Skip to content
امریکی پیار اور ایرانی انکار :یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بھی یوکرین سمجھ کر ایک خط لکھ دیا جس میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے یا ممکنہ فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کی وارننگ دے دی۔انہوں نے فاکس بزنس پر کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ آپ (ایران) مذاکرات کرنے جا رہے ہیں کیونکہ اگر ہمیں فوجی راستہ اختیار کرنا پڑا تو یہ ایک خوفناک چیز ہو گی‘‘۔ اپنے موقف کی وضاحت میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، فوجی کارروائی یا پھر معاہدہ ۔ وہ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز خط کا منہ توڑ جواب دیتے ہوے کہا کہ مذاکرات کے لیے تہران کو دھمکایا نہیں جاسکتا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے واشنگٹن کی پیشکش کا مقصد اپنی توقعات کو (بزورِ قوت ) مسلط کرنا ہے۔ان نے بجا طور پر فرمایا کہ بعض غنڈہ حکومتوں کا مذاکرات پر اصرار مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ وہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق
گفت و شنید نئی امیدوں کا ایک راستہ تو ہے مگر یہ صرف ایران کے جوہری مسئلے تک محدود نہیں ہے، ایران یقینی طور پر اسے قبول نہیں کرے گا۔
ایران تنازعات کو حل کرنے کی خاطر باہمی بات چیت کا قائل ہے ۔ رہنمائے معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ سال اگست میں اپنے خطاب کے دوران امریکہ سے مذاکرات کے دروازے کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’دشمن سے بات چیت میں کوئی نقصان نہیں۔‘ لیکن وہ بائیڈن کا زمانہ تھا اس کے باوجود امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ چین نہیں بلکہ ایران امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سی بی ایس کے بل وائٹکرے کے ساتھ پروگرام "60 منٹس” پر اپنے انٹرویو میں نائب صدر سے پوچھا گیا کہ وہ کس کو ملک کا سب سے بڑا دشمن مانتی ہیں تو کملا ہیرس نے جواب دیا تھا ایران کے ہاتھوں پر امریکی خون ہے۔ انہوں نے ایران کی صلاحیتوں کے ثبوت کے طور پر اسرائیل کے خلاف تہران کے بیلسٹک میزائل حملے کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ’ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران ایٹمی طاقت نہ بن سکے۔ یہ بات میری اولین ترجیحات میں سے ایک ہے‘۔
بائیڈن اور ہیرس کے مقابلے ٹرمپ کی آمد نے عالمی سیاست کو بری طرح متاثرکیا ہے۔ وہ کسی بھی وقت اپنا لب و لہجہ بدل دیتے ہیں ۔ ان کے موقف میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی بات کرتے کرتے انہوں نے اچانک جبری ہجرت کا راگ الاپنا شروع کردیا تھا۔ یرغمالیوں کو رہا کرنے کی دھمکی دیتے اچانک براہِ راست بات چیت پر آمادہ ہوگئے ۔ یوکرین پر بھی انہوں نے کئی قلابازیاں کھائیں ۔ یہی وجہ ہے شاید کہ ایران اس بار بہت محتاط ہوگیا ہے۔ وہ کسی کے وقار کو نقصان پہنچا کر اچانک گھوم جاو کرسکتے ہیں ۔ اس طرح ان کا اپنا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ان کی اعتباریت صفر ہے لیکن مدمقابل اپنا اعتماد گنوا دے گا۔ اس تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی پیشکش پرسخت موقف اختیار کرتے ہوئے رہبرِ معظم کا اولین ردعمل یہ تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ’نہ تو دانشمندانہ ہیں، نہ عقلمندی کا تقاضہ اور نہ ہی باوقار‘ ہیں۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 کے جوہری معاہدے کے مذاکرات سے پہلے خامنہ ای کو لکھے گئے خطوط کو خفیہ رکھا تھا لیکن ٹرمپ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کچھ کرنے سے پہلے ہی شور شرابہ کردیتے ہیں ۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران خط کا براہ راست ذکرکرنے کے بجائے ایران پر ایک ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ وہ بولے : ’ہمیں ایران سے متعلق ایک نازک صورت حال کا سامنا ہے، اور بہت جلد کچھ ہونے والا ہے۔ بہت، بہت جلد۔‘ اس دھمکی کے بعد انہوں نے مزید کہا: ’امید ہے کہ ہمارے درمیان ایک امن معاہدہ طے ہوجائے۔ میں طاقت یا کمزوری کے لحاظ سے بات نہیں کر رہا، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ میں امن معاہدہ چاہوں گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو دوسرے راستے سے بھی مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘ ویسے اپنے انٹرویو میں ٹرمپ نے فاکس نیوز کے اینکر ماریا بارٹیرومو سے یہ بھی کہہ دیا کہ : ’میں نے انہیں ایک خط میں لکھا ہے کہ ، ’مجھے امید ہے آپ مذاکرات کریں گے، کیونکہ اگر ہمیں فوجی کارروائی کرنی پڑی، تو یہ بہت خوفناک ہو گا۔‘
