Skip to content
بالی ووڈ فلموں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت
ازقلم:شیخ سلیم .
ویلفئیر پارٹی آف انڈیا
ایک زمانہ تھا جب بھارتی فلمیں محبت، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔ مسلمان کرداروں کو مثبت انداز میں پیش کیا جاتا تھا، اور فلمیں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتی تھیں۔ لیکن 2014 کے بعد، بھارتی فلم انڈسٹری، خاص طور پر بالی ووڈ، میں نفرت انگیز پروپیگنڈے کا رجحان بڑھنے لگا۔ مسلمانوں کو ملک دشمن، دہشت گرد اور سازشی عناصر کے طور پر دکھایا جانے لگا، اور تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جانے لگا۔
فرقہ پرست طاقتوں نے فلم انڈسٹری کو ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ خاص طور پر آر ایس ایس اور دائیں بازو کی جماعتوں نے بالی ووڈ کو مسلمانوں کے خلاف منفی اور نفرت انگیز تاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو انتخابات میں ہوا۔ پچھلے چند سالوں میں کئی ایسی فلمیں بنائی گئیں جنہوں نے مسلم دشمنی کو فروغ دیا اور ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کیا۔
مسلم دشمنی پر مبنی فلمیں
ذیل میں کچھ ایسی فلموں کی تفصیل دی جا رہی ہے جو مسلم مخالف پروپیگنڈا کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں:
1. دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر (2019)
ڈائریکٹر: وجے رتناکر گٹے
پروڈیوسر: سنجے بارو، پنکج ویرما
یہ فلم سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت (2004-2014) کو کمزور، بے اختیار اور غیر ملکی اثر و رسوخ کا شکار دکھاتی ہے۔ اس فلم کا مقصد کانگریس کو بدنام کرنا اور بی جے پی کے بیانیے کو فروغ دینا تھا۔منموہن سنگھ جیسے انتہائی قابل وزیر اعظم کے خلاف جھوٹ پھیلایا گیا
2. دی ویکسین وار (2023)
ڈائریکٹر: وویک اگنی ہوتری
پروڈیوسر: پلوی جوشی
یہ فلم بھارت میں کووڈ ویکسین کی تیاری کو ایک عظیم قومی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ حقیقت سے زیادہ حکومتی پروپیگنڈے کا حصہ تھی۔
3. جے این یو: نیشنلزم اینڈ دی پولیٹکس آف فیئر (2023)
ڈائریکٹر: ابھیشیک گپتا
پروڈیوسر: تفصیلات دستیاب نہیں
فلم میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ اور اساتذہ کو ملک دشمن اور غیر ملکی سازشوں کا حصہ دکھایا گیا، جو دائیں بازو کے ایجنڈے کا حصہ تھا۔آپ کو یاد ہوگا عمر خالد کے خلاف میڈیا میں نفرت پھیلائی گئی تھی بعد میں انہیں دہلی فسادات کے لئے زمہ دار ٹھہرایا گیا چار سال سے نا کردہ گناہوں کی سزا جھیل رہے ہیں تہاڑ جیل میں UAPA کے تحت قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں ۔ضمانت کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
4. ویر ساورکر (2024)
ڈائریکٹر: رندیپ ہودا
پروڈیوسر: سندر داس، آنند پنڈت
یہ فلم ونایک دامودر ساورکر کو ہندوتوا کا ہیرو بنا کر پیش کرتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینے میں پیش پیش تھے۔
5. دی کیرلا اسٹوری (2023)
ڈائریکٹر: سدھارتھ آنند
پروڈیوسر: وپل امروت لال شاہ
فلم میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ کیرلا میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جا رہا ہے اور انہیں دہشت گرد تنظیموں سے جوڑا جا رہا ہے۔
6. رزاکار: دی سائلنٹ جینوسائیڈ آف حیدرآباد (2024)
ڈائریکٹر: یاٹی نائیڈو
پروڈیوسر: جیوی پرساد
اس فلم میں تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر مسلمانوں کو ظالم اور قاتل بنا کر پیش کیا گیا جبکہ حقیقت میں آپریشن پولو میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ تھی۔
7. دی کشمیر فائلز (2022)
ڈائریکٹر: وویک اگنی ہوتری
پروڈیوسر: پلوی جوشی، ابھیشیک اگروال
یہ فلم کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کو مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش کے طور پر دکھاتی ہے اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا ذریعہ بنی۔
8. آرٹیکل 370 (2024)
ڈائریکٹر: آدتیہ سوہیرہ
پروڈیوسر: یوگیش راہاری، ادے تیواری
اس فلم میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قومی کامیابی کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ حقیقت میں اس اقدام نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق سلب کر دیے۔
9. نریندر مودی (2019)
ڈائریکٹر: اومنگ کمار
پروڈیوسر: سندیپ سنگھ، آنند پنڈت
یہ فلم نریندر مودی کی شخصیت کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ ان کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف متعدد مظالم کیے گئے۔
10. چھاوا (2024)
ڈائریکٹر: لکشمن اوتادے
پروڈیوسر: رتیش دیش مکھ
فلم میں شیواجی مہاراج کی زندگی کو پیش کیا گیا لیکن مسلمانوں کو منفی کردار میں دکھا کر فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔
یہ فلمیں صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ دائیں بازو کی سیاست کے ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے ذریعے مسلمانوں کو ملک دشمن، دہشت گرد اور ظالم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہندو ووٹ بینک کو متحد کیا جا سکے اور بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچایا جا سکے۔حالیہ دونوں میں اسی وجہ سے ناگپور میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور حالات کشیدہ ہوئے۔یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، جس کے تحت زہر پھیلاتے ہیں میڈیا، فلم انڈسٹری اور سیاسی مشینری مل کر نفرت کا ماحول بنا رہی ہیں۔
اس کے خلاف منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ نوجوان وہاٹس ایپ پر یہ فلمیں دیکھتے ہیں اور فلموں کا کچھ حصہ فارورڈ کرتے رہتے ہیں نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں ،تجزیہ کاروں کو ان فلموں پر تنقیدی جائزے پیش کرنے چاہئیں تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ کس طرح جھوٹے بیانیے کو پھیلایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ایسی ڈاکیومنٹری فلمیں اور تحقیقی مضامین شائع کرنے کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کا اصل مؤقف پیش کریں اور تاریخ کی درست تصویر لوگوں کے سامنے رکھیں۔جس قوت سے نفرت پھیلائی جا رہی ہے، اسی قوت سے اسے مٹانے کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ حال ہی میں کیرالا میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے empuraan جس میں گجرات فسادات اور آر ایس ایس کے رول کے بارے میں دکھایا گیا ہے مگر سنگھی اس فلم کے خلاف زبردست احتجاج کر رہے ہیں اور فلم سے اٹھارہ سین سینسر کر کے نکال دیے گئے ہیں ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے اگر سنگھی نظریئے کے خلاف کوئی فلم بنائی گئی تو سینسر بورڈ ایکشن میں آ جاتا ہے اور فلم میں سے بہت سارے سین نکالنے پڑتے ہیں ۔
Like this:
Like Loading...