Skip to content
نریندرمودی کی اونچی دوکان اور پھیکا پکوان
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عام ہندوستانی کے پاس وقت گزاری کے لیے کرکٹ ، فلمیں اور سیاست کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ تینوں چیزیں اسے موبائل پر مل جاتی ہیں اس لیے وہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے ان سے ٹائم پاس کرتا رہتا ہے۔ ایک زمانے میں کرکٹ میچ پانچ دنوں تک چلتا تھا اور اس کے باوجود بلا نتیجہ ڈرا ہوجایا کرتا تھا فی الحال پانچ گھنٹوں کے اندر سب کچھ نمٹ جاتا ہے اور میچ ڈرا بھی نہیں ہوتا ۔ پرانے زمانے میں میچ ڈرا کرنے کی ضرورت دو وجوہات سے پیش آتی تھی۔ اول تومخالف ٹیم کا ہدف بہت زیادہ ہونے پر اور دوسرے اپنے بلے بازوں کے کم رن پر آوٹ ہوجانے کی صورت میں ۔ اس بار ایوان پارلیمان میں یہی ہوا۔ انڈیا محاذ کے کئی کھلاڑیوں نے مثلاً راہل گاندھی، اکھلیش یادو، ملک ارجن کھڑگے، مہوا موئترا ، کلیان بنرجی، اسدالدین اویسی اور عمران پرتاپ گڑھی وغیرہ نے اپنے زورِ خطابت سے رنوں کا ڈھیر لگادیا جبکہ بی جے پی کا کوئی بلہ باز پچ پر جم ہی نہیں پایا۔ عوام سے پوچھا جائے کہ ایوان میں راجناتھ سنگھ ، امیت شاہ،شیوراج سنگھ چوہان، کرن رجیجو اور بھوپندر یادو نے کیا کہا تو لوگ صرف ان کے راہل گاندھی پر اعتراض کا حوالہ دیں گے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ مودی کے علاوہ بی جے پی کے کسی رہنما نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟عالم یہ تھا کہ؎
سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں
سکوت کے اس پرہول سناٹے میں ٹیم کوہار سے بچاکر میچ ڈرا کرنے کا سارا بوجھ وزیر اعظم کے کمزور کندھوں پر آگیا اور اس عمر میں وہ بیچارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ لیکن قتیل شفائی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے سچ تو بول ہی سکتے تھے لیکن ان سے یہ نہیں ہو سکا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹسٹ میچ کے انداز میں لمبی پاری کھیل کر میچ کو ڈرا تو کردیا مگر اس دوران نہ صرف ایوان پارلیمان بیٹھے شائقین بور ہوتے رہے بلکہ موبائل اور ٹیلی ویژن پر انہیں دیکھنے والے بھگت بھی اوب گئے۔ ایک تھکے ماندے کھلاڑی کو دھیمے دھیمے پانی پی پی کر کئی گیندوں کے بعد ایک دو رن لیتے ہوئے دیکھنا اور اس پر تالی بجانا کیسا عذابِ جان ہے اس کا نظارہ ایوان پارلیمان کے اندر اور باہر وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کے دوران ہوا۔ وہ بے تکان بولے جا رہے تھے اور سننے والوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا بریک فیل ہوگیا ہے۔ اب اس بس کو روکنے کے لیے اسے کسی پیڑ یا دیوار سے ٹکرانا ضروری ہے ورنہ وہ اپنے بے بس مسافروں سمیت کسی گہری کھائی میں جاکر گرجائےگی ۔
