Skip to content
ظریفانہ: کنال کامرا کا چھوٹا فانٹا اوربِگ کولا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے پوچھا یار یہ بتاو کہ فی الحال ہندوستان میں سب سے بڑا جوکر کون ہے؟
کلن بولا کنال کامرا اور کون ؟ اس نے پوری حکومتِ مہاراشٹر کو ہلا رکھا ہے ۔ کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکا ۔
یہ بات تو صحیح ہے مگر میرے خیال میں اس سے بڑے جو کر اپنے یوگی ادیتیہ ناتھ ہیں؟
یار تم اپنے مستقبل کے وزیر اعظم کو جوکر بول کر ان کی توہین کررہے ہو ۔ تمہیں شرم آنی چاہیے۔
بھیا کیا کسی کو جوکر بولنا اس کی توہین ہے؟ اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو تمہیں اس انگریزی لفظ کا مطلب ہی نہیں معلوم ۔
کلن نے زچ ہوکر کہا ویسے تو جوکر کا مطلب ساری دنیا جانتی ہے پھر بھی تم ہی بتا دو کہ اس کا کیا مطلب ہے؟
للن نے سوال کے جواب میں سوال کردیا ،اچھا یہ بتاو کہ باربر کسے کہتے ہیں؟
ارے بھائی جو بال بنائے وہ باربر کہلاتا ہے تم پہیلیاں کیوں بھجوارہے ہو؟
ٹھیک کہا اسی طرح جو ’جوک‘ (لطیفہ ) بنائے وہ جوکر کہلاتا ہے۔ یہ تو ایک پیشہ ہے اس میں توہین کی کیا بات؟
سمجھ گیا ۔ ان میں سے ایک استرے سے حجامت بناتا ہے اور دوسرا الفاظ کی قینچی چلاتا ہے لیکن دونوں کا کام یکساں ہے۔
صحیح پکڑے۔ اسی لیے میں کہہ رہا تھا کنال کامرا کے ہزار لطیفوں پر اپنے یوگی جی کا ایک لطیفہ بھاری ہے ۔
کلن نے حیرت سے سوال کیا۔ اچھا! وہ کون سا ’جوک‘ ہے جس سے چھوٹا فانٹا نے کنال کامرا کو اٹھا کر پٹخ دیا؟
للن بولا یہی کہ سڑک نماز کے لیے نہیں ہے ،مسلمانوں کو ہندووں سے ڈسپلن سیکھنا چاہیے ۔
کیا بات کرتے ہو کلن ۔ یوگی جی نے تو اس بیچارے کو چاروں خانے چِت کردیا ۔ وہ اتنا بڑا ’جوک‘ کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا ۔
جی ہاں ہولی کھیلنے کے لیے سڑک سے اچھی کوئی اور جگہ نہیں ہےاس لیے مسلمانوں کوہولی کے دن گھر میں رہنے کی صلاح دی جاتی ہے۔
للن نے کہاجی ہاں یوگی جی بھول گئے کہ انہوں نے بھی ہولی کے دن مسلمانوں کو سڑک پر آنے سے منع کرنے کی تائید کی تھی۔
بھیا وہ تو خیر ایک غیر ذمہ دار پولیس والے کا بیان تھا مگر اترپردیش میں مساجد کو کیوں ڈھانپا گیا ۔ ان پر بھی تو سڑک سےہی رنگ پھینکا جاتا ہے۔
اورہاں ،کنال کیا جانے کہ سڑک تو کانوڑیا یاترا کے لیے ہوتی ہے ۔ ان کی خاطر راستوں کو بدل دیا جاتا ہے اور یہ ناٹک کئی دنوں تک چلتا ہے۔
تم نے صحیح کہا کلن ۔ یوگی جی ہیلی کاپٹر سے جن کانوڑیوں پر پھول برساتے ہیں ان کے کارناموں کی ویڈیوز بھی یو ٹیوب پر موجود ہے۔
للن بولا جی ہاں ان بدمعاشوں نے تو اہل خانہ سمیت اپنے سنگھ کے ایک رہنماکو سڑک پر پیٹ دیا تھا ۔ ان کا کچھ نہیں بگڑا۔
ارے بھائی شراب کے نشے میں دھُت ڈی جے پر جھومنے والے بدمعاشوں کی دہشت بہار سے لے کر اتراکھنڈ تک چھائی رہتی ہے ۔
