Skip to content
مسلمانوں پر فرقہ پرستوں کے تمام حملوں کا جواب
کیا ہوسکتا ہے؟ کیا نہیں ہوسکتا ہے؟
ازقلم:عبدالعزیز
مسلمانوں پر آئے دن فرقہ پرستوں کی طرف سے حملے پر حملے ہورہے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کرنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس سے ہندو مسلمان ایک دوسرے سے جنگ آزمائی کرنے لگیں۔ اس کی ایک وجہ تو بہت واضح ہے وہ یہ کہ اقتدار پر قبضہ جمانا ہے۔ رام مندر کی تعمیر کے لئے تحریک برپا کرکے ان عناصر کو کامیابی ہوئی۔ لوک سبھا میں دو سیٹوں سے ان کی 282 سیٹیں 2014ء میں،2019ء میں 303 اور 2024ء میں 240 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی سے ان کا حوصلہ دن بدن بڑھتا گیا ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی مسئلے میں الجھانا، پریشان کرنا، ان کی جان و مال پر حملے کرنا ان کے لئے ضروری ہوگیا ہے۔ مسلمانوں کی ہر نشانی اور ہر علامت کو وہ مٹانا چاہتے ہیں۔ ان کو مسجد کے میناروں سے دشمنی ہے۔ راستوں کے ان ناموں سے دشمنی ہے جو کسی مسلمان کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ اب وہ مسجدوں کے نیچے مندروں کی تلاش کے بہانے مسجدوں کی عمارتوں کو نہ صرف نقصان پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ بابری مسجد کی طرح ان کو منہدم کرکے مندر بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ یہ کام کئی طرح سے وہ انجام دے رہے ہیں۔ فساد اور تشدد ان کا پہلا ذریعہ ہے۔ دوسرا ذریعہ ہے قانون سازی جس سے وہ دین کی تبلیغ و اشاعت میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اور تبدریلیِ مذہب پر قدغن لگاتے ہیں۔ غرض کوئی ایسا ذریعہ یا طریقہ نہیں ہے جس کا وہ استعمال اسلام اور مسلم دشمنی میں نہ کرتے ہوں۔ مسلمانوں کی جان لینا، مسلم عورتوں کی عصمت دری کرنا جیسے عظیم گناہ اور جرم کو اپنے لئے پُن اور ثواب سمجھتے ہیں۔ اسلام دشمنی اور مسلم دشمنی کا زہر تقریباً 20سے 25فیصد ہندوؤں میں سرایت کرگیا ہے۔
خاکسار نے اس سلسلے میں فرقہ پرستوں کی دشمنی کا کیسے اور کس طرح سے جواب دیا جائے یا کم کیا جائے ،کئی مضامین اکثر و بیشتر لکھے ہیں۔ مضامین شائع بھی ہوئے ہیں۔ دیگر لوگوں کے مضامین بھی ان موضوعات پر شامل ہوتے رہے ہیں۔ مضامین یا لوگوں کی تحریروں سے وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ رہنمائی ملتی رہتی ہے۔ لیکن جو رہنمائی مستقل طور پر ملتی ہے وہ ہے قرآن اور حدیث سے ۔ قرآن و حدیث سے جو رہنمائی حاصل کرنی چاہئے جس طرح حاصل کرنا چاہئے اور جس طرح عمل کرنا چاہئے اس میں بہت بڑے پیمانے پر اکثر مسلمانوں سے کوتاہی سرزد ہورہی ہے۔ مسلمانوں کے پاس جب کوئی معاملہ یا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ اللہ رسولؐ کی طرف دیکھنے کے بجائے وہ اکثر و بیشتر دنیا پرست انسانوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اور اسی طرح کا کردار ادا کرتے ہیں جس طرح کا کردار غیر مسلم ادا کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب مسلمان اللہ کی طرف رجوع نہیں کریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل نہیں کریں گے ، اپنے انداز یا دیگر لوگوں کے طریقے پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ کی طرف سے مدد ونصرت کیسے آسکتی ہے؟ لہٰذا سب سے بڑا جواب جو اسلام دشمنوں یا مسلم دشمنوں کا ہوسکتا ہے وہ ’رجوع الی اللہ‘ ہے۔فرمانِ خداوندی ہے: فَفِرُّوْا اِلَی اللّٰہ‘‘ (اللہ کی طرف دوڑو)۔ علامہ اقبال نے آج جیسے حالات پر کہا تھا ؎
