Skip to content
جمعہ نامہ: الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے‘‘۔ایک ماہ کی مختصر رفاقت کے بعد ماہِ رمضان رخصت ہوا چاہتا ہے اور جاتےجاتے ہمیں للیلۃالقدر کی عظیم رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال کر رہا ہے لیکن جس طرح اس ماہِ مبارک کی عظمت کا تعلق قرآن کریم کے نزول سے ہے اسی طرح شب قدر کی خیرو برکت کا تعلق بھی اللہ کی کتاب سے وابستہ ہے۔ اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ رب کائنات عالمِ انسانیت سوال کرتا ہے:’’ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ ‘‘ اہل ایمان کے اندر تجسس پیدا کرنے بعد خالق کائنات خود یہ جواب ارشاد فرماتا ہے کہ :’’ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ یعنی قدر و قیمت اور بلند مرتبہ میں یہ رات ہزاروں لاکھوں راتوں سے زیادہ قیمتی ہے کیوں کہ قرآن حکیم کی تعلیمات نےعالمِ انسانیت کو لاکھوں کروڑوں راتوں سے زیادہ متاثرکیا ہے۔ اس رات نے گویا انسانی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
عصرِ حاضر میں اہل ایمان لیلۃ القدر کی کیسی پذیرائی کرتے ہیں اس کا مشاہدہ ہر مسجد کے اندر کم ازکم رمضان کی ستائیسویں شب کو تو ہوہی جاتا ہے حالانکہ اسے آخری عشرے کی سبھی طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔مسجد الحرام میں امسال اس موقع پر دنیا بھر کے 34 لاکھ سے زائد عمرہ زائرین اور نمازی کعبۃ اللہ میں اکٹھا ہو کر اللہ کے حضور اپنی بخشش اور عالم اسلام و انسانیت کے لیے دعا و مناجات کر رہے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ غاصب اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مسجدِ اقصیٰ کے اندر دولاکھ سے زیادہ اہل ایمان شبِ قدر کی عبادات میں شریک ہوئے ۔ یہ امن و سلامتی کی رات ہے اور آج کل غزہ سے لے کر یوکرین تک مظلوم عوام امن و امان کی دہائی دے رہے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں ممالک کے علاوہ ساری دنیا میں خاص طور پر ملک شام کے اندر امن امان کوقائم و دائم فرمائے ۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی رمضان مبارک مجاہدین غزہ کو عظیم جذبۂ شہادت سے سرشار کرکے جارہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس جہاد عظیم کو کامیابی سےسرفراز فرمائے۔
جمعۃ الوداع کو ساری دنیا میں یوم القدس کے طور پرمنایا جاتا ہے اور سارے عالم کے مسلمان و دیگر انصاف پسند لوگ اہل فلسطین کے ساتھ اپنی ہمدردی و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وطن عزیز میں اس سال اوقاف کے حوالے سے پہلی بار ملت کے مشترکہ فورم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پرچم تلے ماہِ رمضان کے اندر پہلے دہلی کے جنتر منتر اور اور پھر پٹنہ میں جرأتمندانہ احتجاج ہوا۔ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اسے ملک کے گاوں گاوں قریہ قریہ تک پہنچانے کا ارادہ ہے۔ اس نہایت خوش آئند احتجاج سے اللہ تعالیٰ مسلم اوقاف کے تحفظ کی راہ آسان فرمائے ۔ امسال ہولی کا تہوار رمضان مبارک میں آیا اور اس کے بہانے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی گئی لیکن فرقہ پرستوں کو اس بابت کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی پھر بھی کانپور میں شریف اور علی گڑھ میں فیصل تشدد کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں روزے دار وں کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس عطا فرمائے۔