وزیر اعظم کی دھیمی آنچ ( سلو موشن میں) پر طول طویل خطاب کو دیکھ کر سنیل گاوسکر کی یاد آگئی۔ وہ ٹسٹ میچ کے بہت اچھے کھلاڑی تھے ۔ سب سے زیادہ سنچری بنانے کا ریکارڈ ان کے نام تھا مگر جب ون ڈے کا زمانہ آیا تو ان کا پچ پر ٹکنا ہندوستانی ٹیم کی شکست کا پروانہ بن جاتا تھا ۔ اس لیے کہ وہاں دھڑا دھڑرن بنانے کی ضرورت ہوتی تھی اور وہ دھیمے دھیمے کھیل کر اپنی ٹیم کو ہروا دیتے تھے ۔ آگے چل کر ایک ایسا زمانہ بھی آیا کہ جب گواسکر کے مداح و دیگر شائقین ان کے آوٹ ہونے کی دعا کرتے تھے ۔ وزیر اعظم کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مودی بھگتوں کو اتنا بور کردیاہے کہ اب وہ آوٹ ہونے کے بجائے سبکدوشی کی آرزو کرنے لگے ہیں ۔سنگھ پریوار چاہتا ہے کہ بڑے میاں جلد ازجلد اپنا جھولا اٹھا کر ’مارگ درشک منڈل‘ میں چلے جائیں ورنہ ان کی ٹیم کا فائنل جیتنا تو دور ٹورنامنٹ میں کوالیفائی کرنا مشکل ہوجائے گا۔
سچ تو یہ ہے کہ مودی کے ریٹائرمنٹ سے بی جے پی کو جہاں خوشی ہوگی وہیں کانگریس کو افسوس ہوگا ۔ اس لیے کہ اگر مودی نہیں رہیں گے تو ایوان پارلیمان میں کانگریس اور راہل گاندھی پر اتنا وقت کون صرف کرے گا ؟ مثل مشہور ہے ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟‘اس کی مصداق وزیر اعظم نے اپنے اولین دشمن کا خوب ذکر شر کہہ کر اسے پھر سے موضوعِ بحث بنا دیا۔ اس دور میں جہاں جھوٹ بولنا بہت آسان ہے وہیں اس کا پول کھولنا بھی نہایت سہل ہے۔ ایک بیدار ذہن انسان ازخود گوگل کی مدد سے حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اوردیگر لوگ بھی ویڈیو و ریل بناکر اس کی سہولت فراہم کردیتے ہیں۔ مودی جیسے لوگوں کی باتوں پر یہ ضرورت اس لیے بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ سچ کے بازار میں جھوٹ بیچتے ہیں ۔ اس کے برعکس حزب اختلاف کی تقاریر کا معاملہ قتل شفائی کے اس شعر کی مصداق ہے؎
کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں
وزیر اعظم کو اپنے اختتامی خطاب میں دوکام کرنے تھے ۔ اول تو اس صدارتی خطبے پر شکریہ ادا کرنا جو ان کے ایماء پر صدر مملکت نے پڑھ کر سنایا تھا اور دوسرے حزب اختلاف کے اعتراضات کا جواب دینا ۔ راہل گاندھی کی تقریر نے موصوف کواتنا پریشان کردیا کہ وہ اپنی دونوں ذمہ داریاں بھول گئے ۔ ان کو یہ احساس بھی نہیں رہا کہ ایوانِ پارلیمان انتخابی تقریر کرنےکامقام نہیں ہے۔ ان سے دوسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے راہل کی تقریر سے ان باتوں کو حذف کروادیاجوان کے خیال میں متنازع تھیں ۔ وہ چیزیں اگر پارلیمانی کارروائی میں موجود ہوتیں تو ان کے جواب کا جواز بھی موجود ہوتا مگر اسپیکر کی مدد سے راہل گاندھی کی تقریر میں سے ، ہندوقوم، آر ایس ایس ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور اڈانی و امبانی پر تنقید کی ساری باتیں حذف کروانے کے بعد اس پر تنقید کرنا بے معنیٰ مشق تھی ۔ حذف شدہ باتوں پر تبصرہ کرکے مودی نے بلاوجہ اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کیا ۔ اس معاملے وزیر اعظم نے جلد بازی کرکے اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی۔ یہ عمر کا تقاضہ ہے کیونکہ ایک خاص وقت کے بعد دماغ کام نہیں کرتا۔
