Skip to content
بے حسی کا عہد: انسانیت خسارے میں
✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
📱09422724040
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی حقیقت کو نہایت جامع الفاظ میں بیان کیا ہے: "وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ” (سورۃ العصر: 1-3)۔ "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے”۔ یہ آیات ہمیں ایک بنیادی حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں کہ اگر ہم اپنے اعمال، اخلاق اور کردار کا محاسبہ نہ کریں تو ہم ہمیشہ خسارے میں ہی رہیں گے۔ محض دنیاوی کامیابیاں یا مادی ترقی اصل فلاح نہیں، بلکہ اصل کامیابی ایمان، نیک اعمال، حق پر قائم رہنے اور صبر و استقامت اختیار کرنے میں ہے۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم اس خسارے کی زد میں آ چکے ہیں جس کی نشاندہی اللّٰہ تعالیٰ نے کی ہے۔ اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں، صبر اور حلم کی جگہ غصے اور انتقام نے لے لی ہے، انسانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے، اور خود غرضی نے ایثار اور رواداری کو نگل لیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے قول و فعل سے ہمیں اعلیٰ ترین اخلاقی معیارات سکھائے۔ آپﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک کامل نمونہ ہے کہ کس طرح نرمی، بردباری، عدل اور صبر سے ایک معاشرے کو فلاح کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے” (بخاری و مسلم)۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری گفتار اور کردار اس معیار سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ ہمارے تعلقات خود غرضی کی بنیاد پر استوار ہو چکے ہیں، معمولی اختلافات دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں، برداشت اور رواداری ختم ہو چکی ہے، اور ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے۔ یہ المیہ صرف انفرادی نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ہمارے زوال کا سبب بن چکا ہے۔ ہمارا ملی و اجتماعی نظریہ، جو اخوت، مساوات اور عدل پر مبنی تھا، آج خود غرضی، تعصب اور بے حسی کی دھند میں گم ہو چکا ہے۔ نتیجتاً، ہماری معاشرتی بنیادیں لرز رہی ہیں، اور ہم بحیثیت اُمت اپنی اصل شناخت کھو رہے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم قرآن و سنّت کی روشنی میں اپنی اصلاح کریں، اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اور اس خسارے سے بچنے کی حقیقی کوشش کریں جس کی خبر اللّٰہ تعالیٰ نے دی ہے۔ اگر ہم اپنی زبان، رویے اور معاملات میں دیانت، نرمی، عدل اور سچائی کو اپنا لیں تو ایک بہتر اور پُرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ورنہ ہم اپنی بے عملی، سخت دلی اور ناانصافی کی وجہ سے مزید زوال کی طرف بڑھتے رہیں گے۔ آج کا انسان معاشرتی و سماجی آداب اور روایات سے کوسوں دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ معاشرے میں خود غرضی، بے حسی، بے چینی اور بدتمیزی عام ہو چکی ہے۔ انسانی رویے کرختگی اور سخت مزاجی کی تصویر بن چکے ہیں، اور اخلاق و شائستگی جیسے الفاظ اپنی معنویت کھوتے جا رہے ہیں۔ نرم گفتاری اور حلم کی جگہ چیخ و پکار اور تند و تیز لہجوں نے لے لی ہے، جس سے نہ صرف انسانی رشتے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار بھی دم توڑتی جا رہی ہیں۔