میں تو کہتا ہوں اگر یوگی جی میں دم ہے تو وہ کانوڑیوں کی غنڈہ گردی کو روک کر دکھائیں ۔ ہم بھی ان کی پیٹھ تھپتھپائیں گے۔
بھیا وہ سارا ہنگامہ یوگی جیسے لوگوں کے آشیرواد سے ہوتا ہے۔ کمل کے بجائے اگر سائیکل چل جائے تو کانوڑیوں کی ہیکڑی ازخود نکل جائے گی۔
کلن بولا پھر بھی ان بیچاروں کا معاملہ تو لوٹ ماریا مارپیٹ تک محدود ہے مگر کمبھ میں تو ہماری ایسی بھد پٹی کہ ہندو سماج ساری دنیا میں بدنام ہوگیا۔
ہاں یار مجھے یاد ہے ایک نہیں تین تین مرتبہ شیو بھگتوں نے اپنے ساتھیوں کو پیروں تلے کچل دیا ۔ اس وقت ڈسپلن کہاں چلا گیا تھا ؟
بھیا اس پر تو یوگی جی کچھ بول ہی نہیں سکتے کیونکہ خود انہوں پردہ پوشی کے لیے لاشوں کو بلڈوزر سے گنگا میں ڈھکیل کر جل سمادھی دےدی تھی ۔
یہی تو میں کہتا ہوں کہ اگر نہیں بول سکتے تو خاموش رہیں ۔ سنگم تو سنگم دہلی اسٹیشن کی بھگدڑ میں کئی لوگ کچلے گئے کیا وہ ڈسپلن تھا؟
کلن نے کہا اپنے یوگی جی بھول گئے کہ شیش محل میں رہنے والے دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتے ۔
صحیح کہا کلن انہوں نے مسلمانوں کو یہ اپدیش دے کر میرے پرانے زخم کرید دئیے ۔
تمہارے زخم ؟ میں نہیں سمجھا ۔
تم تو کمبھ گئے نہیں ۔ میں ریزرویشن کروا کر گیا تھامگر اے سی ڈبے میں سارے بنا ٹکٹ لوگ گھس گئے۔
کلن نے پوچھا ارے تو تم لوگوں نے دروازہ کیوں کھولا ؟
اوہو وہ کھڑکی کا شیشہ توڑ کر گھس آئے ۔
اچھا تو پولیس کیا کررہی تھی ؟
وہ ہاتھ جوڑ کر سمجھا رہی تھی مگر کوئی شیو بھگت مان کر ہی نہیں دے رہا تھا ۔
کلن نے سوال کیا اچھا تو پھر کیا ہوا؟
بھیا وہ بھیڑ انجن ڈرائیور کے ڈبے میں بھی گھس گئی ۔ اب موٹرمین باہر اور بھیڑ اندر ٹرین چلے تو کیسے چلے؟ وہ بھی ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا رہا۔
ارے بھائی طول نہ دو یہ بتاو کہ بالآخر تمہاری ٹرین بغیر ڈرائیور کے پریاگ راج تک کیسے پہنچی؟ یہ چمتکار کیونکر ہوا؟
ارے کاہے کا چمتکار؟ مجبوراً پولیس نے لاٹھی چلا کر موٹرمین کا ڈبہ خالی کیا اور تب جاکر وہ بیچارہ اندر جاکرگاڑی چلا سکا۔
مطلب لاتوں کے بھوت کو باتوں کے بجائے جوتوں سے سمجھانا پڑا تب جاکر عقل ٹھکانے آئی ۔
للن نے کہا یار ہم لوگ دور نکل گئے ۔ اب یہ بتاو کہ کنال کامرا کی عقل کیسے ٹھکانے آئے گی؟
اوہو اس کی عقل تو ٹھکانے ہے بلکہ وہ آج کل سیاستدانوں کی عقل ٹھکانے لگا رہا ہے۔
ایک معمولی جوکر کی یہ مجال کہ اس کے آگے نائب وزیر اعلیٰ بے بس ہو ؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ کہیں یہ فڈنویس کی چال تو نہیں ؟
اندر کی بات تو مجھے نہیں معلوم لیکن بظاہر فڈنویس نے شندے کی حمایت کی ہے مگراپنے سیاستدانوں کا اندر اور باہر مختلف بھی ہوتا ہے۔
مجھے بھی یہی لگتا ہے کیونکہ فڈنویس کی مشہورِ زمانہ ممبئی پولیس آخر کنال کامرا جیسے جوکر کے سامنے بے بس کیوں ہے؟
کلن نے پھر سوال کے جواب میں سوال کیا یہ بتاو کہ کیا تم نے کبھی تاش کھیلا ہے ؟