امریکی صدر کا یہ انٹرویو اور ایران کے روحانی پیشوا کو خط ایک ایسے موقع پر بھیجا گیا جب مغربی ممالک ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچنے کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں ۔ایران کے وزارت خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خط پر براہِ راست توکوئی ردعمل فوراًنہیں دیا تاہم ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ٹرمپ کے خط کو "دہرایا ہوا تماشہ” قرار دیا۔ اس سے سرکاری رجحان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے تو اس خط کی تصدیق نہیں کی مگر اقوامِ متحدہ نے ٹرمپ کے سفارتی اقدام کا خیرمقدم کیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ : ’اصولی طور پر، ہم ایک بار پھر اس مؤقف کی توثیق کرتے ہیں کہ سفارت کاری ہی ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ہم اس مقصد کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘ قصرِ ابیض نے بھی اس موقف کی تائید میں کہا ہے کہ ٹرمپ کا خط ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کی کوشش ہے۔
ٹرمپ کی شبیہ ایک مغرور یا خود سر رہنما کی ہے اور یوکرین کے صدر ولایمیر زیلینسکی کے ساتھ ان کی ترش روی اس کی تازہ ترین مثال ہے مگر ایران کے تعلق سے ان کا لب و لہجہ بدلا ہوا ہے۔ وہ اپنے اس انٹرویو میں فرماتے ہیں : ’میں کسی معاہدے پر مذاکرات کرنا زیادہ پسند کروں گا۔ مجھے یقین نہیں کہ ہر کوئی مجھ سے اتفاق کرے گا، لیکن ہم ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جو اتنا ہی مؤثر ہوگا جتنا کہ جنگ جیتنا۔ لیکن وقت ابھی آ چکا ہے۔ وقت قریب ہے۔ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے، کسی نہ کسی طرح۔‘ اس قدر سمجھداری کی باتیں کرتے کرتے وہ اچانک پھسل کر بلا واسطہ دھمکی دینے لگتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ’ہمیں کچھ کرنا ہوگا کیونکہ ہم انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘ سوال یہ ہے اس بابت امریکہ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جوہری ہتھیار رکھے یا نہ رکھے ۔ اول تو خود جوہری اسلحہ رکھنا اوپر سے دنیا بھر میں اس کی تنصیب کرنا ۔ اسرائیل جیسے چہیتے ممالک کو اس کی تکنیک بیچنا یا مدد کرنا اور جس سے خطرہ ہو اسے روکنا یہ کون سا انصاف ہے؟ اسے تفریق و امتیاز اور منافقت کی انتہا کہا جاتا ہے ۔ امریکی صدر اپنے متضاد بیانات میں اس جرم کا رتکاب کرتے نظر آتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خط کے اغراض و مقاصد اور اس کے ردو قبول کا نتیجہ تو واضح کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ آیا انہوں نے اپنے خط میں ایران کو کوئی مخصوص پیشکش کی ہے یا نہیں؟ ایران کی جانب سے اس پیشکش کا کوئی پر جوش خیر مقدم نہیں ہوا ۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بابت عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو دئیے گئے بیان میں کہا کہ ایران امریکہ سے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری نہیں رکھے گا۔ موصوف نے اس کی یہ وجوہات بیان کیں کہ ’ایران کا جوہری پروگرام فوجی حملے سے تباہ نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو ہم نے حاصل کی ہے، دماغ اور ذہن میں موجود ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر حملہ نہیں ہو سکتا۔‘ اس جواب میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ کسی جوہری مرکز یا تجربہ گاہ کو بمباری کر کے تباہ کرنا ممکن ہے مگر اس طرح عزائم اور ارادے مزید مستحکم ہوجاتے ہیں ۔ قومی جوش و ولولہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ماضی میں امریکیوں نے اس خیال سے ایرانی سائنسدانوں پر بزدلانہ حملہ کیا تھا کہ قوم ڈر جائے گی مگر تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں ناکام رہے۔
غزہ کے اندر اسرائیلی جارحیت کے بعد ایرانیوں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کا مطالبہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل کی جوہری طاقت اور تہران کے پاس اس کی کمی کے باوجود ایران گزشتہ ایک سال کے اندر دو بار اسرائیل کے خلاف ڈیٹرنس قائم کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ ایک بار اپریل میں جب اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا، اور دوسری مرتبہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے ردعمل میں اسرائیل کے خلاف دو کارروائیاں کی گئیں۔ اس میں مقبوضہ علاقوں پر سینکڑوں ڈرون اور میزائل داغے گئے اور دونوں آپریشنز کامیاب رہے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں بدلہ لینے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم ایران کے زیادہ سے زیادہ لوگ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے وہ اسے ضروری سمجھتے ہیں۔ کینیڈا کی ایک تحقیقی فرم کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 70 فیصد ایرانیوں نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی حمایت کی۔ امام خمینی کے پوتے حسن خمینی نے بھی ایک انٹرویو میں ایران کو اپنی ڈیٹرنس صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ اس لیے ایران کا جوہری اسلحہ سے لیس ہونا دیوار پر لکھی ایک ایسی تحریر ہے جس کو مٹانا ٹرمپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے گفت و شنید یا دھمکی دونوں کارگر نہیں ہوگی۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...