یہ المیہ صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے اثرات ہماری اجتماعی شناخت اور ملی نظریے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ وہ نظریہ جس کی بنیاد اخوت، رواداری اور ایثار پر رکھی گئی تھی، آج خود غرضی اور نفسا نفسی کی دھول میں دھندلا چکا ہے۔ دشمن ہماری اس کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن ہم بے خبری کے پردے میں ایسے قید ہیں کہ نہ حقیقت کو دیکھ رہے ہیں اور نہ اس کا ادراک کر پا رہے ہیں۔
جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے انسانیت کے بہترین اصول اور اخلاقیات کے اعلیٰ معیار متعین کیے تھے۔ آپﷺ نے ایک سچے مسلمان کی پہچان اس کے اخلاق، زبان اور عمل سے جوڑی۔ ارشادِ نبوی ہے: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں”۔ یہ تعلیم ہمیں برداشت، نرم مزاجی اور صبر کی ترغیب دیتی ہے، مگر آج ہم ان اصولوں کو فراموش کر چکے ہیں۔
حضور اکرمﷺ نے زبان درازی کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ "آدمی کے لیے زبان درازی سے زیادہ بری خصلت اور کوئی نہیں۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ بدزبانی، بدکلامی اور ناشائستہ رویے عام ہو چکے ہیں۔ نہ گفتگو میں نرمی باقی رہی اور نہ وعدے کی پاسداری کا احساس۔ نفاق کی علامتیں، جنہیں آپﷺ نے یوں بیان فرمایا: "جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب کسی سے معاملہ کرے تو بدکلامی کرے، اور جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے”— یہ صفات ہمارے رویوں میں جڑ پکڑ چکی ہیں، جو ہماری اجتماعی تباہی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
معاشرے کی خوبصورتی عدل، حلم، میانہ روی اور رواداری میں ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک مضبوط اور پرامن سوسائٹی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ جہاں یہ خصوصیات مفقود ہو جائیں، وہاں انتشار، بے راہ روی، شدّت پسندی، اضطراب اور ناانصافی اپنے پنجے گاڑ لیتے ہیں۔ آج اگر ہم ان رویوں کا سدّباب نہ کریں تو ہم اپنی اخلاقی اور سماجی اقدار کو مکمل طور پر کھو بیٹھیں گے۔ لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں، اپنی زبان و عمل کو سنواریں، اپنے رویوں میں نرمی اور برداشت پیدا کریں اور نبی کریمﷺ کی سیرت کو مشعلِ راہ بنائیں، تاکہ ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں ایک باوقار، عادل اور پُرامن سوسائٹی میں تبدیل ہو سکے۔
عدم برداشت ہمارے معاشرے کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔ صبر، تحمل اور بردباری جیسے اعلیٰ اوصاف دم توڑ چکے ہیں، اور ان کی جگہ انتقام، غصے اور بے حسی نے لے لی ہے۔ ہم پتھر کا جواب اینٹ سے دینا اپنی شان سمجھتے ہیں، طاقتور کمزور کو دبانے میں فخر محسوس کرتا ہے، اور معمولی اختلافات پر ہم مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سب اس امت کے رویے ہیں جس کے نبیﷺ نے طائف کی گلیوں میں لہولہان ہونے کے باوجود دشمنوں کے حق میں دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے تھے، جس نبیﷺ نے روزانہ کوڑا پھینکنے والی عورت کی تیمارداری اس قدر محبت سے کی کہ وہ خود اسلام کے نور سے منور ہو گئی۔ مگر افسوس! ہم صرف ان واقعات کو سننے اور دوسروں کو سنانے تک محدود ہو چکے ہیں، عمل سے کوسوں دور جا چکے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری معاشرتی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ وہ کونسے عوامل ہیں جو ہمیں عدم برداشت، سخت گیری اور بد اخلاقی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جب کسی معاشرے میں انصاف کمزور پڑ جائے، حقدار کو اس کا حق نہ ملے، طبقاتی تفریق بڑھ جائے، عدل میں تاخیر ہونے لگے، اور قانون صرف غریبوں کے لیے رہ جائے جب کہ اشرافیہ ہر ضابطے سے بالاتر ہو، تو وہاں برداشت اور رواداری ختم ہو جاتی ہے۔ جب غربت حد سے بڑھ جائے، ضروریات اور خواہشات خواب بن جائیں، اور زندگی بوجھ لگنے لگے، تو ایسے میں انسان کے لیے صبر کا دامن تھامنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ نہ صرف دوسروں سے برے رویے اپناتا ہے بلکہ خود اپنے ہی خلاف سازشیں کرنے لگتا ہے۔ البتہ وہی شخص ان حالات میں بھی نرم گفتار اور بردبار رہتا ہے، جسے اللّٰہ پر کامل بھروسہ ہوتا ہے، ورنہ عمومی طور پر حالات کی سختی انسان کو سخت بنا دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خوش اخلاقی اور میٹھے بول کی تاثیر ازل سے مسلمہ ہے۔ ماضی کے بادشاہوں کا طرزِ حکمرانی دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنی رعایا کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، ان کے مسائل پر غور کرتے تھے، اور بعض اوقات تو ان کے ساتھ ہونے والے حادثات اور مشکلات کی جھلک خوابوں میں بھی دیکھتے تھے۔ وہ ان خوابوں کو محض واہمہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے مطابق عملی اقدامات کرتے تھے تاکہ رعایا کو سہولت ملے، ریاست مستحکم ہو اور انصاف کا بول بالا ہو۔
مگر آج کے حکمرانوں کی دنیا ہی الگ ہے۔ انہیں خواب آتے بھی ہیں تو صرف اپنے مفادات کے، انہیں دکھائی دیتا بھی ہے تو صرف اپنا اقتدار۔ عوام کی مشکلات، غربت، ناانصافی، اور مسائل ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ اقتدار کے نشے میں اس قدر مست ہو چکے ہیں کہ انہیں عوام کے سسکتے چہرے اور ٹوٹتی امیدیں نظر ہی نہیں آتیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا معاشرہ بے حسی کی تصویر بن چکا ہے، جہاں محبت کے بجائے نفرت پلتی ہے، انصاف کے بجائے ظلم پنپتا ہے، اور رحم دلی کی جگہ سنگدلی نے لے لی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں، اپنے رویوں پر غور کریں، اور صبر، حلم، رواداری اور خوش اخلاقی کو اپنی زندگیوں میں واپس لے آئیں۔ ورنہ اگر یہی روش برقرار رہی، تو وہ وقت دور نہیں جب یہ انتشار ہمیں مکمل طور پر برباد کر دے گا۔ خوش اخلاقی اور شیریں کلامی کی اہمیت ازل سے مسلمہ ہے۔ نرم گفتاری اور خوش مزاجی وہ اوصاف ہیں جو دلوں کو فتح کر لیتے ہیں، تعلقات میں محبت اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں، اور اختلافات کو صبر و برداشت کے دامن میں لپیٹ دیتے ہیں۔ ماضی کے حکمران اپنی رعایا کے لیے اس قدر فکرمند ہوتے تھے کہ بسا اوقات ان کے خواب بھی عوام کی پریشانیوں اور آنے والے واقعات کی نشاندہی کرتے تھے۔ وہ ان خوابوں کو محض اتفاق نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے مطابق اقدامات کرتے تاکہ اپنی سلطنت کو محفوظ اور اپنے عوام کو مطمئن رکھ سکیں۔
یہی حال ایک ایسے بادشاہ کا تھا جو خوابوں پر یقین رکھتا تھا اور انہیں مستقبل کے ممکنہ حالات کا اشارہ سمجھتا تھا۔ ایک شب اس نے خواب دیکھا کہ اس کے تمام دانت گر چکے ہیں۔ چونکہ خوابوں کی تعبیر کا معاملہ حساس ہوتا ہے، اس لیے اس نے ایک نجومی کو دربار میں طلب کیا تاکہ اس خواب کی حقیقت معلوم کر سکے۔ نجومی آیا، خواب سنا اور یکدم اس کا رنگ فق ہو گیا۔ خوف کے مارے اس کی زبان سے "اعوذ باللّٰہ، اعوذ باللّٰہ” نکلنے لگا۔ بادشاہ نے گھبرا کر دریافت کیا، "کیا تعبیر ہے اس خواب کی؟” نجومی نے ڈرتے ڈرتے کہا، "بادشاہ سلامت! اس خواب کی تعبیر اچھی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے تمام اہل خانہ آپ کی زندگی میں ہی وفات پا جائیں گے، اور آخر میں آپ تنہا رہ جائیں گے۔ پھر دشمن آپ کو بری طرح قتل کر دیں گے۔”
