ایک ڈیجیٹل بروشر تھا، جہاں تعامل کم سے کم تھا۔ پھر ویب 2.0 کا دور آیا، جس نے سوشل میڈیا، بلاگز، اور صارف کے تیار کردہ مواد کو جنم دیا۔ انٹرنیٹ دو طرفہ سڑک بن گیا، جہاں صارفین نہ صرف معلومات حاصل کرتے تھے بلکہ تخلیق اور شیئر بھی کرتے تھے۔ یہ دور انٹرنیٹ کی جمہوری روح کا عروج تھا، جہاں ہر کسی کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا۔ لیکن پھر مصنوعی ذہانت کا سورج طلوع ہوا، اور ڈیجیٹل دنیا یکسر بدل گئی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی قسم کی معلومات چاہیے ہو، تو بس ایک سوال پوچھنے کی دیر ہے۔ گوگل جیمنائی ہو، چیٹ جی پی ٹی، بنگ اے آئی، کوپائلٹ یا ڈیپ سیک یہ سبھی مصنوعی ذہانت کے جادوئی چراغ ہیں۔ یہ پلک جھپکتے ہی انٹرنیٹ کے گوشے گوشے سے معلومات اکٹھی کر کے ہمارے سامنے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ اب ہمیں کسی ویب سائٹ پر جانے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی، معلومات خود چل کر ہمارے پاس آتی ہیں۔ بظاہر یہ سہولت بہت اچھی لگتی ہے، وقت اور محنت کی بچت، معلومات تک فوری رسائی۔ لیکن ذرا گہرائی میں اتر کر دیکھیں، اس سہولت کے پردے میں ایک سنگین مسئلہ چھپا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ویب سائٹ مالکان کی آمدنی کا نہیں ہے، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرنے والا ہے۔
وہ ویب سائٹس جن پر ہم کبھی معلومات کے لیے جاتے تھے، ان کی آمدنی کا ذریعہ کیا تھا؟ ظاہر ہے، اشتہارات۔ جب ہم ان کی ویب سائٹ پر جاتے تھے، صفحات دیکھتے تھے، تو انہیں اشتہارات کے پیسے ملتے تھے۔ اس کے علاوہ، کچھ ویب سائٹس براہ راست سبسکرپشنز یا پریمیم مواد کی فروخت سے بھی آمدنی حاصل کرتی تھیں۔ یہ ایک نازک معاشی نظام تھا، لیکن یہ کام کر رہا تھا۔ یہ نظام مواد کی تخلیق، صحافت، تفریح، اور تعلیم کو آن لائن فروغ دے رہا تھا۔ لیکن اب جب ہم ویب سائٹ پر جا ہی نہیں رہے، تو ان کی آمدنی کیسے ہوگی؟ مصنوعی ذہانت کے کرالرز ویب سائٹس کو کھنگالتے ضرور ہیں، معلومات نکالتے ہیں، لیکن اس سے ویب سائٹ کی ٹریفک نہیں بڑھتی، ایڈ ویو کاؤنٹ صفر رہتا ہے، یعنی ویب سائٹ مالکان کے لیے آمدنی کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس نے انٹرنیٹ کے معاشی ماڈل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس نے ویب سائٹس کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وہ لوگ جو بلاگز لکھتے ہیں، مضامین تحریر کرتے ہیں، نیوز ویب سائٹس چلاتے ہیں، ان سب کی آمدنی سکڑ رہی ہے۔ ٹل بٹ نامی ایک کمپنی کی تحقیق کے مطابق، ویب سائٹس پر ٹریفک میں 96 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کوئی معمولی کمی نہیں، بلکہ ویب سائٹس کے لیے موت کا پیغام ہے۔ اگر ویب سائٹس کو آمدنی نہیں ہوگی، تو وہ اپنے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ ہوسٹنگ کے پیسے، عملے کی تنخواہیں، مواد کی تیاری کا خرچہ، یہ سب کہاں سے آئے گا؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ یہ ویب سائٹس بند ہونا شروع ہو جائیں گی، اور انٹرنیٹ پر معلومات کا تنوع ختم ہو جائے گا۔ آزاد صحافت، متنوع آراء، اور مخصوص موضوعات پر گہرائی سے تحقیق پر مبنی مواد، یہ سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔ انٹرنیٹ، جو کبھی معلومات کا ایک رنگین گلدستہ تھا، ایک یک رنگی صحرا بن سکتا ہے۔
یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے بنیادی فلسفے کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ انٹرنیٹ کو کبھی معلومات کا آزاد اور جمہوری پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مصنوعی ذہانت کی آمد کے بعد، یہ پلیٹ فارم چند بڑی کمپنیوں کے کنٹرول میں جا رہا ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے الگورتھمز کے ذریعے یہ طے کر رہی ہیں کہ ہم کیا دیکھیں گے، کیا پڑھیں گے، اور کس چیز پر یقین کریں گے۔ یہ الگورتھمز اکثر غیر شفاف اور جانبدار ہوتے ہیں، جو ہماری سوچ کو محدود کر سکتے ہیں اور ہمیں ایک خاص سمت میں دھکیل سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ، جو کبھی سب کا تھا، اب چند ہاتھوں میں سمٹ رہا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کی اصل روح کے خلاف ہے، جو آزادی، مساوات، اور معلومات تک بلا روک ٹوک رسائی پر مبنی تھی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں، ہم انٹرنیٹ پر معلومات کی یکسانیت اور فلٹر ببلز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم صرف وہی معلومات دیکھیں جو مصنوعی ذہانت ہمارے لیے منتخب کرتی ہے، تو ہم مختلف نقطہ نظر سے محروم ہو جائیں گے اور ہماری سوچ محدود ہو جائے گی۔ فلٹر ببلز ہمیں اپنی ہی آراء میں قید کر سکتے ہیں، اور ہم ان لوگوں سے دور ہو جائیں گے جو ہم سے مختلف سوچتے ہیں۔ یہ ایک منقسم اور پولرائزڈ معاشرے کا باعث بن سکتا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت صرف تباہی نہیں لا رہی، بلکہ یہ انٹرنیٹ کو ایک نیا روپ بھی دے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے، انٹرنیٹ زیادہ ذہین، زیادہ کارآمد، اور زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ یہ معلومات کی تلاش کو آسان بنا سکتا ہے، سائبر حملوں سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے، اور ہمارے ڈیجیٹل تجربات کو ذاتی نوعیت کا بنا سکتا ہے۔ مستقبل کا انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت کی طاقت سے لیس ہو کر، آج کے انٹرنیٹ سے کہیں زیادہ طاقتور اور مفید ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے، ہم ذاتی نوعیت کی تعلیم، بہتر صحت کی دیکھ بھال، اور زیادہ موثر کاروباری حل حاصل کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کو مزید قابل رسائی بھی بنا سکتی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے جو معذوری کا شکار ہیں یا جن کی رسائی کم ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے، ترجمہ اور زبان کی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور معلومات کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک زیادہ جامع اور عالمی انٹرنیٹ کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم انٹرنیٹ کو مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں مرنے دیں گے، یا پھر اس کی مدد سے اسے ایک نئی زندگی عطا کریں گے؟ جواب یقیناً دوسرا ہونا چاہیے۔ ہمیں مصنوعی ذہانت کو انٹرنیٹ کے قاتل کے طور پر نہیں، بلکہ مسیحا کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے رہنما اصول وضع کریں، تاکہ اس کی طاقت کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کو چند ہاتھوں میں محدود کرنے کے بجائے، اسے مزید جمہوری اور قابل رسائی بنائے۔ ان رہنما اصولوں میں شفافیت، جوابدہی، اور صارف کا اختیار شامل ہونا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کو شفاف ہونا چاہیے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں اور فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو جوابدہ ہونا چاہیے، تاکہ اگر کوئی غلطی ہو تو اس کی ذمہ داری طے کی جا سکے۔ اور صارفین کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو کنٹرول کر سکیں اور اپنی معلومات کی حفاظت کر سکیں۔
اس کے علاوہ، ہمیں نئے کاروباری ماڈلز تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ویب سائٹس کو مصنوعی ذہانت کے دور میں زندہ رہنے میں مدد دے سکیں۔ شاید سبسکرپشن ماڈلز، مائیکرو پیمنٹس، یا کمیونٹی کی حمایت یافتہ فنڈنگ جیسے طریقے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مواد کے تخلیق کاروں کو ان کے کام کا مناسب معاوضہ ملے۔ یہ انٹرنیٹ کے ماحولیاتی نظام کو صحت مند اور پائیدار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
انٹرنیٹ کا مستقبل ابھی لکھا جانا باقی ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس سمت میں لے کر جاتے ہیں۔ کیا ہم مصنوعی ذہانت کو انٹرنیٹ کا زوال بننے دیں گے، یا پھر اسے ایک نیا جنم عطا کریں گے؟ فیصلہ ہمارا ہے۔ آئیے مل کر ایک ایسا انٹرنیٹ بنائیں جو نہ صرف ذہین ہو، بلکہ انسانیت کے لیے بھی مفید ہو۔ یہ ایک چیلنجنگ کام ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں، تو ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت دونوں مل کر انسانیت کی خدمت کریں۔ ہمیں امید اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، اور یقین رکھنا ہوگا کہ ہم ایک بہتر ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...