’’اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوے گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہیـ : ’’یا ایہالذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہٗ لکم عدوٌ مبین۔
(ترجمہ: اے ایمان والو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ )
وفاداری کی تقسیم ایمان اور اسلام کے منافی ہے بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے۔ یہیں سے شیطانوں کو انسانوں کو گمراہ کرنے کی آسانیاں میسر آتی ہیں۔ اس وجہ سے قرآن میں اس فتنے کے دروازے کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے اور حکم دیا ہے کہ سب کے سب بغیر کسی استثنا اور بغیر کسی تحفظ کے اسلام میں یعنی اللہ اور رسولؐ کی اطاعت میں داخل ہوجائیں۔ اطاعتِ کامل کا یہی راستہ امن و عدل کا راستہ ہے اور اسی راستے پر چلنے والوں کے لئے فوز و فلاح ہے۔ جو لوگ اس سے ہٹ کر کوئی راہ نکالنا چاہتے ہیں اور بیک وقت کفر اور اسلام دونوں سے رسم و راہ رکھنے کے خواہشمند ہیں ، وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے، اس لئے کہ اس نے روزِ اوّل ہی سے اس کی راہ مارنے اور اس کو گمراہ کرنے کا کھلم کھلا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔
ہر فرد کو اپنا جائزہ خود لینا چاہئے کہ اس کا دعوائے مسلمانیت اور دعوائے اسلام کتنا سچا اور پکا ہے۔ اگر وہ نماز پڑھے بغیر بھی مسلمان ہے اور اپنے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر مسلمان ہے اور بھائی بہنوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ دوسروں کی زمینوں، جائدادوں، دکانوں، مکانوں کو ہڑپ کرکے اہل اسلام ہونے کا دعویدار ہے تو اسے سچے دل سے غور کرنا چاہئے کہ کیا وہ اسلام میں داخل ہے؟ کیا وہ شیطان کی کھلم کھلا پیروی نہیں کررہا ہے جو اس کا کھلا دشمن ہے؟ اگر حقیقی مسلمان ہونا ہے تو اس تناقض اور منافقت سے دور ہونے کی ضرورت ہے اور اللہ و رسولؐ کی مکمل اطاعت ہر معاملے میں،ہر شعبۂ حیات میں کرنا ضروری ہے۔
یہ خاص جواب ہے جو اوپر بتایا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک میں جو دستور ہم سب کو مظاہرے یا احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے اس کا ہم استعمال نہ کریں بلکہ بھرپور طریقے سے استعمال کریں کیونکہ قرآن اور سنت کی طرف سے بھی ظلم و زیادتی کے خلاف زبان کھولنے، احتجاج کرنے اور مظاہرے کرنے کی اجازت ہے۔ حدیث میں ایمان کے تین درجے بیان کئے گئے ہیں: ظلم کے خلاف جس کسی نے قیام حق و سنت کی راہ میں اپنے ہاتھ سے کام لیا وہ مومن ہے۔ جو ایسا نہ کرسکا مگر زبان سے کام لیا وہ بھی مومن ہے۔ جس سے جہاد لسانی بھی نہ ہوسکا صرف دل کے اعتقاد اور نیت کے ثبات کو ان کے خلاف کام میں لایا تو وہ بھی مومن ہے۔ لیکن اس آخری درجے کے بعد ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے، حتیٰ کہ رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوسکتا۔
