Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایاما معدودات اور عبادتوں میں ہماری غفلتیں
ازقلم:سمیہ بنت عامر خان
رمضان کا مہینہ تقوی اور پرہیزگاری کا مہینہ ہے۔ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ اطاعت و عبادت کا مہینہ ہے۔ جس میں عبادتوں کا ثواب کئ گنا زیادہ بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ غرض یہ ہماری اصلاح و تربیت کا مہینہ ہے۔کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے آزاد ہوکر اپنے آپ کو عبادت اور رب کی بندگی کے لئے یک سو ہوجانے کانام رمضان ہے۔ رمضان ،دن کے روزوں اور راتوں کے عبادت کامہینہ ہے۔جو عنقریب کچھ دنوں میں ہم سے رخصت ہونے والا ہے۔
سوال یہ ہے کہ واقعی ہمارے روزے وہ روزے ہے جسے حدیث قدسی میں کہا گیا ہے ”الصوم لی وانا اجزی” اللہ فرماتاہے روزہ میری اطاعت میں انجام دیاجانے والاعمل ہے اور میں خود اس کا بدلہ ہوں ۔ کیا ہمارا روزہ اور رمضان ویسا ہی گزرا جیسا گزرنا چاہیے کیا واقعی ہم نے رب کی اطاعت و بندگی دنیا کی مصروفیات و مشغولیت سے آزاد ہوکر یکسوئی کے ساتھ انجام دی۔ ہم نے ماہ رمضان کے تقاضوں کا ویسا ہی خیال رکھا جیسا رکھنا چاہیے تھا؟؟؟
لیکن افسوس ہم عبادت وریاضت اور نزول قران کے اس موسم بہار کو روحانیت و تقوی کے حصول میں ڈوب جانے کی بجائے بطور فیسٹیول مناتے ہیں۔ یہ ایک ماہ جو ہمارے نفس کی تربیت کا مہینہ تھا جو ہماری اصلاح کا مہینہ تھا وہ محض ایک ماہ کا فیسٹیول بن کر رہ گیا ہے۔ ہمارے یہاں رمضان کی آمد پر بازار سجا دیئے گئے، شاپنگ کمپلیکسوں کی رونقیں بڑھادی گئیں۔ رمضان میں بجائے عبادتوں کی تیاری کے بازاروں کو پرکشش بنانے کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ عبادت تلاوت، نماز و اذکار کی بجائے بازاروں میں گشت لگانا روز کا معمول بن گیا۔ رمضان عبادت کا مہینہ نہیں جشن اورخریدار کامہینہ بن کر رہ گیا ۔نوجوانوں کی بڑی تعداد کچھ دن تراویح پڑھ کر چھٹی کرلی ۔بازاروں کی بھیڑ کا حصہ بن کر وقت گذاری میں مصروف رہے۔
اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مہینہ ہمیں اس لیے عطا فرمایا کہ سال کے گیارہ مہینے مصروف دنیا کی مشغولیت کی وجہ عبادت و اطاعت اور ایمانی حرارت میں جو کمی آگئی ہوتی ہےاس کا ازالہ ہوجائے ،نفس کی خواہشات کو قابو میں کیا جائے۔ دل میں لگے زنگ ملیامیٹ ہوجائے۔ دل شیطان کی پیروی سے بیزار ہوکر رب کی فرمانبرداری قبول کرنے والا بن جائے، ظاہر اور باطن کا تزکیہ ہوجائے ،مگر ہمارے وقتی بازاری کلچر سے ہم نے سوچا کہ یہ خریداری کا موقعہ ہے۔ لیکن افسوس اے نادان! تو بھول گیا یہ اطاعت و عبادت اور مغفرت و بخشش کا مہینہ تھا۔ یہ رب سے اپنی دعائیں قبول کروانے کا مہینہ تھا۔ رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کا مہینہ تھا۔ اے نادان…! نئے کپڑے بنانے سے تجھے شریعت نے منع نہیں کیا لیکن تجھے ترجیحات طے کرنے کا عقل و شعور تو دیا ہے۔ ہمارا کام ہے کہ رمضان کے تیس روزوں تک بازار کی خاک چھاننے سے بہتر ہے ہم رمضان سے ایک مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ ہی قبل خریداری کرلیں، اپنی ضرورتیں پوری کرلیں۔ تاکہ عظیم ماہ رمضان میں یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرے اور اس موقعہ غنیمت میں ہم رمضان کی سعادتوں کے مستحق ہوتے۔ لیکن یہاں تو عالم یہ ہے کہ چاند رات تک بازاروں کی خاک چھانی جاتی ہے، جوں جوں رمضان گزرتا ہے نت نئے پروگرامس منعقد کیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ جو دوزخ کی آگ سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اس عشرے کو افطار پارٹی اور بازاروں کی نظر کردیا جاتا ہے۔ جب کہ اس عشرے میں عبادات کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
عہد رسالت صلی ﷲ علیہ وسلم میں جیسے جیسے رمضان کی ایام گزرتے جاتے صحابہ اکرامؓ کی عبادات میں ذوق و شوق بڑھتا جاتا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے (کہ اٹھ کر عبادت کریں)اور عبادت میں بہت کوشش فرماتے اور اس کے لیے کمر ہمت باندھ لیتے۔(مسلم)
اسی طرح اس عشرے میں ایک رات ایسی بھی ہوتی ہے جسے شب قدر کہتے ہیں۔اس عشرے کی راتوں میں عبادت کا بہت ثواب ہے، اس لیے ان راتوں کو فضول لغویات میں ضائع کرنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے لیلة القدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
لیکن افسوس صد افسوس ہمارا معاشرہ عبادتوں سے غافل اور لاپروا ہوکر رمضان کی عظیم راتوں میں مسجدوں میں سجود و قیام کو چھوڑ کر اپنے اہل وعیال کے ساتھ عید کے کپڑے اور سامان خریدنے کے لیے بازاروں میں گھومتے رہتے ہیں۔اس طرح وقت برباد کرنا آخری عشرے کی فضیلتوں سے محروم ہونے کا سبب بنتا ہے۔
اس ماہ مبارک کو گپ شپ اور لا ابالی پن کی نظر نا کرے بلکہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ اجر کمائے۔ انفاق فی سبیل للہ میں اضافہ کرے، غریبوں کی مدد کرے انھیں کھانا کھلاۓ، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھے۔ یہ تمام کام بظاہر تو آپ کو چھوٹے لگے لیکن یہی سب کام بے پناہ اجر و ثواب کے ضامن ہیں۔
اب چونکہ رمضان المبارک ہم سے رخصت ہوا چاہتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس تربیتی مہینے کو ایک ماہ تک ہی مختص نہ رکھے بلکہ اس تربیت پر زندگی بھر قائم رہے۔ رمضان کو سالانہ میلے کی شکل دینے کی بجائے پوری زندگی سال بھر احتیاط کے ساتھ گزارنی چاہیے۔ ماہ رمضان ان لوگوں کے لئے مبارک ہے جنھوں نے واقعی اس کا حق ادا کیا۔ جنھوں نے ماہ رمضان کو اعمال صالحہ کے ساتھ رخصت کیا۔ اور جنھوں نے غفلت میں گزار دیا تو ان کی مثال ایسے ہے کہ "چڑیا چگ گئ کھیت، اب پچھتائے کا ہوت” عبادتوں میں غفلت اور سستی کرنے والوں کو چاہیئے کہ اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرے۔
سستی اور کاہلی کو چھوڑ کر خواب غفلت سے نکل آئے اور ایاما معدودات یعنی گنتی کے چند دنوں میں وقت کو عبادت تلاوت اور ذکر و اذکار میں مصروف کردے۔ ان چند دنوں میں جب بھی طبیعت سستی کی طرف جائے تو اسے یاد دہانی کراۓ کہ عبادتوں کی تھکاوٹیں تو اتر جاتی ہے مگر نامہ اعمال میں اس کا اجر باقی رہ جاتا ہے اس لیے نیکی کر کر کے تھکے اور تھک تھک کر نیکی کرے اور اجر عظیم کے حقدار بنے۔
اللہ ہمیں عبادت کرنے میں جدو جہد، قوت و طاقت عطا فرماۓ اور بوریت، سستی و کاہلی اور نیند سے پناہ میں رکھ۔ آمین یارب العالمین
Like this:
Like Loading...