Skip to content
وقف ترمیمی بل کے خلاف کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا کی قیادت میں ریاستی کابینہ نے قرار داد منظور کرکے جمہوریت کی بقا و تحفظ کی سمت ایک مثالی اقدام کیا ہے۔
حیدرآباد،24مارچ( پریس نوٹ)
وقف ترمیمی بل کو متعارف کروانے اور جے پی سی کی تشکیل اور اس کے جانبدارانہ رپورٹ مرکز کو سونپنے پر ملک کا ہر غیور اور سیکولر شہری تشویش میں ہے۔ ایسے وقت میں کرناٹک حکومت نے وقف بل سے متعلق حقائق کو سامنے رکھ کر جو تجویز ایوان کے ذریعہ منظور کی ہے وہ قابل مبارکباد ہے۔ میں بہ حیثیت رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا صاحب اور ان کے کابینی رفقاء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وقف ترمیمی بل سے متعلق مرکزی حکومت کے ان ناپاک عزائم وارادوں کے خلاف اسی طرح ڈٹے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا غیاث احمد رشادی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و صدر منبر ومحراب فاؤنڈیشن انڈیا نے آج اپنے صحافتی بیان میں کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو کرناٹک حکومت کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے وقف بل کے خلاف ایک قرار داد منظور کرنا چاہیے۔
انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ اقلیت دوست ہونے اور وقف بل کی سنگینیوں کے خلاف ملک و ملت کے مفاد میں کھڑے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ میں اس قرار داد کو پاس کریں اور تلنگانہ اسمبلی اس کو منظوری دے کر مرکزی حکومت سے اس بل کی واپسی کا مطالبہ کرے۔ مولانا رشادی نے کہا کہ اس سے قبل تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نیوقف ترمیمی بل کے خلاف ایک قرار داد منظور کرکے ایک مثال قائم کی تھی اگر ریاستی حکومت بھی کچھ ایسا ہی اقدام کرکے ایوان سے مرکز کو یہ پیغام دے کہ ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں تو نہ صرف اس کا اثر پڑے گا بلکہ تلنگانہ میں اقلیت دوست حکومت کہلائی جائے گی۔
مولانا رشادی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل مسلمانانِ ہند کے لیے خصوصاً اور پورے ملک کے لیے عموما نہایت خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ وقف بل محض اوقافی اراضیات تک محدود کمرکھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جبکہ ملک بھر کی ہزاروں مساجد‘درگاہیں اور خانقاہوں پر خطرناک بادل منڈلارہے ہیں ایسے میں اس کو معمولی باتوں تک محدود سمجھ کر دراصل مزید خطرات مول لینا ہے۔ مولانا نے مسلمانانِ ہند سے خاص طور پر یہ اپیل کی ہے کہ ملک و ملت کا وہ متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جو اس وقت سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔ ملت سے جو بھی اپیل کرے اس پر لبیک کہتے ہوئے عمل آوری کے لیے تیار رہیں۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...