ملک میں عدلیہ بھی ہے۔ عدلیہ کا جو رجحان اور کردار ہے فی الوقت وہ مبنی بر انصاف نہیں ہے پھر بھی کبھی کبھی کسی نہ کسی جج یا سپریم کورٹ کی کسی بنچ سے انصاف کی بات ہوتی ہے، اس لئے عدلیہ سے بالکل نا امید نہیں ہونا چاہئے بلکہ قانونی چارہ جوئی کرتے رہنا چاہئے۔ جمہوری اور قانونی طریقے کو نظر انداز کرنا ہر گز صحیح نہیں ہوگا۔
ہندو اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات میں جد وجہد : مسلمانوں کو اور مسلمانوں کی ہر تنظیم کو چاہئے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں خوشگوار تعلقات کے لئے تمام ذرائع اور وسائل کا بھر پور استعمال کریں۔ غیر مسلموں سے ملنا جلنا، اپنی تقریبات کے موقع پر بلانا، عید و بقرعید کے موقع پر عید ملن اور دعوتِ افطار پر مدعو کرنا جیسے کاموں کو اولیت دینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اور اے نبیؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کو اس نیکی سے دفاع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ (حٓمٓ السجدہ: آیت34)
یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جوبہت اعلیٰ درجے کی ہو یعنی کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخر کار جگری دست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بے حیا مخالف بھی شرمندہ ہوکر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے اس کی زبان آپ کے خلاف بدکلامی کے لئے کھل سکے گی۔ کوئی شخص آپ کو نقصان پہنچانے کا موقع ہاتھ سے نہ دیتا ہو اور آپ اس کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جائیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی شرارتوں پر اور دلیر ہوجائے لیکن اگر کسی موقع پر اسے نقصان پہنچ رہا ہو ار آپ اسے بچالیں تو وہ آپ کے قدموں میں آرہے گا۔ کیونکہ کوئی شرارت مشکل ہی اس نیکی کے مقابلے میں کھڑی رہ سکتی ہے۔ تاہم اس قاعدہ کلیہ کو اس معنی میں لینا درست نہیں ہے کہ اس اعلیٰ درجے کی نیکی سے لازماً ہر دشمن جگری دوست ہی بن جائے گا۔ دنیا میں ایسے خبیث النفس لوگ بھی ہوتے ہیں کہ آپ ان کی زیادتیوں سے درگزر کرنے اور ان کی برائی کا جواب احسان اور بھلائی سے دینے میں خواہ کتنے ہی کمال دکھائیں، ان کے نیش عقرب کا زہریلا پن ذڑہ برابر بھی کم نہیں ہوتا۔ لیکن اس طرح کے شر مجسم کے انسان قریب قریب اتنے ہی کم پائے جاتے ہیں جتنے خیر مجسم انسان کمیاب ہیں۔
شیطان پرستوں کی چال ہے کہ مسلمان مشتعل ہوجائیں تاکہ لڑائی جھگڑا عام ہوجائے اور جب لڑائی جھگڑا عام ہوجائے گا تو وہ سمجھتے ہیں کہ اکثریت ان کی ہے اس لئے آسانی سے مسلمانوں کو زیر کر لے جائیں گے۔ پولس اور عدلیہ میں بھی مسلمانوںکی کوئی شنوائی نہیں ہوگی بلکہ ظالموں کی اور ستمگروں کی شنوائی ہوگی۔ یہ سمجھ کر وہ لڑائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی اس چال میں ہر گز نہیں آنا چاہئے بلکہ ہر قسم کی لڑائی سے بچنا اور بچانا ضروری ہے۔ مومنانہ صفتوں میں سے صلح جوئی مومن کی بہت بڑی صفت ہے۔ اس کا جھکاؤ ہمیشہ لڑائی سے ہٹ کر صلح کی طرف ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ مسلمانوں کو نہ مشتعل ہونا چاہئے، نہ متزلزل ہونا چاہئے اور نہ بزدل ہونا چاہئے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...