یہ سنتے ہی بادشاہ کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے نجومی کو فوراً قید خانے میں ڈالنے اور کوڑے لگانے کا حکم صادر کر دیا۔ اس کے بعد دوسرے نجومی کو دربار میں حاضر کیا گیا تاکہ وہ خواب کی نئی تعبیر پیش کرے۔
دوسرا نجومی آیا، بادشاہ نے اسے خواب سنایا اور تعبیر پوچھی۔ وہ مسکرا کر کہنے لگا، "بادشاہ سلامت! یہ تو خوشخبری ہے، اقبال بلند ہونے کی نوید ہے!” بادشاہ حیران ہوا اور بولا، "وہ کیسے؟”۔ نجومی نے ادب سے جواب دیا، "بادشاہ سلامت، اس خواب کا مطلب ہے کہ آپ کی عمر بہت طویل ہوگی۔ آپ اپنے خاندان کے تمام افراد سے زیادہ جئیں گے اور تمام عمر سلطنت پر حکمرانی کریں گے”۔ یہ تعبیر سنتے ہی بادشاہ خوش ہو گیا اور خوشنودی میں آ کر نجومی کو انعام و اکرام سے نوازا۔ غور کریں تو دونوں تعبیرات ایک ہی حقیقت کو بیان کر رہی تھیں، لیکن پیش کرنے کا انداز مختلف تھا۔ پہلی تعبیر میں خوف اور بدشگونی کا عنصر غالب تھا، جبکہ دوسری تعبیر نے وہی حقیقت مثبت اور حوصلہ افزا الفاظ میں بیان کی۔ نتیجتاً، ایک کو سزا ملی اور دوسرے کو انعام!
یہی اصول ہماری روزمرہ زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ، گفتگو کا سلیقہ اور رویے کی نرمی کسی تلخ حقیقت کو بھی قابل قبول بنا سکتی ہے، جب کہ سخت لہجہ اور ترش الفاظ خوشخبری کو بھی مایوسی میں بدل سکتے ہیں۔ افسوس! دین اور دنیا کے تمام علوم ہمیں خوش خلقی، نرمی، اور تحمل کی تعلیم دیتے ہیں، مگر ہم اپنی دنیاوی خواہشات کے پیچھے اتنے بھاگ رہے ہیں کہ خسارے کا احساس ہی کھو چکے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ” یعنی "بے شک انسان خسارے میں ہے۔” یہ خسارہ صرف دولت یا وقت کا نہیں، بلکہ اخلاقیات، صبر اور برداشت کے زوال کا بھی ہے۔
آج عدم برداشت کے مظاہر ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں، عدم رواداری کے لرزہ خیز واقعات آئے روز خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کرونا جیسی ہولناک وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، فضائی حادثات نے دل دہلا دیے، اور بے شمار المناک واقعات پیش آئے، مگر ان تمام آزمائشوں کے باوجود انسانی رویے نہ بدلے، لوگ آج بھی ضد، غصے، عدم برداشت اور سخت مزاجی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم غور کریں کہ کہیں ہم بھی اسی خسارے کا حصّہ تو نہیں بن رہے؟ ہمیں چاہیے کہ نرم گفتاری، خوش اخلاقی اور تحمل و بردباری کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنائیں، کیونکہ یہی وہ خوبیاں ہیں جو تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں، معاشرے میں امن قائم کرتی ہیں اور ہمیں حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔ کیا ہمارے معاشرتی زوال کا پیمانہ صرف یہی رہ گیا ہے کہ بدلحاظی کے مظاہر کی تشہیر کی جائے، گویا اخلاقی بگاڑ کے لیے ذات، قوم یا وراثت کی کوئی قید ہی نہ ہو؟ اور کیا الیکٹرانک میڈیا کے پاس اب صرف یہی "اہم” موضوعات رہ گئے ہیں کہ غیر سنجیدہ افراد کے معاشقے اور ان کے جارحانہ رویے عوام کے سامنے رکھے جائیں، جب کہ حقیقی مسائل پسِ پردہ چلے جائیں؟
