Skip to content
اسرائیل،19مارچ(ایجنسیز) اسرائیلیوں نے منگل کی صبح سے محصور غزہ کی پٹی میں اپنے وحشیانہ حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ثالثوں نے جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قاہرہ حماس کے عہدیداروں سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کی جائے۔ یہ اقدامات حالیہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ وسیع رابطوں کے مطابق ہیں۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل نے ثالثوں کو جنگ بندی کو مسترد کرنے سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ ثالثوں نے فوری جنگ بندی کے بدلے کئی یرغمالیوں کو رہا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے حماس پر عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی ترجمان اورین مارمسٹین نے منگل کو ایک ویڈیو پریس بریفنگ میں کہا کہ حماس اس کشیدگی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ حماس کے ترجمان عبداللطیف القنوعہ نے کہا کہ حماس اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے اندرونی بحران کو برآمد کرنے اور مذاکرات کی نئی شرائط عائد کرنے کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کو کالعدم قرار دے کر غزہ پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے پرتشدد حملوں کے نتیجے میں آج منگل 18 مارچ کی صبح سے ہی غزہ کے عوام اپنے مرنے والوں کی لاشیں گن رہے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فلسطینی ریڈ کراس نے اعلان کیا کہ طبی سہولیات گنجائش سے زیادہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 413 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملبے تلے متعدد مرنے والوں کی تعداد موجود ہے جنہیں نکالنے کے لیے کام جاری ہے۔ یہ خونریز اسرائیلی حملے ہفتہ قبل دوحہ میں شروع ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی میں توسیع تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔ اس جنگ بندی معاہدے کا اطلاق 19 جنوری کو کیا گیا تھا۔ یکم مارچ کو یہ مرحلہ دوسرے مرحلے میں منتقل ہوئے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
حالیہ حملے اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کی حکومت پر کچھ انتہا پسند آوازوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان بھی کیے گئے ہیں۔ یہ آوازیں مسلسل آواز بلند کر رہی تھیں کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جانے کے بجائے دوبارہ جنگ شروع کردی جائے۔ اسرائیلی فوج نے ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا اور یہاں موجود لوگوں کو مغرب اور جنوب میں جانے کا کہا ہے۔ مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کو بھی بند کر دیا گیا تھا جس نے تباہ شدہ پٹی کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا۔
دوسری طرف اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاہو پر اپنے پیاروں کے قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جنگ بند کرنے کی اپیل کی ہے۔
Like this:
Like Loading...