سراب کے پیچھے، حقیقت سے دور
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•
"پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟” (القرآن – سورۃ غافر: 82)
تاریخ ان قوموں کے لیے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جو بصیرت کی آنکھ سے اسے دیکھتی ہیں اور اس سے سبق سیکھ کر اپنی راہوں کو سنوارتی ہیں۔ لیکن جو قومیں اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنے ہی ماضی کی تاریکی میں گم ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے ہمیشہ اتحاد، اخوت اور عدل و انصاف کو ہر حال میں قائم رکھنے کا درس دیا ہے۔ مگر جب مسلمان اپنی بنیادوں کو چھوڑ کر دنیاوی لالچ، ذاتی مفادات اور غیروں کی خوشنودی میں مصروف ہو جاتے ہیں، تو یہی غفلت ان کے زوال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ قرآنِ مجید بارہا ہمیں خبردار کرتا ہے کہ سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کرو، ورنہ وہی انجام تمہارا بھی ہوگا۔
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب مسلمان آپس میں برسرِ پیکار ہوئے اور اپنے ہی بھائیوں کے خلاف محاذ کھولے، تو دشمنوں نے ان کے اس انتشار کا فائدہ اٹھایا اور اسلام کی شمع کو بجھانے کی کوشش کی۔ مغلیہ سلطنت اس کی ایک واضح مثال ہے، جہاں اپنوں پر ستم اور غیروں پر کرم کی روش نے ایک شاندار حکومت کو گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اس سبق کو یاد کریں، اپنی سمت درست کریں اور اپنی اسلامی شناخت کو بچانے کے لیے بیدار ہوں۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا، اگر ہم نے اتحاد و یکجہتی کو پسِ پشت ڈال کر غیر مسلم طاقتوں کے مفادات کی تکمیل میں خود کو مصروف رکھا، تو وہی انجام ہمارا بھی ہوگا جو ماضی کی غافل قوموں کا ہوا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مغل بادشاہوں کی تلواریں ہمیشہ غیر مسلم حکمرانوں کے خلاف ہی بے نیام نہیں ہوئیں، بلکہ اکثر و بیشتر وہ اپنے ہی ہم مذہب مسلمان حکمرانوں کے خلاف صف آراء نظر آئے۔ بابر نے جب ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو اس کا پہلا معرکہ کسی غیر مسلم سلطنت سے نہیں بلکہ لودھی سلطنت کے افغان فرمانروا ابراہیم لودھی سے ہوا۔ پانی پت کے میدان میں بابر کی توپوں کی گرج نے لودھی سلطنت کے چراغ گل کر دیے اور مغلیہ اقتدار کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد ہمایوں کو شیر شاہ سوری جیسے جری اور مدبر افغان حکمران سے نبرد آزما ہونا پڑا، جس نے چند ہی برسوں میں مغلوں کو ہندوستان سے بے دخل کر کے اپنی حکمرانی قائم کر لی۔
اکبر، جو مغلوں میں سب سے زیادہ مدبر اور طاقتور حکمران سمجھا جاتا ہے، اس کے عہد میں بھی معرکے زیادہ تر مسلمانوں ہی کے خلاف دیکھنے میں آئے۔ اس نے مالوہ کے افغان فرمانروا باز بہادر کے خلاف اپنی فوجیں روانہ کیں، تو کبھی اودھ، بہار، بنگال اور گجرات کے مسلم حکمرانوں پر چڑھائی کی۔ مغلوں کے تلوار کی جھنکار کشمیر کی وادیوں میں بھی سنائی دی، جہاں کے مقامی مسلم حکمران مغلوں کے غضب کا نشانہ بنے، اور پھر افغانستان کے سرکش قبائل بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اورنگزیب، جو مغل سلطنت کا سب سے زیادہ دیندار اور شرعی احکام پر کاربند بادشاہ مانا جاتا ہے، اس کی زندگی کا ایک بڑا حصّہ دکن کی مسلم سلطنتوں کے خلاف جنگوں میں گزرا۔ گولکنڈہ اور بیجاپور کی اسلامی ریاستیں اس کی مہمات کا نشانہ بنیں، اور اس نے اپنی عمر کے چھبیس طویل برس انہی معرکوں میں کھپا دیے۔
یہ بھی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز پہلو ہے کہ مغل، جنہیں اکثر مذہبی رواداری اور برداشت کا داعی کہا جاتا ہے، انہوں نے ہندو ثقافت کو اپنانے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہ کی۔ شاہی محل کے اندر نہ صرف ہندو رانیوں کی موجودگی نے مغل خاندان کے طرزِ زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کے لیے خصوصی مندر بھی تعمیر کروائے گئے۔ اکبر سے لے کر اورنگزیب تک، مغل بادشاہوں نے ہندو شہزادیوں سے شادیاں رچانے میں کوئی تامل نہ کیا۔ حتیٰ کہ اورنگزیب، جو مغلوں میں سب سے زیادہ دین دار تصور کیا جاتا ہے، اس نے بھی ایک راجپوت رانی سے نکاح کیا اور اپنے بیٹے معظم کی شادی راجہ روپ سنگھ کی بیٹی سے بڑے اہتمام کے ساتھ طے کی۔