کرونا وائرس کی تباہ کاریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں، مگر معاشی بحران پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، لیکن اس بات پر کوئی بحث نہیں کہ معاشی حالات کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امدادی پیکجز کا کیا بنا؟ وہ کن افراد تک پہنچے، کون ان سے محروم رہا، اور مستقبل میں کن کو ملنے کی امید ہے؟ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حکومتی نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ یہ سب سوالات وہ ہیں جن پر گفتگو کی جانی چاہیے، مگر افسوس کہ ایسے سنجیدہ معاملات پس پشت ڈال دیے گئے ہیں، اور نان ایشوز کو اس طرح اچھالا جا رہا ہے کہ جیسے یہی عوام کی اوّلین ترجیح ہوں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بااثر شخصیات اور ان کے اہل خانہ کے تحکمانہ لہجے اور غیر مہذب رویے ہمیشہ سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ ایسی بے شمار مثالیں تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں جہاں اقتدار اور طاقت کے نشے میں چُور افراد نے قانون کو پامال کیا، مگر انجام ہمیشہ کمزور کے حصّے میں آیا۔ جہاں لاقانونیت کھلے عام رقص کرتی ہیں، انصاف کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں، مگر آخر میں کچھ حاصل نہیں ہوتا!!!
ایسی کہانیاں ہر روز دہرائی جاتی ہیں، ہر بار کمزور ہی خسارے میں رہتا ہے، ہر بار انصاف کی کرسی خاموشی سے تماشہ دیکھتی رہتی ہے۔ افسوس! ہمارا میڈیا ان مسائل پر روشنی ڈالنے کے بجائے ایسے معمولی اور بے وقعت واقعات کو ہائی لائٹ کر رہا ہے، جو ہماری اجتماعی فکری گراوٹ کا آئینہ دار ہیں۔ آج کے اصل مسائل معاشی عدم استحکام، صحت کی بدحالی، انصاف کی عدم فراہمی اور اشرافیہ کے استحصالی ہتھکنڈے ہیں، مگر ہم ان سے نظریں چرا کر سطحی مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
کیا ہم نے اپنی ترجیحات کو مکمل طور پر بدل لیا ہے؟ کیا ہم نان ایشوز کو حقیقی مسائل پر فوقیت دینے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی تنزلی کا احساس بھی نہیں رہا؟ اگر ایسا ہی رہا تو ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہی دیکھ لیجیے کہ معصوم کلیوں کو مسلنے والے درندوں کے لیے کوئی عبرت ناک قانون آج تک نافذ نہ ہو سکا۔ ہر بار ایک اور معصوم و بے گناہ جان درندگی کا شکار بن جاتی ہے، مگر ہمارے نظامِ عدل کی بے حسی جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ انصاف کے ایوانوں میں گونجنے والی صدائیں صدا بصحرا ثابت ہوتی ہیں، اور معاشرہ ایک اور نوحہ لکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
اس پر مزید ظلم یہ کہ سوشل میڈیا نے بلیک میلنگ اور ذاتی عناد کے ہتھیار کو مزید زہر آلود کر دیا ہے۔ اب دشمنی نبھانے کا ایک نیا چلن عام ہو چکا ہے—عزّتوں کی سرِعام نیلامی! یہ زہر اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اگر اس کے سدّباب کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خاندانی اقدار، سماجی رشتے اور انسانی وقار سب کچھ داؤ پر لگ جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ تدارک کرے گا کون؟ یہ وہی دوہرا معیار ہے جو معاشرے میں عدم برداشت اور بے یقینی کو ہوا دے رہا ہے۔ عام آدمی قانون کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے، جب کہ بااثر افراد کے لیے ہر قید و بند بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی تضاد، یہی ناانصافی اور یہی دوہرا طرزِ عمل وہ زہر ہے جو رفتہ رفتہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ اس تباہی کی جڑ محض قانون کی کمزوری نہیں، بلکہ دین سے دوری ہے۔ جب تک ہمارے مسلم معاشرے کے قائدین و دانشوروں کے قول و فعل میں تضاد رہے گا، جب تک ان کی زندگیاں سیرتِ نبویؐ، قرآنی تعلیمات اور سیرتِ صحابہ کے مطابق نہیں ہوں گی، تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہم خسارے کی ایسی کھائی میں جا گرے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف اسی وقت نکلے گا جب ہم اپنی بنیادوں کی طرف لوٹیں گے، ورنہ آگے صرف بربادی ہے، اور کچھ نہیں!
