Skip to content
حکمت اور ہمت سے مسلمان حالات کا مقابلہ کریں
’یہ ’دشمنوں‘ سے کہہ دو میرا خدا بڑا ہے ‘
ازقلم:عبدالعزیز
اس وقت مرکز میں جو حکومت ہے وہ حقیقت میں مضبوط و مستحکم نہیں ہے بلکہ کمزوری کے ساتھ دو بیساکھیوں پر منحصر ہے۔ بی جے پی کی حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ جن سہاروں کے ذریعے وہ اقتدار کی کرسی تک پہنچتی ہے بالآخر انہی کو یا تو نیست و نابود کر دیتی ہے یا کمزور کرکے ان کو کسی لائق نہیں رکھتی۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی مدد سے شیو سینا کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اور ایکناتھ شندے کو عارضی طور پر ریاست کا وزیر اعلیٰ بنادیا اور جب بی جے پی تنہا حکومت سازی کے لائق ہوئی تو ایکناتھ شندے کو اس کی گدی سے ہٹا دیا۔ پہلے بی جے پی کے لیڈر دیویندر فرنویس ایکناتھ شندے کے پیچھے پیچھے چلتے تھے اب شندے کو فرنویس کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اگر وہ اس غلامی کو پسند نہیں کریں گے تو ان کو تھوڑا بہت جو اختیار حاصل ہے اس سے بھی انھیں ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اسی طرح کی حکمت عملی آج بی جے پی کے چانکیہ یا ان کے لیڈران نتیش کمار، چندرا بابو نائیڈو، چراغ پاسوان اور جینت سنگھ چودھری اپنانا چاہتے ہیں۔ انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ’’دسمبر 2025ء میں بہار کا ایک نیا وزیر اعلیٰ ہوگا۔ نتیش کمار ہر گز وزیر اعلیٰ نہیں ہوں گے۔ یہاں بھی مہاراشٹر کی سیاست دہرائی جائے گی۔ ‘‘
جہاں تک وقف ترمیمی بل کا معاملہ ہے ، بی جے پی اپنے دس سال کے عرصے میں بہت آسانی سے آناً فاناً دوسرے بلوں کی طرح لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس کراسکتی تھی لیکن اس وقت انتخابی نقطہ نظر سے اس کے لئے کوئی بہت زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوتا۔ اس وقت مذکورہ پارٹیوں کے چاروں لیڈروں کو جو مسلمانوں سے کسی نہ کسی سطح پر تعلق رکھتے تھے ان کو بے تعلق کرنے میں بی جے پی کامیاب ہوگئی۔ مسلمان چاروں لیڈروں کو اس وقت اپنے لئے سب سے بڑا دشمن سمجھنے پر مجبور ہیں۔ ان چاروں کے بغیر وقف ترمیمی بل کی منظوری ممکن نہیں تھی۔ بی جے پی ایک ایک کرکے اپنے ان چاروں بکروں کو آسانی سے قربان کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلا بکرا نتیش کمار ہیں جو سب سے پہلے قربان ہونے کے لئے از خود تیار ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹوں سے تو وہ بالکل ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان کی صحت بھی جواب دے چکی ہے اور ان کی دماغی حالت صحیح نہیں ہے۔ اگر نتیش کمار اس وقت نریندر مودی کے مخالف ہوتے تو جس طرح بیجو جنتا دل کے لیڈر نوین پٹنائک کے خلاف نریندر مودی میدان میں اتر کر آگئے تھے اور ان کی بیماری کی جانچ ڈاکٹروں سے کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے اسی طرح نتیش کمار کی دماغی بیماری کی جانچ کرانے کا ضرور مطالبہ کرتے۔ یہ تو ہے ان چار بکروں کا معاملہ جو ایک ایک کرکے قربان ہوں گے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ مسلمان وقف ترمیمی بل کے خلاف جب پُرزور مظاہرے اور احتجاج کر رہے تھے تو ہم نے اپنے مضامین میں جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا تھا کہ مسلم لیڈران کسی طرح نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کو اپنے پالے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس سلسلے میں ہم نے دو باتیں مزید لکھی تھیں۔ ایک بات تو یہ لکھی تھی کہ اگر یہ دونوں مسلمانوں کے حق میں نہیں آئے تو مسلمانوں کے سارے مظاہرے کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ دوسری بات یہ لکھی تھی کہ جس قدر مسلم لیڈران ان دونوں لیڈروں کو اپنے پالے میں لانے کی کوشش کریں گے اس سے کہیں زیادہ بی جے پی ان دونوں کو ہر طرح سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ بی جے پی کے پاس طاقت بھی ہے، دولت بھی ہے اور ڈر اور خوف دکھانے کا اختیار بھی ہے۔ ممکن ہے کہ مسلم لیڈروں نے اس قدر جدوجہد نہ کی ہو جس قدر جد و جہد کی ضرورت تھی۔ ان لیڈروں نے مسلمانوں کو وہ مقام و مرتبہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے جو نریندر مودی اور امیت شاہ کو دینے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان لوگوں نے دوربینی اور دور اندیشی کے بجائے جلد آنے والے فائدے کو ترجیح دی ہے۔
اب مسلمانوں کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے بلکہ اب ان چاروں بکروں کے خلاف اپنی پوری طاقت جھونک دینا ہے۔ سب سے پہلے بہار کی طرف دیکھنا ہے کہ بہار میں کسی طرح بھی نہ نتیش کی حکومت ہوسکے اور نہ بی جے پی ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہونے پائے۔ ایک دو پارٹیوں کے سوا اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کا حق ادا کیا ہے۔ اس میں ہندستان کے لئے خیر کا پہلو ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی خیر کا پہلو ہے۔ اپوزیشن نے اپنے سود و زیاں کو بالائے طاق رکھ کر وہی کیا جو ان کو کرنا چاہئے تھا۔ اب مسلمانوں کو سب سے پہلے ان اپوزیشن پارٹیوں کے ہر لیڈر سے ملاقات کرکے شکریہ ادا کرنا چاہئے اور ان کو امید دلانا چاہئے کہ جس طرح انھوں نے مسلمانوں کی لاج رکھی، ان کی مدد کی مسلمان بھی دل و جان سے مدد کریں گے۔ کوشش اس طرح کی ہونی چاہئے کہ بی جے پی کا وہ مقصد پورا نہ ہو جس سے پولرائزیشن ہو۔ ہندو مسلمان کی تقسیم ہو بلکہ کوشش یہ ہو کہ مسلمان اپنی جدوجہد میں ہندو بھائیوں کو اور اقلیتوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر اپنی جدو جہد جاری رکھیں تاکہ بی جے پی کو اکثریت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع ہاتھ نہ آئے۔