ایوانِ پارلیمان میں راہل گاندھی کا تجربہ نریندرمودی سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کئی معاملات میں وزیر اعظم پر سبقت حاصل کرلی ہے۔ اول تو وہ اترپردیش سمیت کیرالہ سے مودی کی بہ نسبت دوگنا ووٹ کے فرق سے کامیاب ہوکر ایوان پارلیمان میں گئے ہیں۔ اس بار پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی کے ارکان کی تعداد تقریباًدوگنا ہوئی ہے جبکہ مودی کی بی جے پی کے ارکان بیس فیصد کم ہوئے ہیں۔ سوشیل میڈیا سے لے کر گودی میڈیا تک میں راہل گاندھی کی مقبولیت کے اندر غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور وہ نریندر مودی سے بہت آگے نکل چکے ہیں ۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا راہل گاندھی کے خطاب کو بچکانہ قرار دینا حزب اختلاف کے رہنما کی توہین ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایوان میں کہہ دے کہ وزیر اعظم بڑھاپے کے سبب سٹھیا گئے ہیں ۔ درازیٔ عمر کی آڑ میں دوسروں تضحیک کرنا ظلم ہے۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حزب اختلاف کے رہنما کی حیثیت کابینی وزیر کے برابر ہوتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ کہنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ راہل گاندھی اپنے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی کا حق ہے کہ وہ کس کواس عہدے پر فائز کرے ۔یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ اپنی پارٹی کے پارلیمانی ارکان کا اجلاس بلاکر اس میں اپنی قیادت کی توثیق کروانے سے ڈرنے والا (کہ کہیں نیتن گڈکری کا نام نہ آجائے) دوسروں کی اہلیت پرانگشت نمائی کررہا ہے ۔ وزیر اعظم کو ایوان پارلیمان میں دس سال گزارنے کے بعد بھی یہ نہیں پتہ چلا کہ وہاں لفظِ جھوٹ کا استعمال ممنوع ہے۔ انہوں نے تقریباً چالیس بار اس لفظ کو مختلف انداز میں استعمال کیا جبکہ ان کے مخالفین خودانہیں جھوٹوں کا سردار کہہ کر پکارتے ہیں ۔ اس لیے وزیر اعظم کی تقریر میں سے اس غیر پارلیمانی لفظ کو حذف کیا جانا چاہیے۔ مودی نے اپنے خطاب میں راہل گاندھی کی باتوں کوایک طرف تو بچکانہ کہا اور پھر ان کو سنجیدگی سے لے کر اس پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ وہ بول گئے کہ پختہ کارلوگ بچکانہ باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔
وزیر اعظم کی مذکورہ بالا گیدڑ بھپکی کو سنجیدگی سے لے کر اگر کہیں اوم برلا نے راہل گاندھی سے رکنیت چھین لی تو مودی کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔ ویسے بھی سی ایس ڈی ایس سروے کے مطابق مودی کی کرم بھومی اترپردیش میں 36فیصد لوگ راہل گاندھی کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ مودی کو اس عہدے پر دیکھنے کے خواہشمند صرف 32 فیصد رہ گئے ہیں ۔ راہل پر کارروائی ان کی مقبولیت میں بے شمار اضافہ کردے گی ۔ مودی اور راہل کے خطاب کا مہورت دیکھیں تو وزیر اعظم کی تقریر سے عین پہلے ہاتھرس کے حادثے میں ڈیڑھ سو لوگ لقمۂ اجل بن گئے اور ملک بھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ اس کے برعکس اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے راہل گاندھی کے خطاب سے پہلے 17؍ سال کے بعد ہندوستانی ٹیم عالمی تمغہ جیت گئی اور عوام کے اندر خوشی و انبساط کی ایک لہر چل گئی ۔ فی زمانہ اپنا فرضِ منصبی ادا کرتےہوئے حق گوئی کا حق ادا کرنے والوں پر یہ شعر صادق آتاہے ؎
ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنام عظمت کردار آؤ سچ بولیں
Like this:
Like Loading...