Skip to content
وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں
ازقلم:شیخ سلیم .
ویلفئیر پارٹی آف انڈیا
وقف ترمیمی بل 2024 ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، کیونکہ مرکزی حکومت اسے 2 اپریل 2025 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ بل گزشتہ سال 28 جولائی کو پہلی بار پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں 8 اگست کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا، جس نے 30 جنوری 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔
مسلمانوں میں اس بل کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور مختلف تنظیمیں اس کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس بل کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کی کال دی۔ 13 مارچ 2025 کو دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا گیا، جس میں مسلم قائدین، علماء اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اسی طرح، 26 مارچ کو پٹنہ کے گردنی باغ میں زبردست دھرنا دیا گیا، جہاں شرکاء نے "وقف ترمیمی بل واپس لو” کے نعرے لگائے۔ ان مظاہروں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے واضح ہوا کہ یہ مسئلہ محض کسی ایک جماعت یا تنظیم کا نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا ہے۔
تمل ناڈو اور کرناٹک اسمبلی نے اس بل کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ یہ بل مسلمانوں پر معاشی حملہ ہے اور ان کے بنیادی حقوق کو متاثر کرے گا۔ دیگر کئی ریاستوں میں بھی مسلم قیادت اور سماجی تنظیمیں اس بل کے خلاف متحرک ہو رہی ہیں۔
کانگریس سماج وادی پارٹی اور این سی پی شرد پوار ، شیو سینا ادھو ٹھاکرے سے اُمید ہے وہ بل کے خلاف ووٹ دینگے۔لوک جن شکتی پارٹی رام ولاس پاسوان پتہ نہیں کسکے ساتھ جائیں این ڈی اے کے دو اہم اتحادی نتیش کمار اور چندر بابو نائیڈو جو مسلمانوں کے ووٹ کی بدولت اقتدار میں آئے ہیں کے بارے میں کل ہی پتہ چلے گا حق و انصاف کا ساتھ دیتے ہیں یا نفرتی سیاست کا کل پتہ چلے گا ۔اُنہیں صاف صاف بل کے خلاف ووٹ دینا چاہیے اور ارباب اقتدار سے کہنا چاہیے مسلمانوں کے دینی معاملات میں سرکاری مداخلت بند کی جائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس بل کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ جمعة الوداع کے موقع پر ملک بھر کی مساجد میں نمازیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کیا تھا، جس کا مقصد حکومت کو یہ واضح پیغام دینا تھا کہ مسلمان اپنے مذہبی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کی قدغن برداشت نہیں کریں گے۔
مسلمانوں کا موقف ہے کہ وقف (یعنی وہ املاک جنہیں مسلمانوں نے اللہ کے راستے میں دیا ہے)املاک صدیوں سے قوم کے اجتماعی مفاد میں وقف کی جاتی رہی ہیں اور ان پر حکومت کی مداخلت کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ یہ املاک مساجد، مدارس، یتیم خانوں اور دیگر فلاحی مقاصد کے لیے وقف کی جاتی ہیں، اور ان کے نظم و نسق میں مداخلت کو ملت کے حقوق پر حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیمیں اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں کہ اگر حکومت نے یہ بل واپس نہ لیا تو اس کے خلاف تحریک میں مزید شدت لائی جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کا مقصد وقف جائیدادوں کے نظم و نسق میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہے، لیکن مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ درحقیقت وقف املاک ( مساجد مدارس قبرستان)کو حکومتی کنٹرول میں لینے کی ایک سازش ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو گیا تو مسلمانوں کی ہزاروں سال پرانی اوقاف کی زمینوں پر سرکاری اور غیر سرکاری قبضہ آسان ہوجائےگا اور مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری متاثر ہوگی۔
ملک بھر میں اس بل کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت حکومت کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ مسلم تنظیموں کا اتحاد اور احتجاجی تحریک اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مسلمان اپنے دینی اور سماجی حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر حکومت نے اس بل پر اصرار جاری رکھا تو یہ معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔اگر خدا نہ خواستہ بل پاس ہوا تو مسلمانوں کا شدید رد عمل سامنے آئے گا ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...