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ انحطاط اور زوال کا شکار ہو چکا ہے، جہاں اخلاقی قدریں ماند پڑ چکی ہیں، عدل و انصاف کمزور ہو چکے ہیں، اور صبر و تحمل جیسے اوصاف ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن اس تاریکی میں روشنی کی کرن صرف اور صرف دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ”۔ (بے شک اللّٰہ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔) (سورۃ النحل: 90)۔ یہ آیت ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ اسلامی معاشرہ عدل، احسان، رواداری اور صلہ رحمی پر قائم ہوتا ہے، جب کہ بدتمیزی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
رسول اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپﷺ نے ہمیشہ صبر، بردباری، حلم، نرمی اور محبت کو فروغ دیا۔ دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا اور اپنے کردار سے دلوں کو جیتا۔ جب طائف کے مشرکین نے آپﷺ پر پتھر برسائے تو فرشتے نے پیشکش کی کہ اگر آپﷺ چاہیں تو ان بستیوں کو تباہ کر دیا جائے، مگر آپﷺ نے فرمایا: "مجھے امید ہے کہ اللّٰہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللّٰہ کی عبادت کریں گے اور شرک سے بچیں گے۔” (بخاری)۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جسے ہمیں اپنانے کی ضرورت ہے۔ سخت مزاجی، عدم برداشت اور انتقام کے جذبات چھوڑ کر ہمیں حلم، عفو، درگزر اور صبر کو اپنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک صالح اور مستحکم اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت، بے حسی، اور اخلاقی زوال کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ ہم وہ امت ہیں جسے رواداری، صبر، حلم اور اخوت کا درس دیا گیا، مگر آج ہمارے رویے ان تعلیمات سے یکسر مختلف ہو چکے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف سننے اور سنانے تک محدود ہو چکے ہیں، عمل کی دنیا سے کوسوں دور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنی اصلاح کریں، خود احتسابی کو اپنائیں، اور اپنی زندگیوں میں نرم گفتاری، خوش اخلاقی، اور رواداری کو شامل کریں۔ جب تک ہم اپنے اخلاق اور کردار کو بہتر نہیں بنائیں گے، نہ معاشرتی بگاڑ رُک سکتا ہے اور نہ ہی ملی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔
آئیے! ہم سب اپنی ذات سے اس تبدیلی کا آغاز کریں، اپنے رویوں میں برداشت اور نرمی پیدا کریں، انصاف اور عدل کو فروغ دیں، اور نبی اکرمﷺ کی سیرت کو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ اگر آج ہم نے اپنے کردار کی اصلاح نہ کی، تو کل ہمارے ہاتھ میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں ایک ناکام قوم کے طور پر یاد کرے گی! اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور ایک باوقار اور عادل معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(02.04.2025)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...