Skip to content
ہم وقف ترمیمی بل کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
مسجد، مدرسہ، قبرستان بچاؤ – وقف بچاؤ
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) وقف (ترمیمی) بل 2024 کی سخت مخالفت کر رہا ہے کیونکہ یہ وقف جائیدادوں کے انتظام اور ان کی وجود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ بل وقف اداروں کی خودمختاری کو کمزور کر دیگا ہے، جو ہمیشہ سے اُمت مسلمہ کی مذہبی اور سماجی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ پورے ملک میں اس ترمیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں کیونکہ مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ ان تبدیلیوں سے وقف جائیدادوں کا انتظام کمزور ہو جائے گا اور حکومتی مداخلت بڑھ جائے گی۔ اور وقف زمینوں پر قبضہ آسان ہو جائے گا ۔ دہلی اور پٹنہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے ہیں۔
اس بل کا سب سے تشویشناک پہلو وقف بورڈ میں غیر مسلم افراد کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ وقف جائیدادیں مسلمانوں کے مذہبی اور فلاحی مقاصد کے لیے مختص ہیں اور ان کا انتظام اسلامی اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی شمولیت ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے ان اداروں کی مذہبی شناخت کمزور آور مسخ ہو جائے گی۔ جب ملک میں کسی بھی دوسرے مذہبی گروہ کی جائیدادوں کا انتظام باہر کے لوگ نہیں کرتے تو پھر مسلم وقف جائیدادوں کے لیے الگ قانون کیوں بنایا جا رہا ہے؟
ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ وقف جائیدادوں کی ضلع انتظامیہ میں لازمی رجسٹریشن کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے حکومت کی مداخلت اور جائیدادوں پر قبضے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ پہلے بھی وقف جائیدادوں پر سرکاری اور دیگر اداروں کے ناجائز قبضے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔شکایتیں کوئی سنتا نہیں یہ ترمیم حکام کو وقف جائیدادوں میں مداخلت کا قانونی جواز فراہم کرے گی، جس سے مسلمانوں کے مذہبی اثاثے مزید خطرے میں پڑ جائیں گے۔
بل میں وقف ٹریبیونل کی تشکیل میں بھی تبدیلی کی تجویز ہے، جس کے تحت اسلامی قانون کے ماہر کو ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وقف معاملات کی غیر جانبدارانہ سماعت کے خلاف ہے۔ وقف سے جڑے تنازعات کو حل کرنے کے لیے اسلامی قانون کی گہری سمجھ ضروری ہے۔ اگر ٹریبیونل میں اسلامی قوانین سے واقف ماہرین نہیں ہوں گے، تو امت مسلمہ کے مسائل نظرانداز کیے جائیں گے اور انصاف کی امید ختم ہو جائے گی۔
ایک اور تشویشناک تجویز یہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں، جیسے آغا خانی اور بوہرہ برادری کے لیے الگ الگ وقف بورڈ بنائے جائیں گے۔ یہ فیصلہ وقف کے نظام کو تقسیم کرنے اور مسلم سماج کو کمزور کرنے کی اور بانٹنے کی ایک سازش ہے۔ وقف جائیدادوں کا انتظام ہمیشہ اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر ہوتا آیا ہے۔ اس تقسیم سے وقف بورڈ کی طاقت کمزور ہو جائے گی اور مسلم کمیونٹی کے حقوق کو نقصان پہنچے گا۔
اس کے علاوہ، بل میں وقف ٹریبیونل کے اختیارات کم کرنے اور اس کے فیصلوں کو 90 دن کے اندر ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے وقف ٹریبیونل کی افادیت کم ہو جائے گی اور وقف جائیدادوں سے متعلق تنازعات کو حل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ پہلے ہی اُمت مسلمہ کو حکومت اور عدالتی نظام پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ وقف جائیدادوں پر سرکاری قبضے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ یہ ترمیم وقف املاک کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کو مزید کمزور کر دے گی۔
AIMPLB اور دیگر مذہبی مسلم تنظیموں دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم مکمل طور پر غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہے۔ یہ وقف اداروں جیسے مسجد، مدرسہ، قبرستان، امام باڑہ کی خودمختاری اور وجود کے لیے خطرہ ہے، جو صدیوں سے مسلم معاشرے کی مذہبی، تعلیمی اور سماجی ضروریات کو پورا کرتے آ رہے ہیں۔ حکومت کو اس بل کو فوری طور پر واپس لینا اور مسلم نمائندوں سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ وقف جائیدادیں ان ہی لوگوں کے کنٹرول میں رہیں جو ان کی مذہبی اور سماجی اہمیت کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
وقف کی دکانوں کا کرایہ مارکیٹ کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ حکومت نہ تو کرایہ داروں کو نکالنے دیتی ہے اور نہ ہی کرایہ بڑھانے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے صرف دہلی میں ہی وقف کو ہزاروں کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر وقف جائیدادوں کا کرایہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق لیا جائے، تو مسلمانوں کی تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
ملک کے کئی ریاستوں میں وقف کی زمینوں پر ناجائز قبضے ہیں۔ حکومت چاہے تو ایک دن میں یہ قبضے ختم کر کے وقف کو اس کی زمینیں اور دکانیں واپس دلا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا 10 اپریل 2025 سے وقف ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلانے جا رہی ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ اس تحریک میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا ساتھ دیں۔
وقف ترمیمی بل کی ڈٹ کر مخالفت کریں!
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...