ارے بھائی لوگ مجھے ’رمی کنگ‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے ۔ تم یہ کیا پوچھ رہے ہو؟
بہت خوب یہ بتاو کہ تاش کے کھیل میں بادشاہ اورجوکرمیں سے کون کس پر حاوی ہوتا ہے ؟ جوکر یا بادشاہ ؟
للن اس سوال پر چونک پڑا۔ وہ بولا ہاں یار وہاں تو بادشاہ کو بھی جوکر کاٹ دیتا ہے لیکن شندے اب بادشاہ نہیں ہے ۔
وہی تو ۔ شندے تو اب غلام ہے کیونکہ رانی کی جگہ اجیت پوار نے لے رکھی ہے اس لیے جوکر کے لیے بھلا کیا مشکل ہوسکتی ہے؟
اب سمجھا کہ جوکر اور ٹریٹر(غدار) کی لڑائی میں کنال کامرا کا پلڑا بھاری کیوں ہے؟
کلن بولا اس کی اور بھی وجہ ہے۔ شندے کے حامیوں نے کنال کامرا کے اسٹوڈیو کی توڑ پھوڑ کرکے اس کی مقبولیت اور بھی بڑھا دی۔
ارے بھائی اس کے تو پہلے ہی28 لاکھ سبسکرائبر ہیں اور 37 کروڈ مرتبہ اس کی ویڈیوز دیکھی جاچکی ہیں ۔ اس کو شندے کی کیا ضرورت؟
یہ صحیح ہے مگر اس تنازع نے کچھ گڑے مردے اکھاڑ دئیے جس سے بی جے پی کے بڑے رہنما ناراض ہیں ۔
کیا بکواس کرتے ہو ۔ فی الحال خود بی جے پی والے اورنگ زیب عالمگیر کی آڑ میں گڑے مردے اکھاڑ رہے ہیں ۔
وہ الگ مسئلہ ہے ۔ اس تنازع کے بعد لوگوں کو پتہ چلاکنال کامرا نے یوگی کوچھوٹا فانٹا کے لقب سے نواز رکھا ہے۔
للن نے کہا اچھا اس کی یہ مجال ؟ یوگی جی انکاونٹر بھی کروا سکتے ہیں ۔
بھیا کنال کامرا کسی سے نہیں ڈرتا۔ اس نے پردھان جی کوقاتل تک کہہ دیا تھا مگر وہ ساری دبی ہوئی باتیں شندے کی حماقت سے باہر آگئیں ۔
یار اگر کنال نے پردھان جی کی تک توہین کی ہے تب تو مجرموں کو قبر سے نکالنے کی دھمکی دینے والے فڈنویس کو اسے سبق سکھانا ہی چاہیے ۔
دیکھو بھائی آج کل فڈنویس نے قبر کا مقبرہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے ۔ اس لیے تم بھی اسے بھول جاو کیا سمجھے؟
للن بولا اچھا وہ تواورنگ زیب عالمگیر کی قبر اکھاڑنے کا ماحول بناکر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہا تھا ۔
جی ہاں مگر اب وہ ماضی کاقصۂ پارینہ ہے۔ آر ایس ایس نے اسے ڈانٹ کر منع کردیا ہے کہ زیادہ اچھلوگے تو وزیر اعلیٰ کی کرسی بھی سرکا دیں گے۔
ارے تب تو اپنا یہ’ بگ ِکولا‘ یعنی فڈنویس دھڑام سے زمین پر آجائے گا ۔ یار اپنے ہی آدمی کے پیٹھ میں ایسے چھرا گھونپنا ٹھیک نہیں ہے۔
بھیا اپنے لوگوں کا دماغ ٹھیک کرنے ذمہ داری بھی تو بڑوں پر ہی ہوتی ہے۔ اس لیے فڈنویس کی چوڑیا ں کسی گئیں تواس نے سپر ڈال دی۔
للن نے سوال کیا اچھا اب اپنا ’بِگ کولا ‘ کیا کہہ رہا ہے؟
اس کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرہ چونکہ آثار قدیمہ کا حصہ ہے اس لیے بہر صورت اس کی حفاظت کرنی پڑے گی ۔
یار مجھے تو لگتا ہےکنال سے تگڑا بلڈوزر سنگھ کاہے جس نے فڈنویس کے خوابوں کی قبر کھود دی ۔
جی ہاں اس طرح کانٹے سے کانٹا نکالنا مشیت کا زبردست انصاف ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...