Skip to content
بھارتیہ جنتا پارٹی کی وقف ترمیمی آرڈیننس کے حق میں مہم: جھوٹ پر جھوٹ
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
وقف ترمیمی بل کو لے کر ملک میں ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس قانون کو شفافیت، احتساب اور وقف املاک کے مؤثر انتظام کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیمیں اسے مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق پر ایک کھلا حملہ قرار دے رہی ہیں۔ بل اب پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے اور قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے وقف بورڈز میں مالی بدعنوانی اور غیر شفافیت کا خاتمہ ممکن ہوگا، لیکن مسلمان اسے وقف زمینوں پر قبضے کی منظم کوشش سمجھتے ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان اور دیگر رہنما مسلسل یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس قانون سے نہ صرف وقف نظام بہتر ہوگا بلکہ خواتین اور دیگر محروم طبقات کو بھی نمائندگی حاصل ہوگی۔ اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک سات رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو مختلف ریاستوں میں مسلم علما اور مسلمانوں کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات کو سننے اور دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ اس قانون کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر بے اثر بنایا جا سکے۔
زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس قانون کے خلاف زبردست ملک گیر مہم شروع کر دی ہے، اور بنگال و کیرالا سمیت کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ قانون وقف املاک پر سرکاری قبضے کی راہ ہموار کرے گا اور مسلمانوں کے دینی و شرعی نظم میں براہِ راست مداخلت کا ذریعہ بنے گا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ غیر مسلم افراد اسلامی وقف کے متولی یا بورڈ کے رکن کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ سراسر مذہبی معاملات میں مداخلت ہے۔ حکومت اس قانون کے ذریعے وقف اداروں کی خودمختاری چھین کر انہیں اپنے کنٹرول میں لانا چاہتی ہے، جو کہ نہ صرف مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ دستور ہند کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ بورڈ کی قیادت میں علما، وکلا اور سماجی کارکنوں پر مشتمل ایک منظم مہم جاری ہے، جس کے تحت میٹنگیں، خطاباتِ جمعہ، پریس کانفرنسیں اور عوامی اجتماعات ہو رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو قانون کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور آئینی و جمہوری طریقے سے احتجاج کو فروغ دیا جا سکے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں پرامن احتجاجات کو روکنے کے لیے ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ کہیں دھرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، کہیں مظاہرین کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اور کہیں مقامی انتظامیہ دباؤ ڈال کر عوامی اجتماعات کو روکا جا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون آئین کی دفعات 25 اور 26 کی صریح خلاف ورزی ہے اور مذہبی و ادارہ جاتی آزادی میں کھلی مداخلت ہے۔ اب یہ مسئلہ عدالتِ عظمیٰ کے دروازے پر ہے، اور ملک بھر کے انصاف پسند حلقے اس بات کے منتظر ہیں کہ سپریم کورٹ اس حساس معاملے پر کیا فیصلہ سناتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ قانون ایک کسوٹی بن چکا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق اور جذبات کا کتنا احترام کرتی ہے۔ مسلمانوں کو عدالت سے فوری اور مؤثر انصاف کی اُمید ہے، کیونکہ یہ قانون مذہبی آزادی اور دستور ہند دونوں کی روح کے منافی ہے۔
Like this:
Like Loading...