مغل حکمرانوں کی تاریخ محض عسکری فتوحات اور تخت کے حصول کی جدوجہد تک محدود نہیں بلکہ ان کے طرزِ حکمرانی، ان کے میل جول، ان کے رسم و رواج اور ان کی طرزِ زندگی میں ایک حیرت انگیز امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کے محلات میں جہاں اسلامی طرزِ تعمیر کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں، وہیں ہندو عقائد و رسوم کی بھی پرچھائیاں موجود ہیں۔ یہی وہ تضادات تھے جنہوں نے مغل تاریخ کو ایک منفرد مگر پیچیدہ رنگ عطاء کیا، جہاں ایک طرف طاقت و جلال کی داستانیں ہیں، تو دوسری طرف مصلحت، سیاسی حکمت عملی اور ثقافتی اثر و نفوذ کی کہانیاں۔
مغل بادشاہ، جو خود کو اسلام کے محافظ اور ہندوستان کے شہنشاہ گردانتے تھے، ان کی زندگی اور طرزِ حکمرانی میں ایک ایسا تضاد پنہاں تھا جس نے ان کے اسلامی اور اخلاقی تشخص پر گہرے سوالات اٹھائے۔ ایک طرف تو وہ میدانِ جنگ میں اپنے ہم مذہب مسلم حکمرانوں کے خلاف برسرِ پیکار نظر آتے، دوسری جانب وہ ہندو راجاؤں سے رشتہ داریوں کے بندھن میں بندھ کر، ان کے رسوم و رواج کو شاہی محلات میں جگہ دے کر، اور ان کے لیے عبادت گاہیں تعمیر کروا کر اپنی ہی مذہبی اساس کو دھندلا دیتے۔
مذہبِ اسلام میں جہاں عقیدے کی وضاحت اور اصولوں کی سختی موجود ہے، وہیں مغل بادشاہوں کا طرزِ عمل اس سے یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے غیر مسلم شہزادیوں سے نہ صرف شادیاں کیں، بلکہ ان کی مذہبی شناخت کو بھی برقرار رکھا۔ وہ شہزادیاں، جو مغل حرم میں آئیں، ان کی عبادت کے لیے شاہی محلات کے اندر ان کے معبد خانے تعمیر کیے گئے، جہاں دیپ جلائے جاتے، گھنٹیاں بجتی رہتیں اور ہندو دیوی دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی۔ یہ کیسا اسلامی اقتدار تھا، جہاں حکمران خود اپنے ہی مذہبی احکامات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسے طرزِ زندگی کو فروغ دے رہے تھے جو ان کے مذہب اور ان کی رعایا کی روایات سے متصادم تھا؟
مغل بادشاہوں نے ہمیشہ اپنی تلوار اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف اٹھائی۔ بابر سے لے کر اورنگزیب تک، ہر مغل بادشاہ نے اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے زیادہ تر جنگیں مسلم حکمرانوں سے لڑیں۔ لودھی سلطنت کے خاتمے سے لے کر دکن کی اسلامی ریاستوں کی تباہی تک، ہر معرکہ مغلوں کے اپنے ہی ہم مذہبوں کے خلاف ہوا۔ افغانستان کے قبائل ہوں یا کشمیر کے مسلم حکمران، سبھی مغل عسکری یلغار کی زد میں آئے۔ اس کے برعکس، ہندو راجاؤں اور سکھ سرداروں کے ساتھ مغلوں کے تعلقات میں ایک عجب نرم خوئی اور مصلحت پسندی نظر آتی ہے، جو کبھی راجپوتانہ کی شہزادیوں سے شادی کی صورت میں، تو کبھی سکھوں اور ہندوؤں کو دربار میں اعلیٰ مناصب دینے کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
مغلوں کا یہ طرزِ عمل کسی طور بھی ان کے حق میں مفید ثابت نہ ہوا۔ تاریخ نے گواہی دی کہ جن غیر مسلم طاقتوں کے قصیدے مغل درباروں میں پڑھے گئے، جنہیں عزّت و مرتبہ بخشا گیا، وہی طاقتیں آخرکار مغل سلطنت کے زوال کا پیش خیمہ بنیں۔ ہندو راجے، جنہیں مغلوں نے اپنی فوجوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا، آخرکار انہی کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ یہاں کے لوگوں نے وہی تربیت، وہی جنگی حکمتِ عملی اپنائی، جو کبھی مغل استادوں سے سیکھی تھی، اور بالآخر انہی کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