اسلام اور مخالفین اسلام سے بیک وقت رشتہ جوڑنے والے نام نہاد مسلمان:
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ المجادلہ کی آیت 22میں فرماتا ہے: ’’تم کبھی یہ نہ پاؤگے جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنھوں نے اللہ اور رسولؐ کی مخالفت (یعنی حق کی مخالفت) کی ہے خواہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ ‘‘
صاحب تفہیم القرآن نے اس آیت کی تشریح میں یہ لکھا ہے: ’’اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک بات اصولی ہے اور دوسری امر واقعی کا بیان۔ اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنانِ خدا و رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، بالکل اسی طرح جس طرح ایک آدمی کے دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت بیک وقت جمع نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ایسے لوگوں سے محبت کا رشتہ بھی جوڑ رکھا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں تو یہ غلط فہمی تمہیں ہرگز لاحق نہیں ہونی چاہئے کہ وہ شاید اپنی اس روش کے باوجود ایمان کے دعوے میں سچا ہوگا۔ اسی طرح جن لوگوں نے اسلام اور مخالفین اسلام سے بیک وقت رشتہ جوڑ رکھا ہے وہ خود بھی اپنی پوزیشن پہ اچھی طرح غور کرلیں کہ وہ فی الواقع کیا ہیں مومن ہیں یا منافق؟ اور فی الواقع کیا ہونا چاہتے ہیں۔ مومن بن کر رہنا چاہتے ہیں یا منافق۔ اگر ان کے اندر کچھ بھی راست بازی موجود ہے اور وہ کچھ بھی احساس اپنے اندر رکھتے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے منافقت انسا ن کیلئے ذلیل ترین رویہ ہے تو انھیں بیک وقت دو کشتی میں سوار ہونے کی کوشش چھوڑ دینی چاہئے۔ ایمان تو ان سے دو ٹوک فیصلہ چاہتا ہے۔ مومن رہنا چاہتے ہیں تو ہر اس رشتے اور تعلق کو قربان کردیں جو اسلام کے ساتھ ان کے تعلق سے متصادم ہوتا ہے۔ اسلام کے رشتے سے کسی اور رشتہ کو عزیز تر رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایمان کا جھوٹا دعویٰ چھوڑ دیں۔
جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں اور مسلم مخالف پارٹیوں سے بھی رشتہ رکھتے ہوں ان کے خلاف مسلمان ایسا لائحہ عمل مرتب کریں کہ یہ سب کے سب مسلم سوسائٹی میں نکو بن جائیں۔ ایسے لوگوں سے بول چال ، لین دین، ملنا جلنا بند کردیں یعنی قطع تعلق کرلینا چاہئے جب ہی وہ راندۂ درگاہ ہوں گے اور کسی لائق نہیں ہوں گے۔
مسلمانوں کو وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے سے نہ مایوس ہونا چاہئے، نہ متزلزل اور نہ مشتعل بلکہ ہمت اور حکمت سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ’’پس اگر وہ رو گردانی کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔‘‘ (سورہ توبہ، آیت: 129)
یعنی میری پناہ، میرا سہارا، میری قوت اور جمعیت میرا اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی اس عرش عظیم کا مالک اور خداوند ہے۔ تو جس کا بھروسہ اس عرش عظیم کے رب پر ہے اس کو دوسروں کی ناقدری اور بیزاری کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے!
اللہ تعالیٰ سخت سے سخت حالات میں بھی مسلمانوں کو دلاسہ دیتا ہے ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘۔
اس وقت دوسروں کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو گنانے یا تلاش کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ سخت سے سخت طریقے سے کرنا چاہئے اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور اپنے اخلاق اور مومنانہ کردار کو کسی طرح بھی داغ دار نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مومن سے جو وعدہ کرتا ہے وہ وعدہ دیر یا سویر پورا کرتا ہے۔ ’’بیشک اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ یعنی اس امر میں تو شک نہیں ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یا نہیں البتہ تردد اس امر میں ہے کہ آیا اس وعدے کے مصداق ہم بھی قرار پاتے ہیں یا نہیں۔ اس لئے اللہ کے نیک بندے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ اللہ ان کو اللہ کے وعدے کے مصداق بنادے اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرے۔
بہت ضروری ہے کہ وقف کی حفاظت کے معاملے میں ہم مسلمانوں سے ماضی میں جو کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں ان سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے اور یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو حق پرستی کی طرف راغب ہوجائیں۔ حق پرست سے ہی باطل پرست کی شکست ہوتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...