اس سال ماہِ مبارک میں اورنگ زیب عالمگیر کے بہانے ناگپور کے اندر فرقہ وارانہ اشتعال دلا کر تشدد بھڑکایا گیا۔ اس میں عرفان انصاری کی شہادت ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ اسےشرفِ قبولیت عطا فرمائے، وہاں بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری بھی ہوئی ان کی رہائی کا سامان فرمائے۔ اس تشدد کے بعد فرقہ پرستوں کی زبان پر بہت حد تک لگام لگاہے اس کو مضبوط کرے۔ مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی کوشش کو عدالت نے پھٹکار لگا کر روک تو دیا مگر اس فیصلے سے قبل مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی خاطرجزوی نقصان پہنچایاگیامگر یوسف کے بھائی ایاز خان کا انٹرویو اس کا ثبوت ہےکہ وہ بے خوف ہیں۔ سنبھل مسجد کمیٹی کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو گرفتار ی اور مقامی رکن پارلیمان ضیاء الرحمٰن برق کی طلبی تشویشناک ہے لیکن ان دونوں نے بڑی بے خوفی سے سرکاری الزامات کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کردیا ہے۔ امید ہے اس ماہِ مبارک نے اہل ایمان کی تربیت و تزکیہ کرکے جس طرح جذبۂ مزاحمت سے سرشار کیا ہے اس کی مدد سے یہ لوگ ان آزمائشوں میں نہ صرف رب کائنات کا قرب حاصل کریں گےبلکہ کلمۂ حق کو سربلند کریں گے ۔ ان شاء اللہ ۔
ارشادِ قرآنی ہے: ’’ فرشتے اور روح اُس (شب) میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں ‘‘۔ گویا پوری کائنات کے لیے خدائی پروگرام طے ہوتا اور سارے جہان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ان میں رحمت اور عذاب، نصب اور عزل، فتح اور شکست جیسے سارے امور شامل ہوتے ہیں مگر ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ہر فیصلہ عدل، رحم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہےیعنی مجموعی طور پر دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتا ہے ۔ قرآن مجید کے سورۂ دخان میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے کہ : ’’ہم نے اس (قرآن) کو ایک نہایت مبارک رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کرنے والے ہیں‘‘ ۔ اللہ کی کتاب کا ایک مقصد تو انسانوں کو اپنے انجام کار سے خبردار کردینا ہے تاکہ وہ اپنی مہلت زندگی میں خود کو ابدی خسارے سے بچا کر کامیابی کی سبیل نکال سکیں۔
ارشادِ قرآنی ہے : ’’اسی رات میں خاص ہمارے حکم سے تمام حکیمانہ امور کی تقسیم ہوتی ہے۰۰۰‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک مبارک رات خاص اس کام کے لیے مقرر فرمائی ہے جس میں وہ تمام نافذالعمل امورانہیں نافذ کرنے والے ملائکہ کے سپرد کردیئے جائیں۔ فرمانِ قرآنی ہے :’’ وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے ‘‘۔ اس آیت کا ایک مطلب یہ ہے چونکہ اسی شب اللہ رب ا لعزت نےعالمِ انسانیت کو امن وسلامتی کےابدی پیغام یعنی قرآن سے نواز ا، اس لیے یہ مجسم سلامتی ہے ۔ الہامی عقائد و تصورات نیز تہذیب و معاشرت ہی زمین پر امن و سلامتی کی اساس ہے۔ قرآن حکیم نے روحانی اقدار اور حسن وقبح کے پیمانے طے کیے۔ عملی سطح پرتاقیامت حق و باطل کا معیار اور مستقل قدریں قائم کردیں۔ اس سے طریق زندگی اور نظام شریعت طے ہوگیا۔ شب قدر کی قدر و قیمت اور پیغام ربانی سے غفلت کےسبب انسانیت اللہ کی عظیم ترین رحمت وسعادت یعنی داخلی و خارجی امن سکون سے محروم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ عالمِ انسانیت کو دین اسلام کی جانب متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...
آمین یا رب العالمین
اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کو جزاء خیر عطا فرمائے