Skip to content
مسلم لڑکیوں کی غیر مسلموں سے شادی: اسباب اور اسلامی حل
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
مسلم معاشرے میں آج کل ایک سنگین مسئلہ یہ درپیش ہے کہ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے کورٹ میریج کرنے لگی ہیں۔(شریعت کی نظر میں نکاح ہوتا ہی نہیں ہے) یہ ایک سماجی مسئلہ کے ساتھ ہماری دینی اور اخلاقی زوال کی بھی علامت ہے۔ اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سب سے نمایاں دینی تعلیم اور تربیت کی کمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، مگر آج کی نوجوان نسل کو اسلامی ماحول کم ہی میسر آتا ہے۔ دینی تعلیم کی کمی اور غیر اسلامی اسکولوں خصوصاً کانونٹ اسکول میں مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے دوران اسلامی اقدار سے دوری بڑھ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سی لڑکیاں قرآن اور سنت سے ناواقف رہتی ہیں اور ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
قرآن سے بے رغبتی بھی ایک بڑا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو انسانوں کے لیے ہدایت قرار دیا ہے، مگر جب نوجوان نسل اس کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر سے ناآشنا ہوتی ہے تو غیر اسلامی نظریات ان کے ذہنوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور فلموں کے ذریعے بھی ایسا مواد پھیلایا جا رہا ہے جو نوجوانوں کے عقائد کو کمزور کر رہا ہے۔ مشرکانہ ثقافت کو آزادی کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے اور مسلم لڑکیوں کو ایسے خیالات کی طرف مائل کیا جا رہا ہے جو ان کے دین سے متصادم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے بنیاد گمانوں سے بچنے کی تلقین کی ہے، مگر میڈیا ایسے ہی شکوک و شبہات پیدا کرنے میں مصروف ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ نکاح کو ہمارے معاشرے میں بے حد مشکل بنا دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو، تو اس سے نکاح کر دو، لیکن آج کے دور میں غیر ضروری رسم و رواج، بھاری جہیز، معمولی مہر، غیر ضروری باراتیوں کی فوج اور بے جا تقاضوں نے نکاح کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لڑکیوں پر گھریلو دباؤ، نکاح کے بعد سکون ملےگا یا نہیں پتہ نہیں،جہیز کی لعنت اور سماجی توقعات کی وجہ سے بعض اوقات وہ غیر اسلامی راستے اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض والدین لڑکیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دیتے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو جنت میں اپنی رفاقت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔معاشرے میں خواتین کی مساجد اور دینی اجتماعات میں شرکت کو محدود کر دینا بھی ایک نقصان دہ رجحان ہے۔ اگرچہ گھر میں نماز پڑھنا خواتین کے لیے افضل ہے، مگر دینی علم حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ کرنا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی عظیم خواتین نے علمِ دین کو عام کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، اور اگر آج کی مسلم خواتین کو علم سے محروم کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ بھیانک ہوگا۔ان مسائل کا حل بھی قرآن و سنت میں ہی موجود ہے۔ سب سے پہلے دینی تعلیم کو عام کرنا ہوگا، تاکہ بچپن ہی سے لڑکیوں اور لڑکوں کو قرآن کی تعلیم، ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کی عادت ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس کتاب کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ اگر ہماری بیٹیاں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے لگیں تو وہ غیر اسلامی نظریات سے محفوظ رہیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، نکاح کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، خاندان، حسن اور دین، مگر دین کو ترجیح دینا چاہیے۔ اس کے برعکس ہو رہا ہے آج اگر مسلمان اسی تعلیمات پر عمل کریں تو نکاح کو مشکل بنانے کا رواج ختم ہو جائے گا اور مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے پیچھے جانے پر مجبور نہیں ہوں گی۔
معاشرتی سطح پر بیداری پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اسلامی مراکز اور مساجد میں خواتین کے لیے دینی کلاسوں کا اہتمام کیا جائے، تاکہ وہ اپنے دین سے جڑی رہیں۔ غیر اسلامی میڈیا کے بجائے اسلامی پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ایسے پلیٹ فارمز مہیا کیے جائیں جہاں نوجوان نسل اپنی دینی اور سماجی مشکلات کے حل کے لیے علماء سے رجوع کر سکے۔ اس کے علاوہ، مالی مسائل کے شکار والدین کے لیے زکٰوۃ اور صدقات کے ذریعے نکاح کو آسان بنانے کی مہمات چلائی جائیں، تاکہ غربت کی وجہ سے کوئی لڑکی غیر اسلامی راستہ اختیار نہ کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلم معاشرے کی بقا قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہی ہے۔ اگر ہم بیٹے بیٹیوں کو دینی علم، اعتماد اور تحفظ دیں، نکاح کو آسان بنائیں اور غیر اسلامی رسومات سے بچیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں سمجھنے اور اسلامی اقدار کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Like this:
Like Loading...