یہ تاریخ کا ایک حیران کن مگر عبرت انگیز باب ہے کہ مغلوں نے اپنی مصلحت پسندی اور غیر مسلموں کے ساتھ غیر معمولی مراسم کی جو عمارت کھڑی کی، وہی ان کے زوال کی بنیاد بن گئی۔ جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتے رہے، وہی ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہی مغلیہ سلطنت، جس کی بنیادیں کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں، دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ کے افق سے مٹ گئی، اور صرف عبرت کے اوراق میں رہ گئی۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی بھی بیرونی طاقتوں نے اپنی قوتِ شمشیر سے مغلوب نہیں کیا، بلکہ جب بھی انہیں زوال کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنوں کی تلوار کی زد میں آئے۔ اپنے ہی بھائیوں کے خلاف صف آراء ہونے کا وہ سلسلہ، جو صدیوں پہلے شروع ہوا تھا، آج بھی اسی شدت سے جاری ہے۔ مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ اپنی طاقت اپنے ہی ہم مذہبوں کو زیر کرنے میں صرف کی، اور اسی باہمی تصادم نے اسلامی قوت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
یہ تاریخ کا ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید سچ ہے کہ جب بھی مسلمان کسی غیر مسلم قوت کے مقابل ہوئے، وہ اپنے ایمانی جذبے، اپنے اتحاد اور اپنی جرات و بہادری کے سبب ناقابلِ تسخیر ثابت ہوئے۔ مگر جب انہوں نے اپنی ہی صفوں میں دراڑیں ڈالیں، اپنے ہی بھائیوں کے خلاف سازشیں کیں، اور اپنے ہی لوگوں کو محکوم بنانے کی کوشش کی، تب ہی وہ کمزور پڑے اور مغلوب ہوئے۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنے دشمنوں کی تلوار سے نہیں، بلکہ اپنوں کی غداری اور بے حسی کے باعث شکست سے دوچار ہوئے۔
آج بھی وہی تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ آج بھی مسلمان اپنے ہی لوگوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اپنے ہی بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھا رہے ہیں، اور غیر مسلم طاقتوں کی ایماء پر اپنے ہی خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ مذہبی روایات، اخوتِ اسلامی اور ملت کی سلامتی کو پسِ پشت ڈال کر محض ذاتی مفادات، اقتدار کی ہوس اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کا جو کھیل کبھی ماضی میں بادشاہوں کے درباروں میں کھیلا جاتا تھا، وہی آج بین الاقوامی سیاست کے ایوانوں میں جاری ہے۔ پہلے حکمران اپنی بادشاہت کے دوام کے لیے اپنوں کے خلاف جنگ آزما ہوتے تھے، اور آج یہی مقصد جدید اقتصادی اور سیاسی اداروں کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ دیگر قوتیں آج اسی کردار میں نظر آتی ہیں، جو کبھی ماضی میں غداروں اور سازشی عناصر نے ادا کیا تھا۔ مسلمان حکمران ان کے جال میں الجھ کر اپنی ہی قوم کے گلے پر معاشی غلامی کی تلوار رکھ رہے ہیں، اور اس طوقِ اسیری کو ترقی اور خوشحالی کا نام دے رہے ہیں۔
یہی وقت ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ سے سبق سیکھیں، اس باہمی انتشار کو ترک کریں، اور اپنی اصل قوت یعنی اتحاد، اخوت اور دینِ اسلام کی مضبوطی کی جانب واپس لوٹیں۔ ورنہ وہی تاریخ، جو ماضی میں ان کے زوال کی داستان لکھ چکی ہے، دوبارہ اپنے قلم سے ایک اور المناک باب تحریر کرے گی، اور اس بار شاید تلافی کا موقع بھی ہاتھ نہ آئے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج پوری قوم کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ قوم، جو کبھی اپنے اصولوں، اقدار اور مذہبی تشخص کی وجہ سے دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی تھی، آج اسے اس کے نظریاتی وجود سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس تباہی میں جہاں دیگر عناصر برابر کے شریک ہیں، وہیں میڈیا بھی اپنی ریٹنگ کی ہوس میں اندھا ہو کر اس قومی زوال کی رفتار کو مزید تیز کر رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ، جو کسی بھی معاشرے کی فکری تعمیر کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، آج مغربی اور ہندو ثقافت کی اندھی تقلید میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اکبری سوچ، جس کی بنیاد مذہبی و ثقافتی رواداری کے نام پر اسلامی تشخص کو مٹانے پر رکھی گئی تھی، آج اسی نظریے کو میڈیا کے ذریعے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر ہر سمت سے مشرکانہ ثقافت کی یلغار جاری ہے، جس کے نتیجے میں قوم کو غیر محسوس طریقے سے بیگانہ ثقافت میں دھکیلا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کی وہ شناخت، جس کی بنیاد دینِ اسلام پر استوار تھی، آج "ریلیجن فری” فارمولے کی نذر کی جا رہی ہے۔ مذہب کو ذاتی معاملہ بنا کر اسلامی اقدار کو زندگی کے ہر پہلو سے دھیرے دھیرے نکالنے کی مہم چل رہی ہے۔ گھروں سے لے کر تعلیمی اداروں تک، تفریحی مواد سے لے کر خبروں تک، ہر جگہ اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ایک بے چہرہ، بے رنگ اور بے شناخت معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے، جو نہ تو مکمل مشرقی ہے اور نہ ہی مغربی، بلکہ ایک ایسی بے سمت قوم کی صورت اختیار کر چکا ہے جو اپنی بنیادوں سے ہی ناآشنا ہو چکی ہے۔
جو لوگ اس غیر محسوس ثقافتی یلغار کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، جو لوگ اس نظریاتی انحطاط پر احتجاج کرتے ہیں، انہیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر فرسودہ خیالات کا حامل کہہ دیا جاتا ہے۔ گویا اپنی تہذیب و تمدن سے جڑے رہنا، اپنی روایات کا دفاع کرنا اور اپنی اسلامی اقدار پر فخر کرنا آج کے دور میں ایک جرم بن چکا ہے۔
یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے، جس کا ادراک اگر آج نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں اس قوم کی شناخت قصہ پارینہ بن جائے گی۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ محض ریٹنگ کی دوڑ میں اندھا نہ ہو، بلکہ اپنی قومی اور نظریاتی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے۔ کیونکہ اگر میڈیا نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ دن دور نہیں جب یہ قوم اپنی پہچان کھو کر ایک بے سمت ہجوم میں تبدیل ہو جائے گی، اور تاریخ میں اس کے زوال کو محض ایک عبرتناک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر قومیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں اور اپنی راہ کا تعین کرتی ہیں۔ مگر جب ایک قوم اپنی تاریخ سے منہ موڑ لیتی ہے، اپنی جڑوں سے کٹ جاتی ہے، اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے لگتی ہے، تو پھر وہی تاریکی اس کا مقدر بن جاتی ہے جو کبھی برباد قوموں کا نصیب بنی تھی۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کر لیں، اپنے مذہب، اپنی شناخت اور اپنے لوگوں کو پہچان لیں۔ ہم کب تک دوسروں کی تہذیب کے قصیدے پڑھتے رہیں گے؟ کب تک اپنوں پر ستم ڈھاتے اور غیروں پر کرم کی روش اپناتے رہیں گے؟ کیا تاریخ میں ہمارے لیے کوئی سبق نہیں؟ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ مغلیہ سلطنت، جس کی وسعتیں برصغیر کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تھیں، کیسے اپنی ہی غلطیوں کی بھینٹ چڑھ گئی؟
مغل بادشاہوں نے ایک صدی سے زائد عرصے تک اپنوں کے خلاف محاذ کھولے رکھے، مسلم حکمرانوں سے جنگیں لڑیں، اپنوں کی جڑیں کاٹیں، مگر انہی غیر مسلم طاقتوں کو نوازتے رہے، انہی کی تہذیب کو اپنے دربار میں جگہ دی، انہی کی خوشنودی کے لیے اپنی روایات کو پامال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب زوال کا وقت آیا تو یہی غیر مسلم قوتیں، جنہیں وہ اپنا سمجھتے رہے، انہی کے خاتمے کا باعث بن گئیں۔
اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں، اگر آج بھی اپنی تاریخ سے سبق نہ لیا، اگر آج بھی اپنی پہچان کو پسِ پشت ڈال کر غیروں کی خوشنودی کو مقصدِ حیات بنائے رکھا، تو پھر ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ ہم اسی کشمکش میں رہیں گے کہ نہ ہمیں اپنی اصل شناخت نصیب ہوگی اور نہ ہی وہ جنہیں ہم خوش کرنے میں مصروف ہیں، ہمیں قبول کریں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنی راہوں کا ازسرِ نو تعین کریں اور اس مغلیہ روش کو ترک کریں جس نے ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ ورنہ وہی انجام ہمارا بھی ہوگا، جو تاریخ میں ان قوموں کا ہوا جو اپنے اصل سے غافل ہو گئیں اور ہمیشہ کے لیے گمنامی میں ڈوب گئیں۔
اللّٰہ ربّ العزّت! ہمیں عقلِ سلیم عطاء فرمائے اور ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔ آمین!
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...